آج کی بات . جب انسان کی جان نکل جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا، ڈاکٹر محمد ارشد
اور جب انسان کے دل سے احساس نکل جائے تو وہ انسان نہیں رہتا۔
زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے، کسی کے آنسو پونچھنے، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے اور ضرورت کے وقت کسی کا سہارا بننے کا نام بھی ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کی دولت، عہدے یا شہرت نہیں بلکہ اس کا اخلاق، احساس اور کردار ہے۔
ہر تھکے ہوئے دل کو دوا سے پہلے کبھی کبھی میٹھے بول، محبت بھرے لہجے اور چند حوصلہ دینے والے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں قحط صرف روٹی، روزگار یا وسائل کا نہیں بلکہ احساس، برداشت، خلوص اور انسانیت کا بھی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے حالات جانے بغیر فیصلے سنانے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کبھی کسی کے چہرے کی مسکراہٹ بن کر دیکھیں، شاید آپ اس کی پوری زندگی کا دکھ تو ختم نہ کر سکیں، مگر اس کے دل کو چند لمحوں کا سکون ضرور دے سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی ایک عظیم نیکی ہے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی کئی بار ہم اپنے دکھ اپنوں کو سنا دیتے ہیں، مگر ہر شخص ہمارے درد کا امین نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہماری کمزوریاں ہمارے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہمارے لیے طعنوں اور تکلیف کا سبب بن جاتی ہیں۔ اس لیے اپنے دکھ ضرور بانٹیں، مگر صحیح انسان، صحیح وقت اور صحیح جگہ کا انتخاب بھی ضروری ہے۔
دولت ختم ہو سکتی ہے، جائیداد تقسیم ہو سکتی ہے، عہدے چھن سکتے ہیں اور شہرت وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتی ہے، لیکن اچھی تربیت انسان کے کردار میں عمر بھر زندہ رہتی ہے۔ اولاد کو صرف آسائشیں نہیں، اچھے اخلاق، سچائی، احترام، صبر اور انسانیت بھی ورثے میں دینی چاہیے۔
زندگی مختصر ہے، اس لیے کسی کے لیے بوجھ نہیں، سہارا بنیں۔
کسی کے لیے دکھ نہیں، خوشی بنیں۔
کسی کے زخموں پر نمک نہیں، مرہم رکھیں۔
اور جہاں ممکن ہو، کسی کے دل کو توڑنے کے بجائے اسے جوڑنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کا اچھا کردار اور اس کی دی ہوئی محبت لوگوں کے دلوں میں دیر تک زندہ رہتی ہے۔
آج کسی ایک انسان کے لیے آسانی پیدا کرکے دیکھیں، شاید آپ کی ایک چھوٹی سی نیکی کسی کی پوری دنیا بدل دے۔
تحریر: ڈاکٹر محمد ارشد
0



