جزبوں کی تپش. ناہید مرزا
انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے جس کا کوئی نقشہ نہیں ہوتا، مگر اس کے راستے دل کی دھڑکنوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ اس دنیا میں کچھ یادیں چراغ کی طرح جلتی ہیں، کچھ دعائیں خاموشی میں سانس لیتی ہیں، کچھ رشتے خوشبو بن کر ٹھہر جاتے ہیں اور کچھ جدائیاں ایسی کسک بن جاتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل سے رخصت نہیں ہوتیں۔یہی تو جذبوں کی تپش ہے۔ یہ تپش کبھی محبت بن کر دل کو نرم کرتی ہے، کبھی درد بن کر آنکھوں کو نم، کبھی کسی کی یاد بن کر روح کو چھوتی ہے اور کبھی انسان کو اپنے رب کے سامنے اس قدر بے بس کر دیتی ہے کہ آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو، لفظوں کی ایک طویل دعا بن جاتا ہے۔ شاید اسی لیے دل کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ جو دل محسوس کرتا ہے، وہی کسی دوسرے کے درد کو سمجھ سکتا ہے۔ جو خود کبھی ٹوٹا ہو، وہی کسی بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے کی قدر جانتا ہے۔ اور جس آنکھ نے کبھی تنہائی میں آنسو بہائے ہوں، وہ کسی دوسرے کی خاموش نمی کو پہچاننے میں دیر نہیں کرتی۔ مگر ہمارے عہد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے محسوس کرنے کے بجائے صرف دیکھنا سیکھ لیا ہے۔ ہم چہروں کو پڑھتے ہیں، دلوں کو نہیں؛ الفاظ سنتے ہیں، خاموشیوں کو نہیں۔ کسی کی مسکراہٹ دیکھ کر اسے خوش سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ بعض مسکراہٹوں کے پیچھے کئی موسموں کی اداسی چھپی ہوتی ہے۔ صوفیانہ نظر ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ انسان کو صرف اس کے ظاہر سے نہ پرکھو۔ ہر چہرے کے پیچھے ایک داستان ہے، ہر خاموشی کے اندر ایک صدا، اور ہر دل میں ایک ایسا گوشہ ہے جہاں صرف انسان اور اس کا رب ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں۔
دل کی نرمی کمزوری نہیں؛ یہ روح کی زندگی ہے۔ نرم دل انسان کسی کے دکھ پر ٹھہر جاتا ہے، کسی کی لغزش سے درگزر کرتا ہے، کسی کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے اور کسی کی خوشی میں بے غرض شریک ہو جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان ہونا بے عیب ہونا نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کے باوجود دوسروں کے لیے رحم اور گنجائش پیدا کرنا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی جذبہ روحانی کیفیت میں ڈھلنے لگتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ کی خشیت سے بہنے والے آنسو کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ایک صحیح روایت میں ایسے شخص کا ذکر ہے جس کی آنکھ اللہ کے خوف سے روئی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خشیتِ الٰہی دل کو بیدار رکھتی ہے اور انسان کے اندر احساس کی روشنی باقی رکھتی ہے۔ تپس دل کو بے حس ہونے سے بچانا محض ایک جذباتی ضرورت نہیں؛ یہ ایک روحانی ذمہ داری بھی ہے۔
دنیا ہمیں سخت ہونا سکھاتی ہے، مگر روح ہمیں نرم رہنے کی دعوت دیتی ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ جس نے دکھ دیا، اسے جواب دو؛ دل کہتا ہے کہ پہلے اس درد کو سمجھو۔ دنیا کہتی ہے کہ اپنے آنسو چھپا لو؛ خشیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر دل اپنے رب کے سامنے پگھل جائے تو اس کیفیت کو کمزوری نہ سمجھو۔
صوفیانہ مزاج کا حسن شاید یہی ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی سختی کو اپنے اندر گھر نہیں کرنے دیتا۔ وہ دکھ کو نفرت نہیں بننے دیتا، جدائی کو انتقام نہیں بننے دیتا اور محبت کو ملکیت میں تبدیل نہیں ہونے دیتا۔محبت ہو تو اسے خلوص بنا دو، درد ملے تو اسے شعور بنا دو، جدائی آئے تو اسے صبر میں ڈھال دو، اور آنکھ نم ہو تو اسے اپنے رب سے قرب کا وسیلہ بنا لو۔ زندگی میں کچھ لوگ ہمیں ملتے ہیں اور ہمارے اندر محبت جگا جاتے ہیں۔ کچھ بچھڑ جاتے ہیں اور ہمیں صبر سکھا جاتے ہیں۔ کچھ ہمیں زخمی کرتے ہیں اور ہمیں معاف کرنے کا مفہوم سمجھا جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی سے گزر کر ہمیں ہمارے رب کے اور قریب کر جاتے ہیں۔
شاید ہر تعلق کا مقصد ہمیشہ ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔ کچھ تعلقات ہمیں بدلنے آتے ہیں، کچھ ہمیں آئینہ دکھانے، اور کچھ درد ہمیں توڑنے نہیں بلکہ تراشنے آتے ہیں۔
اسی لیے اپنے دل کو پتھر مت ہونے دیجیے۔ اس میں تھوڑی سی محبت باقی رہنے دیجیے، تھوڑی سی شفقت، تھوڑی سی نمی، تھوڑا سا درد اور بہت سارا احساس۔ کیونکہ جس دل میں احساس مر جائے، وہاں زندگی تو باقی رہ سکتی ہے، مگر زندگی کی خوشبو باقی نہیں رہتی۔ اور جس دل میں جذبوں کی تپش زندہ ہو، وہاں ایک آنسو بھی دعا بن سکتا ہے، ایک خاموشی بھی ذکر، ایک درد بھی تربیت اور ایک محبت بھی اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ۔
دل کو نرم رکھیے، آنکھوں کو نم رہنے دیجیے، اور جذبوں کی اس تپش کو نفرت کی آگ نہیں، محبت کا چراغ بننے دیجیے
Heat of Emotions




