چیونٹیوں کی قطار اور انسانوں کا بے ضبط معاشرہ. محمد عابد رشید
ذرا چیونٹیوں کو غور سے دیکھیے۔ ایک لمبی قطار میں چلتی ہوئی یہ ننھی سی مخلوق نہ شور کرتی ہے، نہ ایک دوسرے کو دھکے دیتی ہے، نہ اپنی باری سے آگے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے، مگر پھر بھی وہ اپنی قطار نہیں توڑتیں۔ ہر چیونٹی اپنے راستے پر نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور یوں ایک چھوٹی سی مخلوق ہمیں زندگی کا بڑا سبق دے جاتی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج ہم انسان، جنہیں اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور اور سمجھ عطا فرمائی ہے، ہم میں نظم و ضبط کہاں رہ گیا ہے؟ سڑکوں پر ٹریفک کا حال دیکھ لیں، قطار میں کھڑے ہونے کا معاملہ دیکھ لیں، بازاروں میں اپنی باری کا انتظار دیکھ لیں یا روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی بات کر لیں۔ اکثر جگہ ہمیں جلدی، بے صبری، بدتمیزی اور دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش ہی نظر آتی ہے۔ ہم چند لمحے بچانے کے لیے قطار توڑ دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے اس عمل سے کسی دوسرے کا حق متاثر ہو رہا ہے۔ ہم اپنی سہولت کو ترجیح دیتے ہیں، مگر اجتماعی نظم و ضبط کو بھول جاتے ہیں۔
چیونٹی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رفتار کم ہو تو کوئی حرج نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ راستہ درست ہو، نظم قائم رہے اور دوسروں کے حق کا خیال رکھا جائے۔ اگر ایک ننھی سی چیونٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ نظم و ضبط قائم رکھ سکتی ہے تو ہم اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ آج ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی عادات درست کر لیں، اپنی باری کا انتظار کریں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارا معاشرہ بہت بہتر ہو سکتا ہے۔
چیونٹی چھوٹی ضرور ہے، مگر اس کا سبق بہت بڑا ہے؛
رفتار نہیں، نظم و ضبط انسان کو منزل تک پہنچاتا ہے
Undisciplined Human Society
عنوان: “مشکلات کا حسن”. کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، لوگ کیسے کہہ دیتے ہیں . : ثمرین بی بی
غریب کی رات، بجلی کے بغیر. بتول فاطمہ




