عنوان: پریشانیوں کا بازار اور تالے میں اٹکی چابی. سیدہ فضہ بتول
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جب آپ رات کو سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہیں اور کمرے کی بتی گل کرتے ہیں، تو اندھیرے کے ساتھ ہی ذہن میں مسائل کا ایک پورا ہجوم آن کھڑا ہوتا ہے؟ رات کے اس خاموش لمحے میں ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کا ہر غم، ہر الجھن اور ہر ناکامی صرف اور صرف آپ کے ہی حصے میں آئی ہے۔ وہی نادیہ جو دن بھر سب کے سامنے مسکراتی رہی، رات کو تکیے میں منہ چھپا کر روتی ہے کہ تین سال سے نوکری نہیں مل رہی؛ وہی علی جو دوستوں کی محفل کی جان ہے، اکیلے میں اس سوچ سے گھل رہا ہے کہ عمر گزرتی جا رہی ہے اور کوئی مناسب رشتہ نہیں مل رہا؛ اور وہی بوڑھے والدین جو سب کے سامنے مسکراتے ہیں، رات کو اس دکھ سے جاگتے رہتے ہیں کہ جس اولاد پر زندگی لٹا دی، وہ آج ایک منٹ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار نہیں۔
اگر آج کے دور میں آپ کسی شخص سے صرف اتنا پوچھ لیں کہ “اور سنائیں، کیا حال ہے؟” تو سامنے والا فوراً خیریت بتانے کے بجائے اپنی پریشانیوں کا وہ مکمل کھاتہ کھول کر سامنے رکھ دے گا جس کا حساب خود فرشتے بھی شاید الگ سے مرتب کر رہے ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے آج کل ہر شخص کے پاس پریشان ہونے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک انوکھا اور زبردست مسئلہ موجود ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کسی کے پاس نہیں۔
ہمارا معاشرہ اس وقت ایک عجیب و غریب نفسیاتی کشمکش اور گھبراہٹ کا شکار نظر آتا ہے۔ ہر طرف ایک ایسی دوڑ لگی ہے جس کی نہ کوئی سمت ہے اور نہ ہی کوئی منزل۔ نوکری کی تلاش میں سرگرداں نوجوان ڈگریوں کا پلندہ بغل میں دبائے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ دفتر والے تجربہ مانگتے ہیں، اور تجربہ نوکری کے بغیر ملتا نہیں۔ یعنی “پہلے مرغی آئی یا انڈہ” والی پرانی لاجک اب نوکری اور تجربے کے درمیان پھنس چکی ہے۔ ایک طرف نوجوان پریشان ہے کہ رزق کا وسیلہ کیسے بنے، تو دوسری طرف گھر والے پریشان ہیں کہ اس نوجوان کو صبح دیر تک سوتے ہوئے دیکھ کر اپنے بلڈ پریشر کو کیسے قابو میں رکھیں۔
کچھ لوگ زندگی کے دوسرے مرحلے پر اٹکے ہوئے ہیں، یعنی رشتہ نہ ملنے کی پریشانی! یہاں صورتحال یہ ہے کہ لڑکے والوں کو پریوں جیسی، سلیقہ مند، اور ڈاکٹر بہو چاہیے جو شادی کے بعد روٹیاں بھی خود بنائے اور ہسپتال بھی سنبھالے؛ جبکہ لڑکی والوں کو ایسا شہزادہ چاہیے جس کا اپنا بنگلہ ہو، گاڑی ہو، اور چاند پر چھوٹا سا پلاٹ بھی ہو۔ اس ناممکن معیار کی تلاش میں دونوں فریق دن رات پریشان ہیں، اور نتائج کے طور پر رشتے کرانے والی خالائیں الگ ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہیں کہ آخر بندہ لائیں تو لائیں کہاں سے!
تھوڑا آگے بڑھیں تو خاندانی تعلقات کا اپنا ایک الگ ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔ ایک طرف والدین پریشان ہیں کہ اولاد ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے، ان کی بات نہیں سنتی، اور دن بھر موبائل کی سکرین میں گھسی رہتی ہے۔ دوسری طرف اولاد اس بات پر غمزدہ اور ڈپریشن میں ہے کہ والدین ان کے جذبات اور عصری تقاضوں کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی چھت کے نیچے دو مختلف سیاروں کی مخلوقات رہ رہی ہوں جو ایک دوسرے کی زبان سمجھنے سے یکسر آرین ہیں۔
اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ان تمام مسائل، گھبراہٹوں اور پریشانیوں کے پیچھے بنیادی وجہ کیا ہے؟ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ڈگریاں کم ہیں، رشتے کم ہیں یا رشتے دار برے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ہر پریشانی کو اپنے سر پر اس طرح سوار کر لیا ہے جیسے اس دنیا کو چلانے کی پوری ذمہ داری صرف ہمارے ہی کندھوں پر ہے۔ ہم نے حل تلاش کرنے کے بجائے پریشانی کے ساتھ ایک عجیب و غریب قسم کا رومانس قائم کر لیا ہے۔ ہم ہر وقت مسئلے کو دہراتے رہتے ہیں، اس پر کڑھتے رہتے ہیں، لیکن قدم آگے بڑھانے یا اپنی سوچ کا زاویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
سائنس کہتی ہے کہ انسان جب ایک ہی منفی سوچ کو بار بار سوچتا ہے تو اس کا دماغ اسی پیٹرن کا عادی ہو جاتا ہے۔ ہم روزانہ صبح اٹھتے ہی اپنی پریشانیوں کا جائزہ اس طرح لیتے ہیں جیسے کوئی بادشاہ اپنے خزانے کا معائن کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے اور حل کی کوئی ہلکی سی کرن بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بند گلی کے بعد ایک نیا راستہ نکلتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم دیوار سے سر ٹکرانے کے بجائے دائیں بائیں قدم بڑھانے کی ہمت کریں۔
نوکری نہیں مل رہی؟ تو کیا ڈگری صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جو کسی کے بلانے کا منتظر رہے؟ آج کا دور تو ہنر اور خود اعتمادی کا دور ہے۔ جب بند راستے آپ کو روکے کھڑے ہوں تو اپنے اندر کا ہنر بیدار کیجیے، نئے راستے خود بنائیے۔ رشتہ نہیں مل رہا؟ تو اپنے معیار کو حقیقت کے قریب لائیے، کیونکہ کامل انسان صرف کتابوں میں ملتے ہیں، عملی زندگی میں نہیں! والدین اور اولاد کے درمیان دوریاں ہیں؟ تو انا کی دیواروں کو گرا کر ذرا بیٹھ کر بات تو کیجیے، کیونکہ محبت اور گفتگو سے بڑی کوئی چابی نہیں جو بند دلوں اور الجھے ذہنوں کے تالے نہ کھول سکے۔
زندگی کی مثال ایک ندی کی سی ہے؛ اگر پانی ایک جگہ رک جائے تو اس میں سے تعفن آنے لگتا ہے، لیکن اگر وہ بہتا رہے تو شفاف اور تازہ رہتا ہے۔ ہماری پریشانیاں بھی اسی وقت تک ہم پر حاوی رہتی ہیں جب تک ہم سوچ کے ایک ہی نقطے پر جمے رہتے ہیں۔ جس دن ہم نے یہ تسلیم کر لیا کہ زندگی نام ہی نشیب و فراز کا ہے، اس دن اداسی اور ڈپریشن کے بادل چھٹنے لگیں گے۔
یاد رکھیے! اس کائنات کو بنانے والے نے کسی بھی انسان کو بے مقصد یا لاوارث نہیں چھوڑا۔ اگر اس نے کوئی مسئلہ پیدا کیا ہے، تو اس کا حل بھی یقیناً موجود ہے—بس اسے تلاش کرنے کے لیے صبر، حکمت اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اندھیرے جتنے بھی گہرے ہو جائیں، وہ صبح کی پہلی کرن کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے۔ اپنے دلوں میں امید کی شمع جلائے رکھیے، کیونکہ جب انسان اپنے مالک پر کامل بھروسہ رکھتا ہے اور کوشش جاری رکھتا ہے، تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔
اے اداس روح مسکراؤ تمہارا رب تم سے بہت محبت کرتا ہے۔
Market of Troubles




