مسعود رانا: ایک آواز جو میرپورخاص کے خمیر سے اٹھی اور فن کی تاریخ بن گئی . سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کبھی کبھی کسی شہر کی پہچان اس کی عمارتوں، بازاروں یا تاریخی مقامات سے نہیں ہوتی، بلکہ کسی ایسی آواز سے ہوتی ہے جو برسوں بعد بھی اس شہر کا نام سنتے ہی دل میں گونجنے لگتی ہے۔ میرپورخاص کے لیے مسعود رانا بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔ ایک ایسی آواز جو ایک عام سے گھرانے سے اٹھی، ریڈیو کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی فلمی پردے تک پہنچی اور پھر لاکھوں دلوں میں اپنا گھر بنا گئی۔ 6 اگست 1941ء کو میرپورخاص میں جنم لینے والے مسعود رانا 4 اکتوبر 1995ء کو دنیا سے تو رخصت ہوگئے مگر ان کی آواز آج بھی پرانے گیتوں کے ساتھ زندہ ہے۔
مسعود رانا کا تعلق راجپوت کاشت کار خاندان سے تھا۔ ان کے والد چوہدری احمد علی رانا متوسط درجے کے زمیندار تھے۔ خاندان کا اصل تعلق جالندھر سے تھا اور سندھ میں نہری نظام کے قیام کے بعد یہ لوگ ہجرت کرکے میرپورخاص میں آباد ہوگئے تھے۔ شاید اس وقت کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ کھیتوں اور زمینوں سے وابستہ اس خاندان کا ایک نوجوان آگے چل کر برصغیر کی فلمی موسیقی میں اپنی الگ شناخت قائم کرے گا۔
موسیقی ان کے گھر کی میراث نہیں تھی۔ ان کے خاندان میں گانے بجانے کا کوئی رواج نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب مسعود رانا کی آواز نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ابتدا میں ان کے والد بھی اس شوق کو زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے مگر قدرت نے جس آواز میں اپنا رنگ بھر دیا ہو، اسے خاموش رکھنا آسان کہاں ہوتا ہے۔ اسکول اور کالج کی تقریبات میں جب اساتذہ نے ان کی آواز سنی اور بار بار سراہا تو گھر والوں کو بھی اندازہ ہونے لگا کہ یہ محض ایک شوق نہیں، کوئی غیر معمولی صلاحیت ہے۔
مسعود رانا نے گورنمنٹ ہائی اسکول میرپورخاص سے ثانوی تعلیم حاصل کی اور بعد میں شاہ عبداللطیف کالج میں تعلیم پائی۔ طالب علمی ہی میں ان کی آواز کا چرچا ہونے لگا تھا۔ وہ بلند سروں پر بڑی آسانی سے گاتے تھے اور ابتدا میں محمد رفیع کے گیتوں کی نقل کرکے اپنے فن کو آزماتے رہے۔ رفیع کی آواز کی نقالی معمولی بات نہ تھی لیکن مسعود رانا نے محض نقل پر اکتفا نہیں کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اپنی آواز کا ایسا لہجہ دریافت کیا جو آگے چل کر ان کی شناخت بن گیا۔
ان کی باقاعدہ موسیقی کی تعلیم کسی استاد کے زیرِ سایہ نہیں ہوئی۔ میرپورخاص میں دوستوں کی محفل ہی ان کی پہلی درس گاہ تھی۔ شام ڈھلے وہ غلام قادر اور بلاول بیلجیئم کے ساتھ غریب آباد کی گوشت مارکیٹ کے سامنے لال محمد بلوچ کی سائیکل کی دکان پر بیٹھتے، گاتے، ساز بجاتے اور ایک دوسرے کی اصلاح کرتے۔ وہ جگہ شاید بظاہر ایک معمولی سائیکل کی دکان تھی مگر ان نوجوانوں کے لیے وہ کسی موسیقی کے مدرسے سے کم نہ تھی۔ وہیں سے تین آوازیں اپنے اپنے راستوں پر نکلیں۔ مسعود رانا نے فلمی موسیقی میں نام کمایا، بلاول بیلجیئم بینجو نوازی کے استاد بنے اور غلام قادر نے سندھی گائیکی میں اپنی الگ پہچان بنائی۔
1955ء میں حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کا آغاز ہوا تو مسعود رانا کے لیے امکانات کی ایک نئی دنیا کھل گئی۔ انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں ریڈیو محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ فن کار کی پہچان اور عزت کا ایک معتبر وسیلہ بھی تھا۔ کراچی کی سالانہ نمائشوں میں بھی وہ گاتے رہے۔ یوں میرپورخاص کا یہ نوجوان آہستہ آہستہ بڑے شہر کی موسیقی کی دنیا میں قدم رکھ رہا تھا۔
کراچی کی فلمی صنعت بھی انہی دنوں اپنے ابتدائی قدم اٹھا رہی تھی۔ مسعود رانا کو فلم “انقلاب” میں پہلی مرتبہ گانے کا موقع ملا۔ پھر “بنجارن” آئی مگر اصل کامیابی فلم “شرارت” کے گیت “اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے” سے ملی۔ اس کے بعد پنجابی فلم “ڈاچی” کا “تانگے والا خیر منگدا” ان کی آواز کو گھر گھر پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے مسعود رانا کے لیے کامیابی محض امکان نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل سفر بن گئی۔
فلم “ہم راہی” نے ان کی شہرت کو نئی بلندی دی۔ اس فلم کے سات گیت ان کی آواز میں ریکارڈ ہوئے اور ان کی مقبولیت ایسی بڑھی کہ وہ اردو اور پنجابی فلمی موسیقی کے اہم ترین گلوکاروں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی آواز میں ایک خاص مردانہ جلال تھا مگر اس جلال کے اندر محبت کی نرمی، جدائی کی کسک اور درد کی گہرائی بھی موجود تھی۔ یہی امتزاج ان کے گیتوں کو عام فلمی نغمات سے الگ کرتا تھا۔
مسعود رانا نے صرف فلمی گیت ہی نہیں گائے۔ سندھی، اردو اور پنجابی، تینوں زبانوں میں ان کی آواز سنائی دی۔ سندھی گیتوں میں “مہمان آہیوں، ہلیا ویندا سیں” اور “سندھڑی آ، ہی سوہنی سندھڑی آ” جیسے نغمات شامل ہیں۔ غیر فلمی شاعری میں ناصر کاظمی اور صوفی تبسم جیسے شعرا کے کلام کو بھی انہوں نے اپنی آواز دی۔ قومی نغمات میں “ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن”، “اے وطن ہم ہیں تری شمع کے پروانوں میں” اور “ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح” ان کی قومی گائیکی کا روشن حوالہ ہیں۔
فلمی دنیا میں ان کا سفر غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔ انہوں نے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے چھ سو سے زائد گیت گائے۔ ان میں پنجابی گیتوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ اسی بنا پر انہیں پاکستان کے ان گلوکاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ پنجابی فلمی گیت گائے۔ ان کی آواز میں پنجابی زبان کا جو بانکپن اور جذباتی روانی پیدا ہوتی تھی، وہ شاید ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ تھی۔
ان کے فن کو نگار ایوارڈ سے بھی سراہا گیا۔ 1965ء میں “مجاہد” کے نغمے “ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن” پر انہیں بہترین گلوکار کا اعزاز ملا۔ دوسری مرتبہ 1971ء میں فلم “آنسو” کے گیت “تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں” پر وہ نگار ایوارڈ کے مستحق قرار پائے۔
مسعود رانا کی شخصیت میں وجاہت بھی تھی اور اسکرین پر موجودگی کا ایک خاص رعب بھی۔ شاید اسی لیے انہیں اداکاری کا موقع بھی ملا۔ ’’شاہی فقیر‘‘ میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ پنجابی فلم ’’دو مُٹیاراں‘‘ میں بھی اداکاری کی، مگر پردۂ سیمیں پر ان کی اصل منزل اداکاری نہیں بلکہ گائیکی تھی۔ ان کا اصل جادو ان کی آواز میں تھا۔
عجیب اتفاق ہے کہ جس شہر نے انہیں پہچان دی، اسی میرپورخاص میں وہ اپنی شہرت سے بے نیاز ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے رہے۔ 1973ء کے سیلاب کے موقع پر ڈپٹی کمشنر منظر اکبر کی دعوت پر وہ متاثرین کے لیے چندہ جمع کرنے میرپورخاص آئے۔ تھرپارکر جیم خانہ کلب میں ایک محدود محفل ہوئی اور انہوں نے اپنی آواز کا نذرانہ پیش کرکے حاصل ہونے والی رقم سیلاب زدگان کے لیے دے دی۔ خاندان کی شادیوں میں مالا اور احمد رشدی جیسے بڑے فن کار بھی شریک ہوئے مگر یہ سب خاندانی دائرے تک محدود رہا۔
پھر 1993ء کا ایک منظر ہے، جو شاید مسعود رانا کی پوری زندگی کا سب سے خاموش مگر معنی خیز منظر تھا۔ ڈھولن آباد روڈ کے فٹ پاتھ پر وہ ریلوے اسٹیشن کی طرف پیدل چلے جارہے تھے۔ سفید دھاری دار شرٹ، سیاہ پتلون اور ایک عام آدمی کی طرح خاموش چال۔ لوگ گزر رہے تھے، شہر اپنی روزمرہ مصروفیات میں مگن تھا۔ کتنے لوگوں نے اس شخص کو دیکھا ہوگا اور کتنے جانتے ہوں گے کہ ان کے درمیان سے گزرنے والا شخص کبھی لاکھوں لوگوں کی سماعتوں پر حکومت کرتا تھا؟
بعض نے انہیں پہچان لیا۔ بے اختیار سلام کیا۔ انہوں نے اپنی گہری، گرج دار آواز میں سلام کا جواب دیا اور آگے بڑھ گئے۔ شاید ایک لمحے کے لیے انہیں بھی حیرت ہوئی ہو کہ اس شہر کی بھیڑ میں انہیں پہچاننے والے یہ کون لوگ ہیں؟
شاید یہی شہرت کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔ جب آواز آسمان پر ہوتی ہے تو ہر طرف سے نام پکارا جاتا ہے اور جب آواز خاموش ہوجائے تو پہچاننے والے انگلیوں پر گنے جاتے ہیں۔ مگر بڑے فن کاروں کا اصل امتحان وقت کے گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ مسعود رانا اس امتحان میں آج بھی زندہ ہیں۔
وہ چلے گئے، مگر “تانگے والا خیر منگدا”، “جان کہہ کے جو بلایا” اور ان کے بے شمار گیت آج بھی پرانی نسل کی یادوں کے دریچے کھول دیتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔ میرپورخاص کی گلیوں سے اٹھنے والی وہ آواز اب شہر کی حدود سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ وقت نے مسعود رانا کو ہم سے چھین لیا مگر ان کی آواز کو نہیں چھین سکا۔ شاید یہی کسی فن کار کی اصل زندگی ہے کہ انسان رخصت ہوجائے مگر اس کا فن وقت کے ملبے سے بار بار اپنا چہرہ نکالتا رہے۔
رشتے انا سے نہیں، احساس سے نبھتے ہیں. محمد عابد رشید
آج کی بات . جب انسان کی جان نکل جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا، ڈاکٹر محمد ارشد
Musical History




