نظم. خوابوں کا مقتل . شاعرہ . نسرین امیرزمان
شام کے دھندلکے ساۓ میں
جب شہر کی پیشانی پر
خاموشی کا کہرا اترتا ہے
ایک اجنبی سی وحشت جب
چراغوں کی لُو سے سوال کرتی ہے۔
میں نے مدتوں
اپنی تمناؤں کو
مژگاں کے سائے میں چھپائے رکھا،
مگر وقت کی سنگلاخ انگلیاں
ہر خواب کی پیشانی پر
ہجر کا نوحہ لکھتی رہیں۔
کبھی
کوئی ملتجی ہوا
میرے دریچے سے گزر کر
میرے وجداں کی تمازت کو چھوتی ہے
اور میں
اپنے ہی ماضی کے ملبے میں
کسی گم شدہ صدا کو تلاش کرتی ہوں۔
عجیب ہے یہ زندگی بھی
کتنے ہی موسم
روح کی دہلیز پر آ کر
بے صدا لوٹ گۓ
اور انساں
اپنی ہی ذات کے صحرا میں
ایک سراب کا تعاقب کرتا رہا
پھر بھی
کسی نامعلوم ساعت میں
دل کے ویران کتبے پر
امید کی ایک نحیف کرن جگمگاتی رہتی ہے
Graveyard of Dreams




