Digital Benefits 0

وائی فائی کے ڈیجیٹل فائدے اور ہماری ذہنی صحت کا نقصان. بتول فاطمہ
جدید دور میں وائی فائی اور انٹرنیٹ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ہماری زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ گھر کا کچن ہو یا دفتر کی میز، تعلیم کا میدان ہو یا کاروبار کا نظام، ہر جگہ ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کی حکمرانی ہے۔ بٹن دبانے پر دنیا بھر کی معلومات تک رسائی، سیکنڈوں میں دور دراز بیٹھے اپنوں سے رابطہ، اور گھر بیٹھے روزگار کے بے شمار مواقع—یہ سب وائی فائی کے وہ روشن پہلو ہیں جن سے انکار ممکن نہیں لیکن اس چمکتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا کی پشت پر ایک تاریک منظر نامہ بھی چھپا ہے، جس کا تعلق ہماری ذہنی صحت سے ہے۔
جوں جوں وائی فائی کی تیز رفتار لہروں نے ہمارے روزمرہ کاموں کو آسان بنایا، توں توں ہماری نفسیاتی زندگی الجھنوں کا شکار ہوتی چلی گئی۔ پہلے پہل یہ ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ محسوس ہوتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ناگزیر عادت اور پھر شدید لت میں بدل گئی۔ سوشل میڈیا کا بلا ضرورت استعمال، نوٹیفکیشنز کا مسلسل شور، اور آن لائن دنیا سے لمحہ بھر کے لیے کٹ جانے کا خوف (FOMO) انسان کو اندر ہی اندر مسلسل ذہنی تناؤ اور بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔
ذہنی صحت پر اس کا سب سے پہلا اور براہ راست اثر ہماری نیند کے نظام پر پڑتا ہے۔ وائی فائی اور اسمارٹ فونز کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے انسان اکثر دیر رات تک اسکرینز کی نیلی روشنی کے سامنے رہتا ہے۔ یہ روشنی جسم میں نیند لانے والے ہارمون ملاتونین (Melatonin) کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے نہ صرف نیند کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے بلکہ نیند کا معیار بھی خراب ہو جاتا ہے۔ نیند کی یہ مسلسل کمی آگے چل کر چڑچڑاپن، شدید تھکاوٹ، تمرکز کی صلاحیت میں کمی، اور بعد ازاں ڈپریشن اور انزائٹی جیسی سنگین نفسیاتی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس کے علاوہ، دائمی آن لائن موجودگی نے ہمارے حقیقی انسانی رشتوں کو بھی کھوکھلا کر دیا ہے۔ ایک ہی چھت تلے بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں بات کرنے کے بجائے اپنے اپنے فونز کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے جذبات و احساسات کا تبادلہ کرنے کی جو روایت کبھی ہماری جذباتی مضبوطی کا سبب تھی، وہ اب ماند پڑ چکی ہے۔ اس نام نہاد ڈیجیٹل ڈیوائسز کے طوفان نے فرد کو تنہائی اور جذباتی بیگانگی کے ایسے بند راستے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اکیلا محسوس کرتا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وائی فائی اور ڈیجیٹل آلات کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا جائے؟ یقیناً آج کی جدید اور مسابقتی دنیا میں ایسا کرنا ممکن ہے نہ ہی دانشمندی۔ اصل حل اس کے متوازن اور با شعور استعمال میں ہے، جسے ہم ‘ڈیجیٹل ویلنس’ یا ‘ڈیجیٹل ڈائیٹ’ کہہ سکتے ہیں۔
ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ حدود مقرر کرنا ہوں گی۔ مثال کے طور پر، کھانے کی میز پر اور سونے کے کمرے میں وائی فائی آلات کو مکمل بند رکھا جائے۔ رات کے وقت وائی فائی روٹر کو بند کرنے کی عادت نہ صرف نیند کو بہتر بناتی ہے بلکہ ذہن کو بھی سکون فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دن کا کچھ وقت ’ڈیجیٹل ڈی ٹوکس‘ کے لیے مخصوص کرنا بے حد ضروری ہے، جس میں فون اور لیپ ٹاپ سے دور رہ کر فطرت کے قریب وقت گزارا جائے، کتابیں پڑھی جائیں یا خاندان کے ساتھ وقت بتایا جائے۔
وائی فائی کے فائدے بے شمار ہیں، لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے اپنا خادم بناتے ہیں یا آقا۔ اگر ہم نے وقت رہتے اپنی ذہنی صحت کو ٹیکنالوجی پر ترجیح نہ دی، تو ڈیجیٹل ترقی کا یہ سفر انسان کو بظاہر تو دنیا سے جوڑ دے گا، لیکن وہ خود اپنے وجود اور سکون سے ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گا۔

رشتے انا سے نہیں، احساس سے نبھتے ہیں. محمد عابد رشید

آج کی بات . جب انسان کی جان نکل جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا، ڈاکٹر محمد ارشد

Digital Benefits

50% LikesVS
50% Dislikes

وائی فائی کے ڈیجیٹل فائدے اور ہماری ذہنی صحت کا نقصان. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں