مسرت نذیر: شہرت کے عروج سے خاموش ہجرت تک. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کچھ فن کار اپنے عہد میں مقبول ہوتے ہیں، کچھ اپنے عہد کی پہچان بن جاتے ہیں اور پھر چند ایسے نام بھی ہوتے ہیں جن کے بغیر کسی پورے فن کی تاریخ ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ مسرت نذیر کا شمار انہی فن کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک کامیاب اداکارہ اور گلوکارہ نہیں تھیں بلکہ پاکستانی فلم اور موسیقی کے اس سنہری دور کی نمائندہ تھیں جب فن کار کی مقبولیت کا اندازہ سوشل میڈیا کے لائکس اور فالوورز سے نہیں بلکہ سینما گھروں کے باہر لگی قطاروں، ریڈیو پر بجنے والے نغمات اور عوام کے دلوں میں بس جانے والے کرداروں سے ہوتا تھا۔
مسرت نذیر کی زندگی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہیں شہرت اس وقت ملی جب وہ اس کی تلاش میں نہیں تھیں اور انہوں نے شہرت کو اس وقت چھوڑ دیا جب وہ اپنے عروج پر تھیں۔ آج کے زمانے میں جب لوگ چند لمحوں کی مقبولیت کے لیے بھی غیر معمولی کوشش کرتے ہیں، مسرت نذیر کی داستان ایک ایسے فن کار کی کہانی معلوم ہوتی ہے جس نے شہرت کو اپنی منزل نہیں بلکہ زندگی کا ایک مرحلہ سمجھا۔
مسرت نذیر خواجہ 13 اکتوبر 1940 کو لاہور کے ایک تعلیم یافتہ کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں۔ والد لاہور میونسپل کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے اور خاندان کی خواہش تھی کہ بیٹی تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بنے۔ اسی مقصد کے تحت انہیں کنیئرڈ کالج جیسے معتبر تعلیمی ادارے میں تعلیم دلوائی گئی لیکن زندگی ہمیشہ وہ راستہ اختیار نہیں کرتی جو والدین یا خود انسان اس کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ مسرت نذیر کے اندر موسیقی کا شوق موجود تھا اور یہی شوق رفتہ رفتہ ان کے مستقبل کا تعین کرنے لگا۔
1951-52 کے دوران انہوں نے ریڈیو پاکستان سے گلوکاری کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو پاکستان نئے فن کاروں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم تھا اور یہی وہ جگہ تھی جہاں کئی آوازوں نے پہلی بار عوام تک رسائی حاصل کی۔ مسرت نذیر بھی اپنی آواز کے ذریعے لوگوں تک پہنچیں لیکن ان کے لیے ریڈیو کا سفر ابھی ایک بڑے اور غیر متوقع مرحلے کا آغاز تھا۔
ایک موقع پر وہ فلم ساز انور کمال پاشا کے پاس گلوکاری کا موقع حاصل کرنے کی خواہش لے کر گئیں۔ انور کمال پاشا نے ان میں گلوکارہ سے زیادہ ایک اداکارہ دیکھی اور انہیں فلم میں ہیروئن بننے کا مشورہ دیا۔ یہی وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے ایک تعلیم یافتہ گھرانے کی اس لڑکی کو پاکستانی فلمی صنعت کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں لا کھڑا کیا۔ انور کمال پاشا نے ہی انہیں فلمی نام “چاندنی” دیا اور آنے والے برسوں میں یہی چاندنی پاکستانی سینما کے پردے پر پوری آب و تاب سے جگمگاتی رہی۔
مسرت نذیر نے 1955 میں فلم ’’قاتل‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں کردار محدود تھا لیکن اسی سال پنجابی فلم “پتن” میں سنتوش کمار کے مقابل مرکزی کردار نے انہیں عوامی مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد “ماہی منڈا”، “یکے والی”، “باغی”، “جٹی”، “زہرِ عشق”، ’”جھومر”، “کارتار سنگھ” اور “شہید” جیسی فلمیں ان کے کریڈٹ پر آتی گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس زمانے کی مقبول ترین ہیروئنز میں شمار ہونے لگیں۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستانی فلمی صنعت اپنے قدم مضبوط کر رہی تھی۔ صبیحہ خانم، نورجہاں، نیئر سلطانہ، نیلو اور بہار بیگم جیسی باصلاحیت اور مقبول اداکارائیں پردۂ سیمیں پر موجود تھیں۔ ایسے ماحول میں اپنی الگ شناخت قائم کرنا آسان نہیں تھا لیکن مسرت نذیر کی شخصیت میں موجود معصومیت، اداکاری میں بے ساختگی اور پردے پر ان کی فطری موجودگی نے انہیں دوسری اداکاراؤں سے ممتاز کردیا۔ ان کی مقبولیت کا راز صرف حسن نہیں تھا بلکہ وہ کردار کو اس سادگی سے ادا کرتی تھیں کہ ناظر کو مصنوعی پن محسوس نہیں ہوتا تھا۔
“کرتار سنگھ” جیسی فلم میں ان کی موجودگی اس دور کے پاکستانی سینما کی ایک بڑی مثال ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فلمیں محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھیں بلکہ تقسیم، ہجرت، محبت، قربانی اور انسانی المیے جیسے موضوعات بھی بڑے پردے پر پیش کیے جاتے تھے۔ مسرت نذیر نے اسی ماحول میں اپنے فن کو منوایا اور ثابت کیا کہ ایک مقبول اداکارہ سنجیدہ اور یادگار کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔
ان کے فن کا اعتراف صرف عوامی مقبولیت تک محدود نہیں رہا۔ انہیں 1958 میں “زہرِ عشق”، 1959 میں “جھومر” اور 1962 میں “شہید” کے لیے بہترین اداکارہ کے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تین مرتبہ بہترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ صرف ایک مقبول فلمی چہرہ نہیں بلکہ اپنی اداکاری کے باعث باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ فن کارہ تھیں۔ بعدازاں حکومت پاکستان نے بھی ان کی فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں 1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
مگر مسرت نذیر کی زندگی کا سب سے حیران کن موڑ ابھی باقی تھا۔ 1963 میں جب ان کا فلمی کیریئر اپنے عروج پر تھا، انہوں نے ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوکر کینیڈا منتقل ہوگئیں۔ یہ فیصلہ اس زمانے کے اعتبار سے بھی غیر معمولی تھا۔ ایک ایسی اداکارہ جس کے پاس شہرت تھی، ایوارڈز تھے، فلمی دنیا میں مقام تھا اور مستقبل میں مزید کامیابیوں کے بے شمار امکانات موجود تھے، اس نے اچانک یہ سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ فیصلہ ہمیں مسرت نذیر کی شخصیت کا ایک مختلف رخ دکھاتا ہے۔ انہوں نے شاید یہ محسوس کیا کہ زندگی صرف فلمی شہرت کا نام نہیں۔ انہوں نے اپنی ترجیحات طے کیں اور خاندان، ازدواجی زندگی اور نجی سکون کو اپنی ترجیح بنایا۔ یہ فیصلہ درست تھا یا غلط، اس کا فیصلہ ہر شخص اپنے زاویۂ نظر سے کرسکتا ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیا۔ انہوں نے شہرت کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔
مسرت نذیر کی کہانی کا حسن یہ ہے کہ فلمی دنیا سے دوری کے باوجود ان کا فن ختم نہیں ہوا۔ برسوں بعد ان کی آواز نے ایک نئے انداز میں پاکستان کے گھروں میں واپسی کی۔ 1980 کی دہائی میں جب ان کے گیت دوبارہ عوام تک پہنچے تو ایک نئی نسل نے بھی انہیں گلوکارہ کے طور پر دریافت کیا۔ 1983 میں طارق عزیز شو کے ذریعے ان کی آواز ایک بار پھر لوگوں کے کانوں تک پہنچی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے پنجابی اور اردو گیت گھروں، شادی بیاہ کی تقریبات اور نجی محفلوں کا حصہ بن گئے۔
“میرا لونگ گواچا”، “چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ”، “لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا”، “چٹا ککڑ بنیرے تے” اور “مہندی نی مہندی” جیسے گیتوں نے مسرت نذیر کو صرف ماضی کی ایک فلمی اداکارہ نہیں رہنے دیا۔ ان کی آواز نے انہیں ایک ایسی ثقافتی شناخت عطا کردی جو فلمی شہرت سے کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوئی۔ خاص طور پر “میرا لونگ گواچا” آج بھی شادی بیاہ کی تقریبات اور مہندی کی محفلوں میں سنائی دیتا ہے۔ یہ کسی بھی فن کار کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اس کا فن کسی ایک نسل کا قیدی نہ رہے بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہے۔
مسرت نذیر کی زندگی کو اگر صرف ایک کامیاب اداکارہ کی سوانح سمجھا جائے تو شاید اس کا اصل سبق ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ ان کی داستان دراصل شہرت، ترجیحات اور زندگی کے انتخاب کی داستان ہے۔ آج کا زمانہ انسان کو مسلسل زیادہ نمایاں ہونے، زیادہ مشہور ہونے اور ہر وقت دوسروں کی نظروں میں رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں مسرت نذیر کا فیصلہ ایک مختلف سوال اٹھاتا ہے کہ کیا شہرت واقعی زندگی کی آخری منزل ہے؟
مسرت نذیر کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کے لیے آج کے بے شمار لوگ ترستے ہیں مگر انہوں نے ایک وقت پر یہ فیصلہ کیا کہ ذاتی زندگی اور خاندان کو ترجیح دینی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی شخصیت میں ایک خاص وقار محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے شہرت کو ٹھکرایا نہیں بلکہ اس پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔ وہ چاہتیں تو فلمی دنیا میں مزید برسوں تک رہ سکتی تھیں لیکن انہوں نے خود فیصلہ کیا کہ کب پردے سے ہٹنا ہے۔ یہی خود اختیاری ان کی شخصیت کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔
ان کی نجی زندگی بھی شوبز سے بالکل الگ نہ رہی۔ مسرت نذیر اور ڈاکٹر ارشد مجید کے تین بچے ہیں اور ان کے بیٹے عمر مجید نے بھی فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ خاندان کے دیگر افراد کا تعلق بھی فنونِ لطیفہ اور شوبز سے رہا۔ یوں ایک لحاظ سے مسرت نذیر نے جس دنیا کو اپنے عروج پر چھوڑا تھا، اس کی کچھ جھلکیاں ان کی اگلی نسل تک منتقل ہوتی رہیں۔
آج مسرت نذیر کینیڈا میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں مگر پاکستان میں ان کی آواز اب بھی زندہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے فلمی چہرے دھندلا جاتے ہیں، کئی گیت محض تاریخ کا حوالہ بن جاتے ہیں اور بہت سے نام نئی نسل کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں لیکن مسرت نذیر کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے گیت آج بھی شادیوں میں بجتے ہیں، نئی نسل کے گلوکار ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کا نام پاکستانی فلمی تاریخ کے سنہری ابواب میں احترام سے لیا جاتا ہے۔
مسرت نذیر کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انہوں نے شہرت کو اپنی زندگی کا مالک نہیں بننے دیا۔ وہ اس وقت پردے سے ہٹ گئیں جب ان کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع تھے مگر پردے سے ہٹنے کے باوجود لوگوں کے دلوں سے نہیں ہٹیں۔ ایک لڑکی جسے والدین ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، ریڈیو کی گلوکارہ بنی، فلمی دنیا کی “چاندنی” کہلائی، صفِ اول کی اداکارہ بنی، متعدد اعزازات حاصل کیے، پھر شہرت کے عروج پر گھر اور خاندان کو ترجیح دے کر کینیڈا جا بسی اور برسوں بعد اپنی آواز کے ذریعے دوبارہ پاکستانی عوام کے دلوں میں اتر گئی۔
یہی بڑے فن کار کی پہچان ہے کہ وہ وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ وقت گزرتا رہتا ہے، نسلیں بدلتی رہتی ہیں، ذوق تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر سچا فن اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ مسرت نذیر بھی اسی سچے فن کی ایک روشن مثال ہیں۔ انہوں نے فلمی پردے کو چھوڑ دیا، مگر عوام کی یادداشت میں آج بھی “چاندنی” کی طرح روشن ہیں۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر داریل میں ریسکیو آپریشن کے لیے بھرپور متحرک کاری
“شہرِ وفا ” احساس، فکر اور شعور کا شعری آئینہ ، کنیز بتول کھوکھر سرگودھا
Height of Fame to a Quiet Migration




