تخلیق کی خوشبو اور تدریس کا وقار. نسرین امیرزمان. میڈم عشرت بیگم کا ہیرو ایوارڈ.
کچھ لوگ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور کچھ اپنے فرائض کو فن بنا دیتے ہیں۔ میڈم عشرت بیگم کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو تدریس کو محض ایک ذمہ داری نہیں سمجھتیں بلکہ اسے تخلیق، محبت اور خدمت کا خوب صورت امتزاج بنا دیتی ہیں۔
انہیں ہیرو ایوارڈ سے نوازا جانا دراصل ایک ایسی شخصیت کی پذیرائی ہے جس نے درس گاہ کو صرف کتابوں اور تختی تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے تعلیمی فرائض کے ساتھ ساتھ اسکول کی خوب صورتی، سجاوٹ اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
ان کے ہاتھ میں معمولی سی چیز بھی تخلیقی حسن اختیار کر لیتی ہے۔ رنگ، کاغذ، چارٹ، دیوار اور کلاس روم کی ترتیب، سب ان کے ذوقِ جمال کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ خوب صورت ماحول بچوں کے ذہنوں پر خاموش مگر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا۔ وہ ماحول بناتا ہے۔ وہ بچوں کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے۔ وہ ایک عام سی دیوار کو تعلیمی پیغام بنا دیتا ہے اور ایک سادہ سی سرگرمی کو یادگار تجربے میں بدل دیتا ہے۔
میڈم عشرت بیگم کی یہی خوبی انہیں ممتاز بناتی ہے۔ ان کی شخصیت میں استاد بھی ہے، منتظم بھی، تخلیق کار بھی اور ایک ایسا حساس دل بھی جو بچوں کے لیے بہتر ماحول کی خواہش رکھتا ہے۔
ہیرو ایوارڈ کسی ایک دن کی کارکردگی کا نام نہیں۔ ایسے اعزاز کے پیچھے مسلسل محنت، وقت کی قربانی اور کام سے محبت کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ جب ایک استاد اپنے کام کو دل سے قبول کرتا ہے تو اس کے اثرات کلاس روم سے نکل کر پورے ادارے تک پھیل جاتے ہیں۔
یہاں سی ای او اٹک ڈاکٹر محمد اظہر محمود بھی خصوصی تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تعلیمی اداروں میں کام کرنے والی ایسی باصلاحیت شخصیات کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کو اہمیت دی۔ کسی بھی تعلیمی نظام میں ایوارڈ اور اعزاز صرف شیلڈ یا سند نہیں ہوتے۔ یہ محنت کرنے والوں کے لیے حوصلے کی روشنی ہوتے ہیں۔
ایک استاد جب دیکھتا ہے کہ اس کی محنت کو دیکھا جا رہا ہے، اس کے تخلیقی کام کو سراہا جا رہا ہے اور اس کی صلاحیت کو عزت دی جا رہی ہے تو اس کے اندر مزید بہتر کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی حوصلہ دوسرے اساتذہ کے لیے بھی تحریک بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اظہر محمود کی جانب سے ایسے تعلیمی کرداروں کی حوصلہ افزائی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعلیم صرف نصابی نتائج کا نام نہیں بلکہ شخصیت سازی، تخلیق، حسنِ ذوق اور مثبت سرگرمیوں کا مجموعہ بھی ہے۔
میڈم عشرت بیگم کا یہ اعزاز دوسرے اساتذہ کے لیے بھی ایک خوب صورت پیغام ہے۔ اپنی ذمہ داری کو معمول نہ سمجھیں۔ اسے اپنے فن کا حصہ بنائیں۔ کلاس روم کو زندگی دیں۔ بچوں کے لیے ماحول کو دل کش بنائیں۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
کیونکہ بعض اساتذہ کتاب کے صفحات پڑھاتے ہیں، جبکہ کچھ استاد بچوں کے دلوں پر اپنے کردار کی تحریر چھوڑ جاتے ہیں۔
میڈم عشرت بیگم کی کامیابی بھی اسی تحریر کی ایک روشن سطر ہے۔
ان کے ہاتھوں سے سجنے والا اسکول محض ایک عمارت نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں تعلیم کے ساتھ تخلیق بھی سانس لیتی ہے اور بچوں کے خواب بھی رنگ پاتے ہیں۔
ہیرو ایوارڈ پر میڈم عشرت بیگم کو دلی مبارک باد۔
یہ اعزاز ان کی محنت کا اعتراف بھی ہے اور مستقبل کی مزید خوب صورت تخلیقات کی نوید بھی۔
Dignity of Teaching:




