05 اکتوبر: یومِ استاد یا یومِ استحصالِ استاد ؟ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
05 اکتوبر کو عموماً ہم یومِ استاد کی مناسبت سے مناتے ہیں، لیکن سچ کہوں تو میں 05 اکتوبر کو “یومِ استحصالِ استاد” کے طور پر دیکھتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ قوم کو بنانے اور بگاڑنے میں استاد کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن کچھ دہائیوں سے اب استاد کا کردار محض ایک کلاس روم کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ کیونکہ نئے نئے قانون ان کی پاؤں کی زنجیریں بن چکی ہے۔ خیر اس پر ہم ایک اور دن بات کریں گے لیکن آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اسے “یومِ استحصال” کیوں کہا؟
تو دوستو!
آج میری آواز ان مظلوم اساتذہ کے لیے ہے جو معاشرے کے چند نام نہاد اداروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج میرا مدعا ان مظلوم اساتذہ کے حق میں ہے جن کی آواز کو دبانے کے لیے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز تک سے خطبے جاری کیے جاتے ہیں؛ جن کی حق گوئی کو دبا دینے کے لیے پوری مافیا ایک ہو جاتی ہے اور لاکھوں بچوں کا مستقبل سنوارنے والی ان آوازوں کو ہر بار خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
میرا مخاطب یقیناً پرائیویٹ اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے والے وہ اساتذہ کرام ہیں جو کئی کئی سالوں سے ان اداروں کی بقا اور ترقی کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں، لیکن جب ان کی اس محنت اور لگن کا صلہ دینے کا وقت آتا ہے تو وہی ادارے ایک خوفناک اور سنگدل روپ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس شدید مہنگائی کے دور میں، جہاں انسان معمولی سودا سلف کے لیے بازار جائے تو کم از کم پانچ سو سے ہزار روپے یوں ہی خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں یہ پرائیویٹ ادارے آج بھی اساتذہ کو ایک معقول اور بنیادی تنخواہ دینے سے قاصر ہیں۔ ہزاروں ایسے پرائیویٹ اسکولز، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں اساتذہ کو اس کمر توڑ مہنگائی میں صرف 15 ہزار، 20 ہزار، اور بعض اداروں میں تو محض 5 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ خدا بھلا کرے ہمارے سابقہ اسسٹنٹ کمشنر کا، جنہوں نے ان بے بس اساتذہ کے احساسِ محرومی کو سمجھا تھا اور ان کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن اور احکامات جاری کیے تھے۔ لیکن افسوس! اس ایک حق پر مبنی آواز کو دبانے کے لیے نہ صرف یہ تمام ادارے متحد ہو گئے، بلکہ ہمارے جمعے کے خطبوں میں بھی اس آواز کو غلط رنگ دے کر متنازع بنا دیا گیا؛ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نوٹیفکیشن جہاں سے شروع ہوا تھا، وہیں دبا دیا گیا۔ میری اسکول مالکان سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ ظلم اتنا ہی کریں جتنا کل کو خود سہ سکیں۔ وقت کا پہیہ گھومنے اور پلٹ کر وار کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ اگر عدل و انصاف کے تقاضوں سے آپ کے دل نہیں دھڑکتے، تو کم از کم انسانی احساس ہی کے تحت اپنے دلوں میں نرمی پیدا کریں۔ خدا کی قسم! آپ کی اس پانچ، دس، پندرہ یا بیس ہزار کی قلیل رقم سے گھر چلنا تو دور کی بات، پانچ دن کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ میری علمائے کرام سے بھی عاجزانہ گزارش ہے کہ ایسے معاملات میں غریب اور محنت کش طبقات کا ساتھ دیا کریں؛ حق کے مقابلے میں باطل اور سرمائے کا ساتھ دینا سراسر ناانصافی ہے۔
اس کے ساتھ ہی میں اسسٹنٹ کمشنر اور وزیرِ اعلیٰ سے بھی پرخلوص اپیل کرتا ہوں کہ جلد از جلد ایک باقاعدہ قانون پاس کروایا جائے جس کے تحت پرائیویٹ استاد کی کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کی جائے، اور اس قانون پر بلا تاخیر اور سختی سے عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ ورنہ یاد رکھیے، اگر استاد ہی دل برداشتہ اور بدظن ہو گیا، تو اس معاشرے کے بچے کبھی مستقبل کے معمار نہیں بن سکیں گے۔
اگر آپ ایک پراویٹ اسکول کے استاد ہے تو تحریر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ متعلقہ ادارے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکے ۔
شہر کے اُس پار . نسرین امیرزمان
اور کیا ہونا تھا ، کالم نگار ۔محمد اقبال شافی
Day of Teachers




