عنوان: “اگر اس دنیا میں سچا انصاف ہوتا تو جیلیں غریبوں سے نہیں، سیاستدانوں سے بھری ہوتیں” (نکولو میکاولی) محمد دلاور بلتستانی
یہ ایک جملہ نہیں، یہ ہمارے پورے نظام پر ایک چارج شیٹ ہے۔ میں جب بھی اس جملے کو پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے دو تصویریں آ جاتی ہیں۔ ایک تصویر اس مزدور کی ہے جس نے بھوک سے تنگ آ کر کہیں سے روٹی کا ایک ٹکڑا چرایا اور آج وہ ہتھکڑیوں میں عدالت کے باہر بیٹھا ہے۔ دوسری تصویر اس طاقتور سیاستدان کی ہے جس نے اربوں روپے کی کرپشن کی، اس قوم کے بچوں کا مستقبل بیچ دیا، اور وہ آج بھی وی آئی پی پروٹوکول میں، کالے شیشوں والی گاڑی میں بیٹھ کر ہمیں ایمانداری کا درس دے رہا ہے۔
ہمارا انصاف غریب کے لیے کیوں نہیں ہے اور صرف امیر کے لیے کیوں؟ ہمارے ملک کا قانون مکڑی کے اس جالے کی طرح ہے۔ اس جالے میں صرف کمزور مچھر اور مکھیاں پھنستی ہیں۔ بڑے بڑے بھنورے اور طاقتور کیڑے اس جالے کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ یہاں ایک غریب اگر بجلی کا کنڈا لگا لے تو اس پر چوری کا پرچہ ہو جاتا ہے۔ اسے جرمانہ بھی بھرنا پڑتا ہے اور جیل بھی جانا پڑتا ہے۔ لیکن جو لوگ پورے پورے محکمے، پوری پوری وزارت، پورا پورا خزانہ کھا جاتے ہیں، ان کے لیے نیب کے دروازے بھی دوسرے ہوتے ہیں، عدالتوں کے اوقات بھی دوسرے ہوتے ہیں۔
ان کے لیے بیماری کا بہانہ ہے، بیرون ملک علاج کا بہانہ ہے، ضمانت ہے، اور آخر میں ایک نیا NRO ہے۔
اصل مجرم کون ہے؟ اصل مجرم وہ نہیں جو جیل میں ہے۔ اصل مجرم وہ ہے جس کی وجہ سے وہ غریب جیل میں گیا۔ اگر سیاستدان نے اس ملک میں فیکٹریاں لگائی ہوتیں تو آج کسی کو چوری نہ کرنی پڑتی۔
اگر سیاستدان نے تعلیم عام کی ہوتی تو آج کوئی ڈاکو نہ بنتا۔ اگر سیاستدان نے اسپتال بنائے ہوتے تو کوئی ماں اپنے بچے کو کندھے پر اٹھا کر نہ مرتی۔
تو بتائیے، جیل میں غریب کو ہونا چاہیے یا اس نظام کو بنانے والے کو؟ میں یہ نہیں کہتا کہ سارے سیاستدان چور ہیں۔ اس ملک میں اچھے، ایماندار اور درد دل رکھنے والے سیاستدان بھی موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے نظام ایسا بنا دیا گیا ہے کہ ایماندار پیچھے رہ جاتا ہے اور بے ایمان آگے نکل جاتا ہے۔جس دن اس ملک میں ایک غریب کی چوری اور ایک وزیر کی کرپشن پر ایک ہی قانون لگا، اسی دن یہ ملک بدل جائے گا۔
انصاف صرف سزا کا نام نہیں، انصاف برابری کا نام ہے۔ اور جب تک برابری نہیں آئے گی، یہ جملہ سچ ثابت ہوتا رہے گا کہ “جیلیں غریبوں کے لیے ہیں، سیاستدانوں کے لیے نہیں”۔
True Justice Existed




