انسان مجبور کیوں ہے؟ : لیکچرار عزت علی پارا چنار
انسان بظاہر آزاد ہے۔ وہ چلتا ہے، بولتا ہے، سوچتا ہے، فیصلے کرتا ہے، راستے منتخب کرتا ہے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر اگر کبھی وہ چند لمحوں کے لیے دنیا کے شور سے الگ ہو کر اپنے اندر اترے تو شاید اسے احساس ہو کہ آزادی کا یہ دعویٰ اتنا سادہ نہیں۔ انسان کے ہاتھ آزاد دکھائی دیتے ہیں، مگر اس کی انگلیوں میں کئی ایسی ڈوریاں بندھی ہوتی ہیں جنہیں وہ خود بھی ہمیشہ نہیں دیکھ پاتا۔ کبھی حالات اسے باندھتے ہیں، کبھی رشتے، کبھی معاشرہ، کبھی خوف، کبھی خواہش اور کبھی اس کا اپنا ذہن۔
آخر انسان مجبور کیوں ہے۔ شاید اس لیے کہ انسان صرف ایک فرد نہیں ، وہ ایک پورا معاشرہ اپنے اندر لیے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی سوچ پر گھر کی تربیت کے نقوش ہوتے ہیں، اس کے فیصلوں پر معاشرتی اقدار کا سایہ، اس کے خوابوں پر زمانے کی چھاپ اور اس کے خوف کے پیچھے ماضی کے کئی واقعات کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر آج فیصلہ کرتا ہے، مگر اس فیصلے کے پیچھے کئی گزرے ہوئے کل بول رہے ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ بڑا ہو کر اسے کیا بننا ہے۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد اسے بتایا جانے لگتا ہے کہ اسے کیا بننا چاہیے۔ اسے سکھایا جاتا ہے کہ کس چیز پر خوش ہونا ہے، کس بات پر شرمندہ ہونا ہے، کس راستے کو عزت کا راستہ سمجھنا ہے اور کس خواہش کو دل میں ہی دفن کر دینا ہے۔ یوں انسان کے خواب بھی کبھی کبھی اس کے اپنے نہیں رہتے ، وہ معاشرے کے عطا کردہ خواب دیکھنے لگتا ہے۔ پھر جوانی آتی ہے، اور انسان آزادی کے سبز میدان میں قدم رکھنے کا خواب دیکھتا ہے۔ مگر یہاں بھی دیواریں اس کا استقبال کرتی ہیں۔ روزگار کی ضرورت اسے ایسے کام پر مجبور کر سکتی ہے جس سے اس کا دل کبھی وابستہ نہ ہو۔ خاندان کی ذمہ داریاں اسے اپنی خواہشیں مؤخر کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ معاشی حالات اسے ایسے فیصلے کرواتے ہیں جنہیں وہ آزادانہ حالات میں کبھی نہ کرتا۔ وہ مسکراتا ہے، کام کرتا ہے، ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے ،حالاں کہ اس کے اندر کوئی شخص مسلسل پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کیا واقعی یہی زندگی میں چاہتا تھا۔
مگر انسان کی سب سے گہری مجبوری شاید معاشرہ نہیں، لوگوں کی نظر ہے۔
ہم دوسروں کے بارے میں بہت کچھ سوچتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ دوسروں کے بارے میں سوچنا اپنی زندگی کا پیمانہ بنا لیتے ہیں۔ لباس ایسا کہ لوگ کیا کہیں گے، پیشہ ایسا کہ خاندان کیا کہے گا، رشتہ ایسا کہ معاشرہ کیا سوچے گا، خاموشی ایسی کہ کوئی سوال نہ کرے۔ انسان کبھی کبھی اپنی پوری زندگی ایک ایسے تماشائی کو خوش کرنے میں گزار دیتا ہے جو شاید اس کے بارے میں اتنا سوچتا بھی نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اور پھر آتا ہے خوف۔ خوف انسان کی وہ زنجیر ہے جو لوہے کی نہیں ہوتی، مگر سب سے مضبوط ہوتی ہے۔ ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف، محبت کھونے کا خوف، معاشی عدم تحفظ کا خوف، لوگوں کے چھوڑ جانے کا خوف، اور سب سے بڑھ کر خود کو ناکام ثابت ہونے کا خوف۔ بعض اوقات انسان قید خانے میں اس لیے نہیں رہتا کہ دروازہ بند ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے باہر نکلنے سے ڈر لگتا ہے۔
انسان اپنی عادتوں کا بھی قیدی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کچھ چیزیں اسے اندر سے توڑ رہی ہیں، پھر بھی انہیں چھوڑ نہیں پاتا۔ جانتا ہے کہ بعض رشتے اس کے سکون کو کھا رہے ہیں، مگر جدائی کے خوف سے ان میں رہتا ہے۔ جانتا ہے کہ کچھ خواہشیں اسے مسلسل بے چین رکھتی ہیں، مگر ان خواہشوں کے بغیر زندگی اسے بے رنگ محسوس ہوتی ہے۔ یوں انسان کبھی کبھی زنجیر کو زنجیر نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ اس کے ساتھ جینا سیکھ چکا ہوتا ہے۔
نفسیات کا ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ انسان کبھی کبھی اپنے ہی بنائے ہوئے کردار کا قیدی بن جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ مضبوط دکھائی دیتا رہا تو ایک دن اسے رونے میں بھی شرم محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ سب کا سہارا بنتا رہا تو اسے خود سہارا مانگنا کمزوری لگنے لگتا ہے۔ وہ ہر مشکل کو مسکرا کر سہتا رہا تو دنیا یہ بھول جاتی ہے کہ مسکرانے والے انسان کے اندر بھی ایک دل ہوتا ہے جو تھک سکتا ہے۔ مگر انسان صرف نفسیاتی اور سماجی مجبوریوں کا نام نہیں۔ اس کے اندر ایک روح بھی ہے، اور روح کی اپنی پیاس ہے۔
انسان دنیا کی بہت سی چیزیں حاصل کر کے بھی بے چین رہتا ہے، کیونکہ روح کو ہر کامیابی سے سکون نہیں ملتا۔ اسے معنی چاہیے، مقصد چاہیے، تعلق چاہیے، یقین چاہیے۔ جسم روٹی سے سیر ہو سکتا ہے، مگر روح صرف روٹی سے مطمئن نہیں ہوتی۔ انسان کے پاس محل ہو سکتا ہے،لیکن اگر دل میں سکون نہ ہو تو وہ محل بھی ایک وسیع و عریض زندان بن جاتا ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی روحانی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنی محدودیت کو قبول نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ہر چیز اپنے اختیار میں رکھنا چاہتا ہے، حالاں کہ زندگی اسے بار بار یاد دلاتی ہے کہ تمہاری مرضی کی بھی ایک حد ہے۔ تم کوشش کر سکتے ہو، مگر ہر نتیجہ تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ تم محبت کر سکتے ہو، مگر ہر محبت کا انجام تم طے نہیں کر سکتے۔ تم کسی کو روکنے کی خواہش رکھ سکتے ہو، مگر ہر جانے والے کے قدم نہیں باندھ سکتے۔
یہیں سے انسان کو تقدیر، توکل اور رضا کا مفہوم سمجھ آتا ہے۔ روحانی پختگی شاید یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ کوشش کے بعد نتیجے کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ انسان اپنے حصے کی کشتی چلا سکتا ہے، مگر ہر موج کو حکم نہیں دے سکتا۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان واقعی بے اختیار ہے؟ نہیں ، مجبوری اور بے اختیاری میں فرق ہے۔ حالات ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے، مگر حالات کے جواب میں ہمارا رویہ اکثر ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔ ہم ہر زخم کو روک نہیں سکتے، مگر زخم کے بعد نفرت بننا یا بصیرت، اس میں کچھ انتخاب ہمارا بھی ہوتا ہے۔ ہم ہر جدائی کو روک نہیں سکتے، مگر جدائی کے بعد اپنی زندگی کو ختم سمجھ لینا ضروری نہیں۔ ہم ہر ناکامی سے بچ نہیں سکتے، مگر ناکامی کو اپنی شناخت بنا لینا بھی لازم نہیں۔
انسان کی اصل آزادی شاید یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے اندر ایک چھوٹا سا گوشہ محفوظ رکھے جہاں دنیا کی کوئی طاقت اس کے فیصلے، امید اور ضمیر کو مکمل طور پر قید نہ کر سکے۔ اس لیے انسان مجبور ہے، مگر مکمل طور پر بے بس نہیں ، وہ حالات کا پابند ہے، مگر اپنے ردِعمل میں کچھ آزاد ہے۔ وہ معاشرے سے بندھا ہے، مگر اپنی سوچ میں کچھ آزاد ہے۔ وہ رشتوں کا محتاج ہے، مگر اپنی شناخت میں کچھ آزاد ہے۔ وہ جسم کی ضروریات رکھتا ہے، مگر اپنی خواہشوں کا غلام ہونا ضروری نہیں۔ وہ تقدیر کی حدود میں ہے، مگر کوشش سے دست بردار ہونا اس کی تقدیر نہیں۔ شاید انسان کی پوری زندگی اسی کشمکش کا نام ہے ، جو ہمارے اختیار میں نہیں، اسے قبول کرنا اور جو ہمارے اختیار میں ہے، اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
چار دیواری میں قید بیٹی کی چیخیں. بتول فاطمہ
Man Helpless




