غریب کی رات، بجلی کے بغیر. بتول فاطمہ
رات کا وقت مزدور کے لیے آرام کا وقت ہوتا ہے۔ وہ سارا دن محنت کرتا ہے، دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، اپنے بچوں کے لیے رزق کماتا ہے اور شام کو تھکا ہارا گھر واپس آتا ہے۔ اس کے لیے رات کی نیند صرف آرام نہیں بلکہ اگلے دن دوبارہ محنت کرنے کی طاقت بھی ہے۔ مگر جب آدھی رات کو بجلی چلی جاتی ہے تو اس کا یہ معمولی سا سکون بھی ختم ہو جاتا ہے۔
ذرا ان گھروں کا سوچیں جہاں نہ سولر ہے، نہ یو پی ایس، نہ جنریٹر اور نہ ہی کوئی ایسا ذریعہ جس سے بجلی جانے کے بعد گرمی سے بچا جا سکے۔ چھوٹے چھوٹے بچے گرمی سے تڑپتے ہیں، پسینے سے کپڑے بھیگ جاتے ہیں، مائیں بچوں کو ہاتھ کے پنکھے جھلتی رہتی ہیں اور بزرگ پوری رات بے آرامی میں گزار دیتے ہیں۔ جس مزدور نے صبح سویرے اٹھ کر کام پر جانا ہے، وہ بھی کئی گھنٹے جاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ سوال صرف بجلی جانے کا نہیں، انسانی ضرورت کا ہے۔
ایک مزدور سارا دن دوسروں کے گھر، دکانیں، عمارتیں اور سڑکیں بنانے میں اپنا خون پسینہ لگا دیتا ہے۔ وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے، بجلی کا بل دیتا ہے اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کی کمی کا سب سے زیادہ بوجھ اسی کے گھر پر کیوں پڑتا ہے؟
جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں، وہ بجلی جانے کی صورت میں سولر، یو پی ایس یا جنریٹر استعمال کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے چند گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شاید اتنی بڑی مشکل نہ ہو، لیکن ایک غریب گھر کے لیے یہی چند گھنٹے بچوں کی بے چینی، بیمار بزرگ کی تکلیف اور مزدور کی نیند چھین لیتے ہیں۔
کیا بجلی کی تقسیم کا نظام بناتے وقت یہ نہیں سوچا جا سکتا کہ جن علاقوں میں لوگ متبادل سہولت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہاں خاص طور پر ہروقت لوڈشیڈنگ کم سے کم کی جائے؟ کیا یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ کون سا طبقہ پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے؟
غریب انسان کسی سے عیش و آرام نہیں مانگتا۔ وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ دن بھر کی محنت کے بعد رات کو اسکون سے سو سکے۔ اس کی خواہش نہ بڑی ہے، نہ ناممکن۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سہولت صرف اس شخص کا حق نہیں جس کے پاس اسے خریدنے کے وسائل موجود ہیں۔ جس کے پاس کم ہے، اسے بھی سکون، آرام اور بنیادی سہولتوں کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کسی صاحبِ حیثیت انسان کو۔
بجلی سے روشنی اور ہوا ہر گھر تک پہنچنی چاہیے، مگر اس سے پہلے یہ احساس پہنچنا چاہیے کہ غریب کی نیند بھی قیمتی ہے۔
“روح کی روشنی. مرشد کامل ،جناب الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ” گانچھے . آمینہ یونس ،بلتستانی
شگر ویمن ڈگری کالج میں رواں سال کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ، والدین سے بچیوں کے داخلوں کی اپیل
struggle of Darkness and Hardship




