شگر اسپانتک پر جاں بحق ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت 18 روز بعد لاہور روانہ، شگر کے رضاکار کوہ پیماؤں نے بغیر معاوضے کے ریسکیو کرکے انسانیت کی مثال قائم کردی
رپورٹ، 5 سی این نیوز
شگر اسپانتک پر جاں بحق ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت 18 روز بعد لاہور روانہ، شگر کے رضاکار کوہ پیماؤں نے بغیر معاوضے کے ریسکیو کرکے انسانیت کی مثال قائم کردی
شگر اسپانتک پر جاں بحق ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت 18 روز بعد لاہور روانہ، شگر کے رضاکار کوہ پیماؤں نے بغیر معاوضے کے ریسکیو کرکے انسانیت کی مثال قائم کردی، 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانتک چوٹی پر جاں بحق ہونے والی برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت 18 روز بعد اسکردو پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کرکے تدفین کے لیے لاہور روانہ کردی گئی۔ ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت کو خطرناک اور دشوار گزار پہاڑی علاقے سے بحفاظت نیچے لانے میں شگر کے ہائی الٹی ٹیوڈ رضاکار کوہ پیماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور بغیر کسی معاوضے کے ریسکیو آپریشن مکمل کرکے انسانیت کی شاندار مثال قائم کردی۔ ڈاکٹر اسماء مشتاق نے 20 اگست کو اسپانتک چوٹی سر کی تھی، تاہم واپسی کے دوران تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر جاں بحق ہوگئیں۔ خراب موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باعث ان کی میت کو پہاڑ سے نیچے منتقل کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ذرائع کے مطابق ایک کمپنی کی جانب سے میت کو تقریباً 7 ہزار میٹر کی بلندی سے ریسکیو کرنے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب کیے گئے، تاہم شگر کے ہائی الٹی ٹیوڈ کوہ پیماؤں نے مالی معاوضے کی پروا کیے بغیر انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت خود ریسکیو آپریشن کا فیصلہ کیا۔محبوب علی، حسین علی، مظاہر حسین، عباس علی اور محمد عابدین نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر خطرناک اسپانتک کا رخ کیا اور مسلسل جدوجہد کے بعد 31 اگست کو ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت کو بیس کیمپ تک پہنچایا۔ بعد ازاں گزشتہ روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت اسکردو منتقل کی گئی، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آج اسے تدفین کے لیے لاہور روانہ کردیا گیا۔ شگر کے ان رضاکار کوہ پیماؤں کی اس کاوش کو مقامی حلقوں میں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محبو علی، حسین علی، مظاہر حسین، عباس علی اور محمد عابدین نے ثابت کیا کہ انسانیت کسی معاوضے کی محتاج نہیں۔ انہوں نے ایک اجنبی خاتون کو اپنی بہن سمجھ کر اس کی میت کو آخری سفر تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مقامی حلقوں کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک ریسکیو آپریشن نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارے، ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کی لازوال مثال ہے۔ شگر کے ان بہادر نوجوانوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر جو خدمت انجام دی، وہ نہ صرف شگر بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
سکردو پولیس دیگر صوبوں کے لیے رول ماڈل ہے، بلا تحقیق الزامات سے پولیس کا وقار مجروح نہ کیا جائے
Rescue Efforts




