Skardu Police 0

سکردو پولیس دیگر صوبوں کے لیے رول ماڈل ہے، بلا تحقیق الزامات سے پولیس کا وقار مجروح نہ کیا جائے
گلگت بلتستان پولیس کو دیگر صوبوں کی پولیس اور عوام کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے علماء کرام، سیاسی و سماجی حلقوں نے سکردو پولیس پر عائد مبینہ رشوت ستانی اور اقرباپروری کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ سکردو پولیس کی ایمانداری، عوام دوستی اور فرض شناسی نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ ملک بھر میں قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے۔ پولیس اہلکاروں اور افسران کی جانب سے عوام کے مسائل کے حل اور امن و امان کے قیام کے لیے خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ادارے یا اہلکار پر بلا تحقیق الزامات عائد کرنا مناسب نہیں، اس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ اگر کسی اہلکار کے خلاف کوئی شکایت یا الزام ہو تو اسے شواہد کے ساتھ متعلقہ فورم پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے آسکے۔
علماء کرام، سیاسی و سماجی حلقوں نے ڈی آئی جی بلتستان اقبال مہمند اور ایس پی سکردو غلام رسول کو عوام دوست، باکردار اور بااخلاق افسران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران کی قیادت میں سکردو میں امن و امان اور عوامی خدمت کے لیے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس سمیت تمام اداروں کے بارے میں خبر یا الزام شائع کرنے سے قبل مکمل تحقیق اور تصدیق کو یقینی بنایا جائے۔

Skardu Police

50% LikesVS
50% Dislikes

سکردو پولیس دیگر صوبوں کے لیے رول ماڈل ہے، بلا تحقیق الزامات سے پولیس کا وقار مجروح نہ کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں