Cristiano Ronaldo’s Arrival in Skardu 0

اسکردو میں کرسٹیانو رونالڈو کی آمد۔ (افسانہ) طہٰ علی تابش بلتستانی
یورپی براعظم کے ملک پرتگال کے معروف فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے مجھے کال کی اور کہا کہ وہ ہنی مون کے لیے اسکردو آنا چاہتے ہیں۔ چونکہ ہماری دوستی اور تعلق خاطر اچھا تھا، اس لیے میں نے ان سے کہا کہ وہ ربیع الاول میں تشریف لائیں تاکہ ہماری ثقافت اور روایات سے لطف اندوز ہو سکیں۔

بہرکیف! پانچ ربیع الاول کو کرسٹیانو رونالڈو اپنے نجی طیارے کے ذریعے اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ اسکردو ایئرپورٹ پر اترے۔ ہم نے حسبِ روایت انہیں بلتی ثقافتی ٹوپی پہنائی اور جوش و خروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔

ہم اکٹھے گاڑی میں بیٹھے اور اسکردو شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ جیسے ہی ہم منگر پہنچے، انہوں نے سوال کیا: “مسٹر طہٰ! یہ کیا ہے؟” میں نے فخریہ انداز میں جواب دیا: “یہ بینظیر بھٹو ہسپتال ہے، جو تقریباً حلقہ نمبر دو کے اٹھارہ سے بیس گاؤں کا اکلوتا ہسپتال ہے۔”

وہ گاڑی سے اترے اور اندر جا کر دیکھا تو حیران رہ گئے۔ کہنے لگے: “بھلا یہ کیسا ہسپتال ہے؟ اس سے بڑا تو میرا باتھ روم ہے۔ اس میں کوئی جدید یا معیاری مشینری ہی نہیں ہے۔ کیا یہاں انسانوں کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں؟” میں نے سر جھکا لیا اور کہا: “دوست! بس ہمارے لوگ اسی پر خوش ہیں، اس لیے حکمران بھی توجہ نہیں دیتے۔

خیر، ہم وہاں سے نکلے اور اسکردو کی طرف روانہ ہوئے۔ جب اسکردو جامع مسجد پہنچے تو انہوں نے دوبارہ سوال کیا: “مسٹر طہٰ! اب یہ کیا ہے؟” میں نے جواب دیا: “یہ ہمارے مسلک کی سب سے بڑی مسجد ہے، جسے بنانے میں اربوں روپے کی لاگت آئی ہے۔” میں نے مزید فخریہ انداز میں کہا: “یہاں ایک وقت میں تقریباً چالیس ہزار لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔”

رونالڈو نے میری طرف دیکھا اور کہا: “تم مسلمانوں سے تو ہم ہی بہتر ہیں۔ اربوں روپے کی مسجد بنا لی، لیکن اس مسجد کے گیٹ سے لے کر چوک تک مانگنے والے چالیس بھکاریوں کے لیے ۱۰ کمرے اور کھانے کا کوئی نظام نہیں ہے! اور یقیناً مسجد کے اندر انہی غریبوں کے حقوق پر بات ہوتی ہوگی۔”

میرا سر شرم سے جھک گیا اور وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ہم نے مختلف دیہات اور دیگر سیاحتی مقامات کا بھی دورہ کیا۔

بلتستان میں کچھ جگہیں ایسی بھی تھیں جہاں داخلے کے لیے ٹکٹ لینا پڑتا تھا۔ لیکن جب مالک نے کرسٹیانو رونالڈو کو دیکھا تو انہیں بغیر ٹکٹ کے اندر جانے دیا۔
انہوں نے مجھ سے پھر سوال کیا: “مسٹر طہٰ! یہ کیا تھا؟” میں نے جواب دیا: “بورڈ پر صاف لکھا ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے 500 اور دیگر پاکستانیوں کے لیے 1000 روپے ٹکٹ ہے۔” انہوں نے پوچھا: “وہی تو! اس علاقے کے مقامی لوگوں سے پیسے کیوں لیے جا رہے ہیں؟”

میں نے جواب دیا: “یہ ان کی ذاتی ملکیت ہے۔” وہ مسکرا کر بولے: “ارے واہ! یہاں لوگ اپنے ہی علاقے میں گھومنے کا کرایہ دیتے ہیں؟” میں نے کہا: “جی، بدقسمتی سے ایسا ہی ہے۔” انہوں نے کہا: “خدا تم لوگوں کی مدد کرے۔”

ہم دو دن گانچھے، دو دن شگر، دو دن کھرمنگ اور دو دن دیوسائی میں گزارنے کے بعد واپس اسکردو پہنچے۔ یہاں شادیوں کا سیزن عروج پر تھا اور ایک ہی دن میں چار سو سے زائد شادیاں ہو رہی تھیں۔
رونالڈو مقامی شادی کی تقریب دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے ہم ایک قریبی شامیانے میں چلے گئے۔ پہلے ‘مر زن’ پیش کیا گیا، اس کے بعد سادہ چاول پر دو عدد خوبصورت کباب اور سبزی، پھر کچھ دیر بعد کوفتے، پھر بکرے کا گوشت، پھر گائے کا گوشت، مرغی کی لیگ پیس اور آخر میں یخنی لائی گئی ۔

گویا کسی تھری اسٹار ہوٹل کے معیار کے مطابق ہم تینوں نے کم از کم ۳۰ ہزار روپے کا کھانا کھایا۔ جب یہ سب ختم ہوا تو آخر میں زردہ بھی لایا گیا۔

رونالڈو نے میری طرف دیکھا اور پوچھا: “مسٹر طہٰ! کیا یہ کھانا صرف ہمارے لیے خاص بنا ہے یا سب کے لیے ایسا ہی ہے؟” میں نے فخریہ انداز میں کہا: “نہیں۔۔۔ یہ کھانا کم از کم 300 مہمان کھا کر جائیں گے۔”

انہوں نے پوچھا: “یہ کھانا کھلانے والے کا گھر وہی ہے نا جو سامنے نظر آ رہا ہے؟”
میں نے کہا: “جی، بالکل!”
انہوں نے ایک آہ بھر کر پورے گھر اور باہر کے ماحول کو دیکھا، پھر کہا: “میری سالانہ آمدنی اربوں ڈالر ہے، لیکن میری شادی میں صرف میری اہلیہ، میرے بچے اور ہم چند لوگ ہی شامل تھے۔

مجھے خدا کی قسم، ایک شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ ‘اگر تم بڑا خرچ نہیں کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے!’

تم بلتی قوم آئندہ سو سال تک اسی غربت کی لکیر سے نیچے رہو گے۔ تمہارے بچے دوسروں کے غلام بنیں گے اور تم لوگ باہر سے آنے والے مہمانوں کی خدمت کرتے رہو گے، لیکن کچھ پیسے بچانے کے بجائے فضول خرچیوں میں اڑا دو گے۔

یہ خوبصورت جنت تم لوگوں کے لیے جہنم بن جائے گی۔ مسٹر طہٰ! اب سنبھل جاؤ اور ان فضول رسومات سے باہر نکلو۔ تمہارے لوگوں کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ تمہاری سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور کالج دیکھ کر ترس آتا ہے۔ اگر اسی طرح لاشعوری میں زمینیں بیچتے رہے اور فضول خرچیاں کرتے رہے، تو تمہاری آنے والی نسلیں اپنے ہی گھر میں نوکر بن کر رہ جائیں گی۔”

میں نے کرسٹیانو رونالڈو کو ایئرپورٹ سے رخصت کیا۔ جیسے ہی باہر سڑک پر نکلا تو ایک نامور شخصیت کے گھر شادی کی تقریب جاری تھی اور ۵۰ گاڑیوں کا ایک قافلہ پورٹروکول کے ساتھ کچورا کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کرسٹیانو رونالڈو نے کم از کم یہ منظر نہیں دیکھا ۔
ورنہ پھر رج کر بے عزتی کرنی تھی ، شکر ہے عزت بھج گئی ۔
Cristiano Ronaldo’s Arrival in Skardu
تحریر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اسکردو میں کرسٹیانو رونالڈو کی آمد۔ (افسانہ) طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں