عظمتِ استاد. عائشہ گُل
زندگی ایک اندھیری راہ ہے اور استاد اس راہ کا چراغ ہے، وہ اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے۔ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے مگر دوسری درسگاہ استاد کی گود ہے ۔ماں باپ چلنا سکھاتے ہیں اور جسم پالتے ہیں، استاد جینا سکھاتا ہے اور روح سنوارتا ہے۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا ہے، وہ لفظ نہیں سوچ دیتا ہے، وہ سلیٹ پر نہیں دل پر لکھتا ہے اور پتھر کو ہیرا بنا دیتا ہے۔ اسلام میں استاد کا رتبہ بہت بلند ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے، اور حضرت علیؓ نے فرمایا جس نے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں، سکندر نے بھی کہا میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔
افسوس آج ہم نے یہی ادب بھلا دیا ہے، وہ استاد جس کے سامنے بادشاہ جھکتے تھے آج تنہا ہے۔یاد رکھو جو قوم استاد کو بھول جائے وہ خود مٹ جاتی ہے۔ عظمتِ استاد ایک دن کا پھول نہیں یہ عمر بھر کا ادب ہے، اس کی بات دل سے سننا اور اس کے سامنے نظر جھکا دینا ہی اصل عزت ہے۔ اور آخر میں بس یہی راز ہے، با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب جو جتنا جھکتا ہے استاد کے ادب میں وہ اتنا ہی اٹھتا ہے نصیب کی بلندیوں میں اور اپنی جھولی میں رحمتیں اور برکتیں سمیٹ لیتا ہے۔ اور جو ادب سے منہ موڑ لیتا ہے اس کے حصے میں سوائے حسرت اور خسارے کے کچھ نہیں آتا۔فیصلے کا اختیار ابھی بھی ہمارے پاس ہے۔
Greatness of a Teacher




