عنوان: “مشکلات کا حسن”. کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، لوگ کیسے کہہ دیتے ہیں . : ثمرین بی بی
کاش ہماری زندگی بھی آسان ہوتی۔ اس میں مشکلات نہ ہوتیں، دکھ نہ ہوتے، تکلیف نہ ہوتی۔ ہم خوشی سے زندگی گزارتے۔
پھر میں سوچتی ہوں… وہ زندگی ہی کیا جس میں مشکل نہ ہو؟
اگر زندگی آسان ہوتی تو ہم اسی میں مگن رہتے۔
ہمیں کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ مشکلات پر صبر کرنا کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔
ہارنے کے بعد بھی ایک امید رکھ کر پھر سے اٹھنا کیا ہوتا ہے۔
دعاؤں پر یقین کیا ہوتا ہے۔ لگن کیا ہوتی ہے۔
میری زندگی میں بہت سی مشکلات آئیں ہیں۔ مجھے نہیں یاد کب سے… شاید جب سے میں نے ہوش سنبھالا تب سے۔
شروع میں اللہ پاک سے بہت شکوے کرتی تھی۔ سوچتی تھی اللہ مجھ سے ناراض ہیں، تبھی میری زندگی میں اتنے دکھ اور مشکلات ہیں۔
لیکن پھر میری یہ سوچ بدل گئی۔
زندگی میں کچھ ایسے قیمتی اساتذہ ملے جنہوں نے سوچ کا انداز بدل دیا۔
اور پھر مجھے سمجھ آیا…
اگر زندگی آسان ہوتی تو مجھے کیسے پتہ چلتا کہ مشکلات پر صبر کرنا کیا ہوتا ہے؟
اگر زندگی آسان ہوتی تو یہ کیسے پتہ چلتا کہ سب اپنے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ ہمارے گرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، اور ہمیں وہاں سے توڑتے ہیں جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا۔
اور اگر زندگی آسان ہوتی تو ہمیں یہ پتہ نہ چلتا کہ ہم جتنی بار بھی ہارتے ہیں، ہماری جیت اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہے۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو آنکھیں میری نم نہیں ہوتیں میں شکوے نہیں، شکر ادا کرتی ہوں۔
شکر کرتی ہوں ان زخموں کا جنہوں نے مجھے مضبوط بنایا۔
شکر کرتی ہوں ان لوگوں کا جنہوں نے چھوڑ دیا، کیونکہ انہوں نے مجھے خود سے ملایا۔ شکر کرتی ہوں ان راتوں کا جنھوں نے مجھے دعا کرنا سکھایا
اور سب سے بڑا شکر اللہ کا، جس نے مشکل کے ہر موڑ پر میرا ہاتھ نہیں چھوڑا۔
کیونکہ سچ تو یہ ہے… کانٹوں کے بغیر پھول کی خوشبو کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
مشکلات کے بعد ملنا والا جو نور ہے میرے لیے وہ خوبصورت ہے کیونکہ انھیں مشکلات سے مجھے اپنے اندر چھپی طاقت کا پتہ چلا اگر مجھے اس طاقت کا پتہ نا چلتا تو میں تو جان ہی نا پاتی کے میں اکیلی بھی دنیا کا مقابلہ کر سکتی ہوں ہر زخم نے مجھے نئی طاقت دی ہے ہر چوٹ نے مجھے اور مضبوط کیا ہے اب مجھے سمجھ آتا ہے ان سب کے پیچھے اللّٰہ پاک کی حکمت تھی جو اللّٰہ پاک نے دروازے بند کیے تھے اس لیے کیے تھے تاکے میرے لیے بہتر دروازے کھول سکے ۔جو بھی لیا اس سے بہتر عطا کرنے کے لیے لیا بہت مضبوط بنا جاتی ہیں مشکلات کے انھی میں جینے کی عادت بن جاتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کے شکوے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔
اگر آج مجھے کوئی اپنی مشکل بتاتا ہے تو میں اسے سمجھا سکتی ہوں کیونکہ میں اس درد سے گزری ہوں اور گزر بھی رہی ہوں اب اس درد سے بہت سکون ملتا ہے میں سوچتی ہوں شاید اللّٰہ نے مجھے مشکلات دیں تاکے میں کسی ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا بن سکوں ۔
میری کہانی کسی کے لیے امید بن جائے بس یہی کافی ہے ۔
مشکلات نے مجھے سونا نہیں بنایا ۔۔۔۔۔۔
مشکلات نے مجھے کندن بنا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کندن آگ میں ہی تپ کر نکھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
از قلم : ثمرین بی بی
غریب کی رات، بجلی کے بغیر. بتول فاطمہ
“روح کی روشنی. مرشد کامل ،جناب الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ” گانچھے . آمینہ یونس ،بلتستانی
Beauty of Challenges




