نثری نظم. باپ. آمینہ یونس، بلتستانی
دل کا سکون ہے، آنکھوں کا نور ہے
گھر کا ستون ہے، اندھیروں میں جلتا چراغ ہے
اس کے وجود سے شفقت برستی ہے
وہ تو سراپا محبت ہے، زندگی اس کی مرہونِ منت ہے۔
خلوص کا وہ پیکر ہے
مشعلِ راہ ہے
مشکلوں میں وہی تو سہارا ہے
بچوں کی خاطر کیا کیا سختیاں وہ سہتا ہے
دھوپ میں جل جاتا ہے، طوفانوں سے بھی لڑ جاتا ہے
گھر والوں کی خاطر وہ دنیا کی خاک چھانتا ہے
ان سے جدائی بھی سہہ لیتا ہے
بیوی ہو یا بچے، ان کی خاطر
پردیس تنہا کاٹ لیتا ہے
خود روکھی سوکھی کھا کر بچوں کو پڑھاتا ہے۔
زندگی کی دوڑ میں ان کو چلنے کے قابل وہ بناتا ہے
خود چھپر میں رہ کر ان کے لیے محل تعمیر کراتا ہے
دکھ ہو یا سکھ، خود سے زیادہ ان کا خیال رکھتا ہے
زندگی کے ہر میدان میں ان کو آگے بڑھانے کی خاطر کیا کیا تکلیف سہتا ہے
سہہ کر کبھی اُف تک نہیں کرتا ہے۔
بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوش ہوتا ہے
جیون کا ہر لمحہ بچوں کے نام کرکے
ان کی ذرا سی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھتا ہے
باپ تو سایہ ہے، جلتی دھوپ میں، برستی بارش میں
ہر دکھ میں، ہر سکھ میں، خود سے زیادہ بچوں کا خیال رکھتا ہے۔
جب بھی بازار وہ جاتا ہے
پہلے بچوں کا خیال آتا ہے
اپنے لیے تو صرف سوچ کر رہ جاتا ہے
اسکول کی فیس اور ٹیوشن کا خیال آتا ہے۔
باپ تو سایہ ہے، جلتی دھوپ میں، برستی بارش میں
کوئی ساتھ دے نہ دے
اس کا سایہ ہر دم ساتھ رہتا ہے
وہ اپنی دعاؤں میں بچوں کو پہلے رکھتا ہے۔
اسکردو میں کرسٹیانو رونالڈو کی آمد۔ (افسانہ) طہٰ علی تابش بلتستانی
وابستگی اتنی رکھیں کہ رشتے بوجھ نہ بنیں. محمد عابد رشید
Prose Poem Father




