عقل اور جنون. ایک مکالمہ، نسرین امیرزمان
محفلِ فکر میں آج عجب سماں تھا۔ ایک جانب عقل اپنی متانت و سنجیدگی کا پیرہن اوڑھے بیٹھی تھی، تو دوسری طرف جنون کی آنکھوں میں خوابوں کے چراغ روشن تھے۔ عقل کے لبوں پر دلیل کا سکوت تھا اور جنون کے سینے میں ولولوں کا طوفان موج زن تھا۔ بالآخر خاموشی کے لب کھلے۔
عقل: جنابِ جنون! تمہاری آمد بھی کسی آندھی سے کم نہیں۔ جہاں قدم رکھتے ہو، سکون کے چراغ لرزنے لگتے ہیں اور تدبیر کے آئینے دھندلا جاتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ تمہاری ایک بے لگام پرواز کتنے خوابوں کے پر جلا سکتی ہے؟
جنون: اے عقلِ دور اندیش! تمہاری نگاہ ہر شے کا انجام تو دیکھ لیتی ہے، مگر آغاز کی تڑپ سے ناواقف رہتی ہے۔ تم چراغ کے بجھنے کے اندیشے میں اسے ہوا سے بچاتی رہتی ہو، اور میں اسی چراغ کی لو سے شبِ تاریک کے سینے میں صبح کا راستہ تلاش کرتا ہوں۔
عقل: خوابوں کی تعبیر محض آرزوؤں کے لہو سے نہیں لکھی جاتی۔ اس کے لیے بصیرت، تدبر اور حقیقت شناسی درکار ہوتی ہے۔ جذبے کا سیلاب اگر شعور کے بند توڑ دے تو بستیوں کو سیراب نہیں، غرقاب کرتا ہے۔
جنون: اور شعور اگر ہر جذبے کے پاؤں میں زنجیر ڈال دے تو زندگی ایک بے رنگ صحرا بن جاتی ہے۔ تاریخ کے ماتھے پر جو روشن باب ثبت ہیں، وہ محض حساب و کتاب کے مرہونِ منت نہیں۔ کسی نے ناممکن کو ممکن سمجھنے کی جسارت کی، کسی نے وقت کے جبر سے آنکھ ملائی، کسی نے شکست کی راکھ سے عزم کی چنگاری تلاش کی۔ یہ سب میری ہی عطا تو ہیں!
عقل: مگر ہر سرکشی انقلاب نہیں ہوتی، ہر ضد استقامت نہیں کہلاتی اور ہر بے خودی عشق کا مرتبہ نہیں پاتی۔ کبھی تم اپنے نفس کی آواز کو تقدیر کا فرمان سمجھ بیٹھتے ہو۔ تمہیں کون سمجھائے کہ بلند پروازی اور بے سمت پرواز میں زمین و آسمان کا فرق ہے؟
جنون: اور تمہیں کون بتائے کہ احتیاط اور خوف کے درمیان بھی ایک باریک پردہ حائل ہوتا ہے؟ تم اکثر اسی پردے کے پیچھے پناہ گزیں ہو جاتی ہو۔ تمہارے پاس دلائل کا انبار ہے، مگر کیا ہر حقیقت کو میزانِ عقل پر تولا جا سکتا ہے؟ کچھ فیصلے دل کی دہلیز پر جنم لیتے ہیں اور کچھ منزلیں یقین کے چراغ لے کر ہی عبور کی جاتی ہیں۔
عقل: میں دل کی نفی نہیں کرتی، میں اسے بصیرت کی روشنی عطا کرتی ہوں۔ محبت ہو یا مقصد، عبادت ہو یا ریاضت، جذبہ جب شعور کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو تعمیر کا استعارہ بنتا ہے۔ ورنہ وہی جذبہ انسان کو اپنی ہی خواہشات کا اسیر بنا دیتا ہے۔
جنون: تمہاری بات میں وزن ہے، مگر میری تڑپ کو بھی محض دیوانگی کا نام نہ دو۔ میں وہ آتشِ شوق ہوں جو سرد پڑتے حوصلوں میں حرارت بھرتی ہے۔ میں وہ صدائے بغاوت ہوں جو فرسودہ روایتوں کے ایوانوں میں سوال جگاتی ہے۔ میں وہ بے قراری ہوں جو انسان کو معمول کی سطح سے اٹھا کر امکان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
عقل: بے شک، مگر آتشِ شوق کو چراغ بننے کے لیے ظرف بھی چاہیے۔ آگ اگر حدِ اعتدال سے گزر جائے تو اجالا نہیں، خاکستر چھوڑتی ہے۔ تمہاری پرواز قابلِ تحسین ہے، بشرطیکہ تمہیں سمت کا شعور ہو۔ تمہاری جرأت معتبر ہے، بشرطیکہ اس میں ذمہ داری کا احساس بھی شامل ہو۔
جنون: اور تمہاری دانائی لائقِ احترام ہے، بشرطیکہ وہ امکانات کے دروازے بند نہ کرے۔ یاد رکھو، ہر نئی صبح پہلے اندھیروں کے دامن میں پلتی ہے۔ ہر نیا خیال ابتدا میں اجنبی ٹھہرتا ہے، ہر بلند مقصد پہلے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اگر انسان ہر موڑ پر تمہارے اندیشوں کا اسیر ہو جائے تو شاید خوابوں کی دنیا کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔
عقل: تو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ انسان آنکھیں بند کرکے تمہارے تعاقب میں چل پڑے؟
جنون: نہیں! میں چاہتا ہوں کہ وہ آنکھیں کھول کر خواب دیکھے، دل میں ولولہ رکھے اور قدموں میں استقامت۔ میں اسے اڑان دیتا ہوں، مگر اسے یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ بلندیوں پر ٹھہرنے کے لیے توازن درکار ہوتا ہے۔
عقل: اور میں اسے توازن دیتی ہوں، مگر مجھے بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ محض محفوظ رہنا زندگی کا مقصد نہیں۔ بعض اوقات خطرات کے سامنے سینہ سپر ہونا ہی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔
جنون: تو پھر ہم ایک دوسرے کے حریف نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ تم میری بے قراری کو شعور عطا کرو اور میں تمہاری بصیرت کو حرکت دوں۔ تم چراغ کی لو کو سنبھالو اور میں اسے اندھیروں کے مقابل بلند رکھوں۔
عقل: مگر ایک سوال اب بھی باقی ہے۔ جب تمہاری ضد اور میری دلیل آمنے سامنے ہوں گی تو آخری بات کس کی مانی جائے گی؟
جنون: آخری بات نہ میری ہوگی، نہ تمہاری۔ فیصلہ اس شعور کا ہوگا جو خوابوں کی حرمت بھی جانتا ہو اور حقیقت کی نزاکت بھی۔ کیونکہ بے لگام جنون تباہی کا پیش خیمہ ہے اور بے روح عقل جمود کا استعارہ۔
عقل: گویا زندگی کی معراج ہم میں سے کسی ایک کی فتح میں نہیں، بلکہ ہمارے درمیان اعتدال کی جستجو میں پوشیدہ ہے۔
جنون: بالکل! انسان کو اتنا عاقل ہونا چاہیے کہ اپنے قدموں کا انجام دیکھ سکے، اور اتنا جنونی کہ ناممکن کی دیوار پر امکان کا پہلا چراغ روشن کر سکے۔
محفل میں ایک بار پھر سکوت چھا گیا۔ عقل کی آنکھوں میں تفکر کی چمک تھی اور جنون کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، جیسے برسوں کی مخاصمت ایک لمحے میں رفاقت کے مفہوم سے آشنا ہوگئی ہو۔
مگر سوال اب بھی فضا میں معلق تھا:
کیا انسان کی سب سے بڑی فتح عقل سے جنون کو شکست دینا ہے، یا جنون کو عقل کے ساتھ ہم سفر بنا لینا؟
شاید زندگی کا اصل ہنر یہی ہے کہ انسان کے خواب پرواز کرنا نہ بھولیں اور اس کے قدم حقیقت کی زمین سے اپنا رشتہ بھی نہ توڑیں۔
05 اکتوبر: یومِ استاد یا یومِ استحصالِ استاد ؟ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
شہر کے اُس پار . نسرین امیرزمان
Reason and Madness




