Scene Description 0

صنف: منظر نگاری .عنوان: سنسان راستہ آمینہ یونس بلتستانی
شام کا وقت تھا، راستہ سنسان تھا۔ پت جھڑ کا موسم تھا، سوکھے پتے راستے پر بکھرے پڑے تھے اور ماحول مزید اداس ہو گیا تھا۔ ابر آلود موسم میں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ ایسے اداس ماحول میں ایک شخص چھتری تانے چلا جا رہا تھا۔ وہ اپنے کسی کام سے پاس کی دکان تک جا رہا تھا۔ گھر میں بیٹھے بیٹھے اسے ایک ضروری چیز کی ضرورت پڑی تو وہ بارش میں گھر سے نکل آیا تھا، مگر راستے کی اداسی نے اسے اپنے لپیٹ میں لیا کہ وہ اپنے کام اور منزل، دونوں کو بھول گیا۔ وہ چلتا گیا، جیسے کسی ہپناٹزم کی کیفیت میں ہو۔ بارش کے قطرے چھتری پر پڑ کر عجیب سی آوازیں پیدا کر رہے تھے۔ راستے کے دونوں طرف درخت خاموش کھڑے تھے اور دھند نے منظر کو دھندلا دیا تھا۔ شام رات میں بدل رہی تھی، مگر اسے وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا۔ چلتے چلتے اچانک اس کا پاؤں راستے میں بنے ایک گڑھے میں جا پڑا۔ گڑھے میں بارش کا پانی جمع تھا۔ پانی کے چھینٹے اڑے تو وہ چونک کر رک گیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ اندھیرا چھا چکا تھا۔ راستے کیچڑ سے لت پت تھے اور بارش بدستور برس رہی تھی۔ اس نے سوچا، ’’یعنی اتنی برستی بارش میں میں یہاں تک پہنچ گیا اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوا! میں کس کام سے نکلا تھا اور کہاں چلا آیا؟‘‘ اسے محسوس ہوا کہ راستے کی اداسی نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس نے سر جھٹکا اور ذرا سا مسکرایا۔ ’’انسان بھی نا! کبھی راستوں کی اداسی اسے گھیر لیتی ہے، کبھی کسی کی بے بسی دکھی کر دیتی ہے۔ کبھی انسان خود راستہ بھٹک جاتا ہے اور کبھی اتنا حساس ہو جاتا ہے کہ ہر دکھ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔‘‘

Scene Description

50% LikesVS
50% Dislikes

صنف: منظر نگاری .عنوان: سنسان راستہ آمینہ یونس بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں