رشتے انا سے نہیں، احساس سے نبھتے ہیں. محمد عابد رشید
آج کا انسان رابطوں کے بے شمار ذرائع کے باوجود اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل نے فاصلے کم کیے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے۔ معمولی بات پر ناراضی، ذرا سی تلخی پر خاموشی اور ایک اختلاف کے بعد برسوں پرانے تعلق سے منہ موڑ لینا ہمارے معاشرے کا عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم نے رشتوں کو سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی انا کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ سامنے والے کی ایک بات ناگوار گزری تو اس کی برسوں کی محبت اور خلوص پسِ پشت چلے گئے۔ غصے کے چند لمحوں میں ایسے الفاظ کہہ دیے جاتے ہیں جن کا دکھ برسوں باقی رہتا ہے۔ حالانکہ ہر اختلاف رشتہ ختم کرنے کی وجہ نہیں ہوتا۔ ہر انکار بے قدری نہیں اور ہر خاموشی نفرت نہیں۔ بعض اوقات انسان اپنے حالات، پریشانیوں اور الجھنوں کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔ اگر ہم فیصلہ سنانے سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔
رشتوں کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ ان میں کبھی اختلاف نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے۔ غلطی ہو تو معافی مانگنے میں عار نہ ہو اور سامنے والا دل سے معذرت کرے تو اسے بار بار ماضی کے آئینے میں کھڑا نہ کیا جائے۔ خاص طور پر والدین، بہن بھائی، میاں بیوی اور اولاد کے رشتے زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، کامیابی دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن جو وقت اپنے لوگوں کے ساتھ گزر گیا، وہ واپس نہیں آتا۔ ہم اکثر اپنے اپنوں کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب ان کی موجودگی ایک یاد بن چکی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی ماں کی آواز کو معمولی نہ سمجھیں، والد کی خاموشی کو نظرانداز نہ کریں، بہن بھائیوں کی ناراضی کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور اپنی اولاد سے صرف شکایت نہ کریں، کبھی محبت کا اظہار بھی کریں۔ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا “سوری” برسوں کی دوری ختم کر دیتا ہے، ایک فون ناراضی مٹا دیتا ہے اور ایک قدم پیچھے ہٹنا پورے گھر کا سکون بچا لیتا ہے۔ رشتہ بچانے کے لیے ہمیشہ یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنی بات منوائیں؛ بعض اوقات ضروری یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے انسان کو نہ کھوئیں۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ آج کی ملاقات آخری ملاقات ہو، آج کی گفتگو آخری گفتگو ثابت ہو یا جس شخص سے ہم ناراض ہیں، کل ہمارے پاس ہو بھی یا نہیں۔ اس لیے غصے کو فیصلے کا اختیار نہ دیں اور انا کو رشتوں کا محافظ نہ بنائیں۔ بولنے سے پہلے سوچیں، ناراض ہونے سے پہلے سمجھیں اور رشتہ توڑنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں کہ کہیں ہم ایک لمحے کی کیفیت میں برسوں کی محبت تو ضائع نہیں کر رہے۔
اصلاحی پیغام:رشتے کامل انسانوں سے نہیں، سمجھدار دلوں سے قائم رہتے ہیں۔ جہاں محبت ہو وہاں برداشت بھی ہونی چاہیے، جہاں تعلق ہو وہاں معافی کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔اپنے لوگوں کی قدر ان کی موجودگی میں کریں۔ کیونکہ کچھ رشتے ختم ہونے کے بعد واپس نہیں آتے، صرف ان کی کمی رہ جاتی ہے۔
آج کی بات . جب انسان کی جان نکل جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا، ڈاکٹر محمد ارشد
Not Ego




