independence day of pakistan 0

آزادی کی قدر، قوم کی پہچان. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس)، امریکا
قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض کیلنڈر کی تاریخیں نہیں ہوتے بلکہ وہ ان کی اجتماعی یادداشت، تہذیبی شناخت اور قومی شعور کے آئینہ دار بن جاتے ہیں۔ چودہ اگست بھی پاکستان کے لیے ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ دن ہمیں صرف ایک آزاد ریاست کے قیام کی خبر نہیں دیتا بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کیا ہم نے آزادی کی اس نعمت کی قدر بھی کی ہے جس کے لیے لاکھوں انسانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا؟

ہر سال جشنِ آزادی کے موقع پر سبز ہلالی پرچم فضاؤں میں لہراتے ہیں، ملی نغمے گونجتے ہیں، عمارتیں روشنیوں سے جگمگا اٹھتی ہیں اور وطن سے محبت کے جذبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ یہ منظر یقیناً خوش آئند ہے لیکن اگر یہ ساری خوشیاں صرف ایک دن کی رسم بن کر رہ جائیں اور باقی سال ہمارے کردار میں آزادی کی روح دکھائی نہ دے تو ایسے جشن اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ آزادی کا اصل چراغ عمارتوں پر نہیں بلکہ انسان کے ضمیر میں روشن ہونا چاہیے۔

پاکستان کا قیام محض سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور تاریخی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ یہ ان لوگوں کے خوابوں کی تعبیر تھا جنہوں نے اس یقین کے ساتھ قربانیاں دیں کہ آنے والی نسلیں عزت، خودداری اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ان کے لیے آزادی صرف سرحدوں کا نام نہیں تھی بلکہ انسان کی عزت، مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور بہتر مستقبل کی ضمانت تھی۔

لیکن تاریخ کا ایک اصول ہے کہ آزادی حاصل کرنا نسبتاً آسان اور اسے زندہ رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ قومیں بیرونی دشمنوں سے کم اور اپنی اندرونی کمزوریوں سے زیادہ شکست کھاتی ہیں۔ جب قانون کی جگہ طاقت، دیانت کی جگہ مفاد، اتحاد کی جگہ انتشار اور خدمت کی جگہ خود غرضی لے لے تو آزادی کا وجود باقی رہتا ہے مگر اس کی روح کمزور پڑنے لگتی ہے۔

ایک آزاد معاشرے کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کے پاس ایک پرچم، ایک ترانہ یا ایک جغرافیہ موجود ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے ذمہ دار، باکردار اور انصاف پسند ہیں۔ آزادی کا سب سے خوبصورت اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ایک شہری قانون کی پابندی کرتا ہے، دیانت داری سے اپنا فرض ادا کرتا ہے، قومی وسائل کو امانت سمجھتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہم کبھی کبھی آزادی کے جشن کو صرف جذبات کا اظہار سمجھ لیتے ہیں جبکہ آزادی کا تقاضا کردار کی تعمیر ہے۔ اگر جشن کے بعد ہماری سڑکیں گندگی سے بھر جائیں، قومی املاک کو نقصان پہنچے، قانون پامال ہو اور معاشرے میں بے حسی بڑھتی رہے تو ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی آزادی کا حق ادا کر رہے ہیں۔

آج کی دنیا میں ترقی صرف معاشی قوت کا نام نہیں بلکہ فکری بالیدگی، سائنسی تحقیق، اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ جن قوموں نے اپنی آزادی کو نظم و ضبط، تعلیم، انصاف اور مسلسل محنت سے جوڑ دیا، وہ دنیا کی قیادت کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی آزادی کو صرف ایک یادگار دن کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی کی عملی قدر بنا سکتے ہیں؟

یومِ آزادی ہمیں ماضی پر فخر کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے۔ اس دن ہمیں صرف اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو سلام نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے ضمیر کا محاسبہ بھی کرنا چاہیے۔ ہم میں سے ہر فرد خود سے یہ سوال کرے کہ کیا میرا کردار پاکستان کو مضبوط بنا رہا ہے یا کمزور؟ کیا میری دیانت، میری محنت، میری شہری ذمہ داری اور میرا اخلاق اس آزادی کے شایانِ شان ہے جس کی بنیاد لاکھوں قربانیوں پر رکھی گئی تھی؟

حقیقت یہ ہے کہ آزادی صرف ایک سیاسی نعمت نہیں بلکہ ایک اخلاقی امانت بھی ہے۔ اس امانت کی حفاظت ہتھیاروں سے پہلے کردار کرتا ہے، نعروں سے پہلے عمل کرتا ہے اور دعووں سے پہلے دیانت کرتی ہے۔ جب ایک قوم اپنی آزادی کو صرف حق نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھنے لگتی ہے تو اس کی ترقی کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

بلاشبہ آزادی کی قدر ہی قوم کی اصل پہچان ہے۔ زندہ قومیں اپنی تاریخ پر صرف فخر نہیں کرتیں بلکہ اس سے سبق بھی سیکھتی ہیں۔ وہ اپنے ماضی کی قربانیوں کو حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی کامیابی میں بدل دیتی ہیں۔ اگر ہم بھی آزادی کو جشن سے آگے بڑھ کر شعور، کردار اور عمل کا عنوان بنا لیں تو پاکستان صرف ایک آزاد ملک نہیں بلکہ ایک باوقار، مضبوط اور مثالی ریاست بن سکتا ہے۔ یہی یومِ آزادی کا اصل پیغام ہے اور یہی وہ عہد ہے جسے ہر نسل کو نئی قوت اور نئے یقین کے ساتھ نبھانا ہوگا۔

گلگت بلتستان اور پاکستان کا مستقبل ہمارے نوجوان ہیں اور ہم سب کی امیدیں انہی سے وابستہ ہیں۔ ہمارے لیے فخر کا مقام ہے. وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام

ڈیجیٹل بت پرستی .ہم نے بت توڑ دیے ہیں. بتول فاطمہ

عنوان . آخر کب تک . آمینہ یونس ،بلتستانی
independence day of pakistan

50% LikesVS
50% Dislikes

آزادی کی قدر، قوم کی پہچان. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس)، امریکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں