“روح کی روشنی. مرشد کامل ،جناب الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ” گانچھے . آمینہ یونس ،بلتستانی
مجھ سے پوچھا بساطِ دل کا، کہا جواباً گدائے مرشد
یہی ہے میرا کل اثاثہ، نگاہِ مرشد
تصوف کی گلشن کے مشعل بردار، سلسلۂ نوربخشیہ کے روحانی پیشوا، ہزاروں لوگوں کے جسمانی و روحانی طبیب، میرے مرشدِ گرامی جناب الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ رسمی تعلیم سے زیادہ وابستگی نہ ہونے کے باوجود علم و معرفت میں بلند مقام رکھتے تھے۔ طب میں بھی ایسی بصیرت رکھتے تھے کہ بڑے بڑے ڈاکٹر ان کی تجویز کردہ ادویات دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ قریبی مخلص لوگ کبھی کبھی اس خوف سے جھجکتے کہ کہیں بوا کی تجویز کردہ دوا غلط نہ ہو، مگر جب مریض کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے پاس جاتا تو وہ بھی اکثر وہی دوا تجویز کرتا۔ آپ 1953ء میں خپلو، ضلع گانچھے کے ایک دینی گھرانے میں طلوع ہوئے۔ کون جانتا تھا کہ اس ننھے چراغ کی روشنی آگے چل کر ہزاروں دلوں کو منور کرے گی۔ روایت ہے کہ آپ نے کم عمری، تقریباً پانچ سال کی عمر ہی سے اعتکاف اور عبادت کا ذوق اختیار کر لیا تھا۔ جوانی میں پاک فوج میں بھی ملک و قوم کی خدمت کی اور ساتھ ہی اپنا روحانی سفر جاری رکھا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے باقاعدہ اصلاح و تزکیۂ نفس کا مشن شروع کیا تو لوگ جوق در جوق آپ کے قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ آپ کے دروازے پر کسی مسلک، فرقے یا طبقے کی تفریق نہ تھی؛ جس دل میں تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی کی طلب ہوتی، اس کے لیے آپ کا در کھلا رہتا۔ آپ کا دسترخوان بھی ہر خاص و عام کے لیے بچھا رہتا۔ آپ صرف ظاہری حالات نہیں دیکھتے تھے بلکہ دلوں کی کیفیت کو بھی پہچان لیتے تھے۔ مرشدِ کامل، رہبرِ شریعت، رہنمائے طریقت، مرجع السالکین، اتحادِ بین المسلمین کے داعی اور عشقِ الٰہی کے پیکر کی حیثیت سے آپ نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو ذکرِ الٰہی، توبہ اور اصلاحِ نفس سے جوڑا۔ ہر خاص و عام آپ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنی روحانی پیاس بجھانے کی کوشش کرتا اور بہت سے بیمار بھی آپ کی دعا اور توجہ سے شفا کی امید پاتے۔ آپ کی بصیرت کا ایک واقعہ آج بھی میرے دل میں نقش ہے۔ ایک مرتبہ میں اپنے بھانجے کو آپ کے پاس لے گئی۔ میں انتظار کرتی رہی کہ آپ دوسرے مریضوں سے فارغ ہو کر میرے بھانجے کو دیکھیں۔ میں آپ کے پیچھے بیٹھی تھی اور بھانجا میری گود میں تھا۔ جب آپ دوسرے لوگوں سے فارغ ہو کر میری طرف متوجہ ہوئے اور بھانجے کی طرف دیکھا تو آپ کے چہرے اور نگاہ کے انداز سے میرے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس بچے کا بچھڑنا مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ چند ہی دن بعد میرے بھانجے کا انتقال ہو گیا۔ وہ واقعی ایسی روشنی تھے جو لوگوں کے دلوں میں اللہ کا ذکر بسا دیتے تھے۔ کراچی سے لے کر فرانو تک ذکر و اعتکاف کی محفلیں سجاتے اور موسم کی سختی کی پروا کیے بغیر لوگوں کو ذکرِ الٰہی کی طرف بلاتے۔ ان کی محبت اور دعوت سے متاثر ہو کر لوگ دور دور سے ان محافل میں شریک ہوتے۔ ان کا مشن دوامِ وضو، دوامِ توبہ اور دوامِ ذکر تھا، اور الحمدللہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 21 اگست 2016ء کو آپ اپنے آٹھ مریدین کے ہمراہ دیوسائی سے واپس آ رہے تھے کہ دیوسائی کے مقام پر ایک المناک سڑک حادثے میں جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ اور اس جگہ پر چشمہ بھی جاری ہوا اور آج بھی جاری ہے لوگ وہ پانی تبرک کے لیے گھر لے آتے ہیں ۔تاکہ اس کو پی کر شفا پائے ۔روایت ہے کہ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے آپ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا تھا کہ پیر کے دن گھر میں مہمان آنے والے ہیں، تیاری رکھنا۔ آپ اتوار کی شام دنیا سے رخصت ہوئے اور پیر کے دن ہزاروں مریدین اور عقیدت مندوں کی موجودگی میں سکردو سے خپلو تک مختلف مقامات پر نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاں آپ کو خپلو میں اپنے گھر کے سامنے سپردِ خاک کیا گیا۔ یوں 1953ء میں طلوع ہونے والا وہ سورج 21 اگست 2016ء کو دیوسائی کے پہاڑوں میں روپوش ہو گیا، مگر اس کی روشنی آج بھی دلوں میں پہلے سے زیادہ تاباں ہے۔ آپ کے جانشین جناب بوا رستم علی انجم کی زیرِ نگرانی اعتکاف اور ذکر کی محفلیں آج بھی آباد ہیں۔ رمضان المبارک میں اسلام آباد، سکردو اور خپلو میں طویل مدتی اعتکاف منعقد ہوتے ہیں، جبکہ دیگر مقامات پر بھی دس روزہ اور مختصر اعتکاف کی محفلیں تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہیں۔ لوگ آج بھی جوق در جوق اس روحانی قافلے میں شامل ہو رہے ہیں۔ وہ سورج تو دیوسائی کے پہاڑوں میں روپوش ہو گیا تھا، مگر اپنے ہزاروں مریدوں اور عقیدت مندوں کے دلوں میں ایسی روشنی چھوڑ گیا جو کبھی مدھم نہیں ہو سکتی۔ آج گیارہ برس گزرنے کو ہیں، مگر جدائی کا دکھ اب بھی روزِ اول جیسا تازہ ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ ہستیاں وقت کے ساتھ دل سے نہیں جاتیں۔ آپ سے عشق کرنے والے آج بھی آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد کرتے اور آپ کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جس طرح میرے مرشدِ گرامی نے دنیا میں ہمارا ہاتھ تھاما اور ہمیں اپنی محبت و ذکرِ الٰہی سے جوڑا، اسی طرح آخرت میں بھی ہمیں اپنی رحمت سے محروم نہ فرمائیں، اپنے فیض و کرم سے نوازتے رہیں اور اپنے محبوب بندوں کے ساتھ ہمیں بھی اپنی رضا نصیب فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
شگر ویمن ڈگری کالج میں رواں سال کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ، والدین سے بچیوں کے داخلوں کی اپیل
روندو کے مڈل سکول بلامیک میں مطلوبہ تدریسی عملہ دستیاب نہ ہونے کے خلاف اہلِ علاقہ نے احتجاج
داراشفاء حضرت عباس ہسپتال سکردو. آمینہ یونس ،بلتستانی
Light of the Soul




