Lucknow A City of Literature 0

لکھنؤ ادب اور تہذیب کا شہر ہے. ڈاکٹر محمد ارشد
کہتے ہیں کہ لکھنؤ کے لوگ اگر لڑتے بھی تھے تو ادب اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کی گفتگو میں غصہ بھی ہوتا تو لہجے میں تہذیب باقی رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنؤ کی تہذیب و شائستگی کے قصے آج بھی لوگوں کی گفتگو کا حصہ ہیں۔ وہاں الفاظ کے انتخاب، گفتگو کے انداز اور اختلاف کے اظہار میں بھی ایک خاص نفاست اور رکھ رکھاؤ نظر آتا تھا۔ ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ لکھنؤ کے دو بچوں میں کسی بات پر تکرار ہوگئی۔ ایک بچہ عالمِ رنج و غصہ میں دوسرے پر برس پڑا اور نہایت شائستگی سے گویا ہوا: “عالی جاہ! ہماری ایک دیرینہ قلبی حسرت ہے کہ آپ کے رخِ روشن پر ایسا زناٹے دار طمانچہ رسید کریں کہ آپ کے چہرۂ انور پر ہماری انگلیوں کے نشان ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جائیں، اور آپ تاحیات اس نشانِ ذلت کو لیے کوچہ کوچہ، قریہ قریہ اور بستی بستی گھومتے پھریں۔” دوسرا بچہ بھی لکھنؤ کی تہذیب کا پروردہ تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “جانِ عزیز! ایسی لاحاصل خواہشات کو اپنے دلِ ناداں میں جگہ دینے پر ہم محض مسکرا ہی سکتے ہیں۔ ہم چاہتے تو اس رَنِ پُرآشوب میں لفظی رسہ کشی کرتے ہوئے آپ کی محترم ہمشیرگان اور والدۂ محترمہ کی شانِ عالی میں غیر مناسب کلمات ادا کر سکتے تھے، مگر ہمارے والدِ بزرگوار نے ہمیں ہمیشہ اخلاق و شائستگی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔”
اس نے مزید کہا: “ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ایک ہی ہاتھ کی جنبش سے آپ کا رخسار مثلِ گلاب سرخ ہو سکتا تھا، مگر کیا کیجیے… قربان جائیے ہماری بے مثال تربیت پر، جو ہر بار ہمارے آڑے آ جاتی ہے!” یہی تو لکھنؤ کی تہذیب تھی؛ غصہ بھی آتا تھا تو الفاظ مہذب رہتے تھے، اور دھمکی بھی دی جاتی تھی تو انداز ایسا کہ سننے والا مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ اختلاف اپنی جگہ موجود تھا، غصہ بھی اپنی جگہ تھا، لیکن گفتگو میں شائستگی اور الفاظ میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا تھا۔ اس قصے میں دلچسپی کا پہلو یہی ہے کہ ایک طرف بچوں کے درمیان تکرار اور غصہ موجود ہے، مگر دوسری طرف اس غصے کے اظہار کا انداز بھی تہذیب سے خالی نہیں۔ بات سخت ہے، دھمکی بھی واضح ہے، لیکن الفاظ کا انتخاب ایسا ہے کہ تلخی کے بجائے مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہی انداز لکھنؤ کی تہذیب کی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب معمولی اختلاف بھی اکثر تلخ کلامی، سخت الفاظ اور رشتوں میں دوری کا سبب بن جاتا ہے، ایسے قصے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود زبان اور لہجے کی شائستگی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ انسان کے الفاظ صرف اس کی بات نہیں بتاتے بلکہ اس کی تربیت، شخصیت اور ظرف کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔بات چیت میں غصہ آ جانا انسانی فطرت ہے، اختلاف ہونا بھی فطری بات ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اختلاف کے وقت اپنی زبان اور لہجے پر کس قدر قابو رکھتا ہے۔ شائستگی صرف خوشگوار مواقع پر نرم گفتگو کرنے کا نام نہیں، بلکہ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان ناراض ہو، سامنے والے سے اختلاف رکھتا ہو اور پھر بھی اپنے الفاظ کی حدود کو قائم رکھے۔ لکھنؤ کی تہذیب سے منسوب یہ قصہ اسی بات کو ایک دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ دونوں بچوں کے درمیان تکرار ضرور ہوئی، مگر گفتگو میں ایسا انداز اختیار کیا گیا جس میں غصے کے باوجود زبان کی شائستگی برقرار رہی۔ یہی انداز اس قصے کو محض ایک مزاحیہ واقعہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے تربیت اور اخلاق کے ایک سبق میں بدل دیتا ہے۔ انسان کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ اس کے الفاظ سے پہچانا جاتا ہے۔ الفاظ نرم ہوں تو سخت بات بھی قابلِ برداشت بن سکتی ہے، جبکہ نامناسب الفاظ اچھی بات کا اثر بھی ختم کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اختلاف کے وقت زبان کا انتخاب بہت اہم ہے۔ بات اگر احترام کے ساتھ کہی جائے تو اختلاف کے باوجود تعلق برقرار رہ سکتا ہے، لیکن اگر لہجہ اور الفاظ حدود سے تجاوز کر جائیں تو معمولی اختلاف بھی بڑے فاصلے پیدا کر سکتا ہے۔ یہی تو لکھنؤ کی تہذیب تھی کہ غصہ بھی آتا تھا تو الفاظ مہذب رہتے تھے، اور دھمکی بھی دی جاتی تھی تو انداز ایسا ہوتا تھا کہ سننے والا مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ الفاظ میں سختی کے باوجود شائستگی کا رنگ نمایاں رہتا تھا اور اختلاف میں بھی اخلاقی حدود کا خیال رکھا جاتا تھا۔ سبق یہی ہے کہ الفاظ انسان کی تربیت، شخصیت اور ظرف کی پہچان ہوتے ہیں۔ اختلاف ہو تو بھی لہجہ ایسا رکھیں کہ بات ختم ہو، رشتہ نہیں۔

Lucknow A City of Literature

50% LikesVS
50% Dislikes

لکھنؤ ادب اور تہذیب کا شہر ہے. ڈاکٹر محمد ارشد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں