Daughter Imprisoned Within Four Walls 0

چار دیواری میں قید بیٹی کی چیخیں. بتول فاطمہ
کچھ بیٹیاں گھروں میں رہتی نہیں، گھروں میں قید ہوتی ہیں۔ ان کے لیے چار دیواریاں تحفظ کا حصار نہیں رہتیں بلکہ ایسی خاموش دیواریں بن جاتی ہیں جن سے ٹکرا کر ان کے خواب، خواہشیں اور صلاحیتیں روز دم توڑتی ہیں۔ ان کی چیخیں باہر نہیں آتیں، کیونکہ گھر کی عزت کے نام پر سب سے پہلے ان کی آواز ہی چھین لی جاتی ہے۔
وہ بیٹی جس کا باپ مال و دولت تو رکھتا ہے مگر انسانیت نہیں رکھتا۔ اپنے بیٹوں کے مستقبل کے لیے جائیدادیں بناتا ہے، زمینیں خریدتا ہے، کاروبار کھڑے کرتا ہے، مگر بیٹی کے حصے میں صرف چند نصیحتیں آتی ہیں: عزت سے رہنا، سر جھکا کر چلنا، زیادہ بولنا نہیں، اپنی خواہشوں کو گھر کی دیواروں سے باہر نہ جانے دینا۔ بیٹی کے سر پر عزت کی ایسی پگڑی رکھ دی جاتی ہے جس کا بوجھ وہ عمر بھر اٹھاتی رہتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کس سے بات کرنی ہے، کیا پہننا ہے، کیا پڑھنا ہے، کب ہنسنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ یوں اس کی زندگی آہستہ آہستہ اس کے اپنے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کے فیصلوں کی محتاج ہو جاتی ہے۔
اسی گھر میں بیٹے ہر آزادی کے حق دار سمجھے جاتے ہیں۔ وہ رات گئے گھر لوٹیں تو کہا جاتا ہے، ’’لڑکے ہیں، ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔‘‘ پڑھائی چھوڑ دیں تو کوئی قیامت نہیں آتی، کاروبار میں نقصان کر دیں تو دوبارہ سنبھلنے کا موقع مل جاتا ہے، مگر بیٹی اگر اپنے خوابوں کا ذکر بھی کر دے تو خاندان کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ نالائق اور نکمے بیٹے عیش و عشرت میں پلتے ہیں اور وہ بیٹی، جس کے اندر آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جس کے ہاتھ میں قلم ہو تو وہ اپنے خاندان کی تقدیر بدل سکتی ہے، جسے تعلیم مل جائے تو وہ آنے والی نسلوں کی تربیت کر سکتی ہے، اسے ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
کبھی تو تعلیم بھی اسے لڑ جھگڑ کر حاصل ہوتی ہے، جیسے تعلیم اس کا حق نہیں بلکہ کسی کی عطا ہو۔ اسے اپنی زندگی کے فیصلوں کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ وہ ایک ایسی بکری بن کر رہ جاتی ہے جس کی رسی ایک ہاتھ سے کھولی جاتی ہے اور دوسرے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے؛ پہلے باپ کے اختیار میں، پھر شوہر کے اختیار میں۔
یہاں ایک بات بالکل واضح کر دینا ضروری ہے: یہاں فیمینزم کی بات نہیں ہو رہی، اسلامی حقوق کی بات ہو رہی ہے۔ مجھے کوئی بھی اس تحریر کو ’’اسلامی فیمینزم‘‘ کا نام نہ دے، کیونکہ اسلام اور فیمینزم دو الگ تصورات ہیں۔ اسلام نے عورت کو حقوق کسی جدید تحریک کے زیرِ اثر نہیں دیے، بلکہ قرآن و سنت نے عورت کو عزت، وراثت، ملکیت، تعلیم، نکاح میں رضامندی اور حسنِ معاشرت جیسے حقوق عطا کیے۔ یہاں مطالبہ کسی مغربی نظریے کی پیروی کا نہیں، بلکہ ان اسلامی حقوق کی پاسداری کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے عورت کو عطا کیے ہیں۔
اسلام نے بیٹی کو بوجھ نہیں کہا بلکہ اس کی پرورش کو باعثِ اجر قرار دیا۔ قرآن نے اس معاشرے کو جھنجھوڑا جس میں بیٹی کی پیدائش پر چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے اور بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا اور اس کے مال کو اس کی ملکیت قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔‘‘ (النساء: 7)
رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو انسان کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ وہ دین ہے جو بیٹی کو رحمت بناتا ہے، نہ کہ اس کی زندگی کو قید اور اذیت میں بدلنے کی اجازت دیتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہیں۔ وہ باوقار اور صاحبِ حیثیت خاتون تھیں اور تجارت سے وابستہ تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا علم و فقہ میں ایسا مقام رکھتی تھیں کہ بڑے بڑے صحابہؓ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ یہ ہمارے لیے اس بات کی مثالیں ہیں کہ اسلام عورت کی عزت، صلاحیت اور علمی کردار کو مٹانے کا نام نہیں۔
لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسا تاریک پہلو بھی ہے جس پر بات کرتے ہوئے قلم کانپتا ہے۔ پنجاب کے اندر اور ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں جن رشتوں کو بچی کے لیے سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، وہی رشتے اس کے لیے خوف بن جاتے ہیں۔ کبھی سگا باپ، کبھی سگا بھائی، کبھی کوئی قریبی رشتہ دار—وہ درندہ بن جاتا ہے جس سے بچانے کے لیے بچی کو کسی اجنبی سے نہیں بلکہ اپنے ہی گھر کی چار دیواری سے تحفظ چاہیے ہوتا ہے۔
یہ صرف بدکاری یا زیادتی کا لفظ نہیں؛ یہ ایک معصوم وجود کی روح پر حملہ ہے۔ وہ بچی جسے باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا تھا، کبھی اسی باپ سے خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ جس بھائی کو اس کا محافظ ہونا تھا، کبھی اسی کے وجود سے وہ سہمی رہتی ہے۔ گھر، جو اس کے لیے دنیا کی محفوظ ترین جگہ ہونا چاہیے، اگر وہیں اس کی عصمت، عزت اور بچپن خطرے میں پڑ جائے تو پھر ہم کس چیز کی حفاظت کر رہے ہیں؟
اور افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے گھروں میں ایسی بچیوں کی چیخیں دیواروں کے اندر ہی دفن کر دی جاتی ہیں۔ کبھی خاندان کی عزت کے نام پر، کبھی بدنامی کے خوف سے، کبھی اس سوچ کے تحت کہ ’’بات باہر نکل گئی تو کیا ہوگا؟‘‘ مگر ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی۔ عزت مجرم کی خاموشی میں نہیں، مظلوم کی حفاظت میں ہے۔
یہاں ہر شخص کو اپنا کردار پہچاننا ہوگا۔ والدین کو اپنی بیٹیوں کی بات سننی ہوگی۔ ماؤں کو اپنی بیٹی کو صرف صبر کرنا نہیں بلکہ غلط اور صحیح میں فرق کرنا، اپنی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بھی سکھانا ہوگا۔ بھائی کو محافظ بننا ہوگا، مالک نہیں۔ باپ کو سایہ بننا ہوگا، خوف نہیں۔ استاد، عالمِ دین، صحافی، سماجی کارکن، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور صاحبِ اختیار ہر فرد کو اس مسئلے کو محض ایک خبر سمجھ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے۔
جس کے اختیار میں جو ہے، اسے وہیں سے آواز اٹھانی ہوگی۔
اگر آپ والد ہیں تو اپنی بیٹی کے لیے محفوظ باپ بنیں۔ اگر آپ بھائی ہیں تو اس کے محافظ بنیں۔ اگر آپ استاد ہیں تو اس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کسی ادارے میں اختیار رکھتے ہیں تو شکایت کو دبانے کے بجائے انصاف تک پہنچائیں۔ اگر آپ لکھ سکتے ہیں تو لکھیں، بول سکتے ہیں تو بولیں، آواز پہنچا سکتے ہیں تو پہنچائیں۔
کیونکہ بیٹی نعمت ہے۔ بیوی ایک انسان ہے، اس کا اپنا مقام اور حقوق ہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی۔ اور عورت محض کسی رشتے کا نام نہیں، وہ ایک مکمل انسانی وجود ہے جس کی حرمت اسلام نے واضح کی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں اس وجود کی حرمت خطرے میں ہے۔ ہمیں صرف افسوس نہیں کرنا، آواز اٹھانی ہے۔ خاموشی ہمیشہ غیر جانب داری نہیں ہوتی؛ بعض اوقات خاموشی ظالم کو مزید طاقت دیتی ہے۔
چار دیواروں کے اندر اگر کسی بیٹی کی چیخ سنائی دے تو اسے ’’گھر کا معاملہ‘‘ کہہ کر خاموش نہ ہوں۔ اسے ایک انسان کی فریاد سمجھیں۔ اس کی آواز کو اپنی آواز بنائیں۔
کیونکہ جس دن معاشرہ بیٹی کی چیخ سن کر خاموش رہنا چھوڑ دے گا، اسی دن شاید بہت سی بیٹیاں پہلی مرتبہ اپنے گھروں کی چار دیواری کو قید خانہ نہیں، محفوظ آنگن محسوس کریں گی۔
بیٹی کو قید نہیں، تحفظ چاہیے۔ اسے خوف نہیں، اعتماد چاہیے۔ اسے خاموشی نہیں، آواز چاہیے۔
اور آج اس آواز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

Daughter Imprisoned Within Four Walls

50% LikesVS
50% Dislikes

چار دیواری میں قید بیٹی کی چیخیں. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں