City of Loyalty 0

“شہرِ وفا ” احساس، فکر اور شعور کا شعری آئینہ ، کنیز بتول کھوکھر سرگودھا
’’شہرِ وفا‘‘ اختر چیمہ کی شعری کاوش ایک ایسا شعری مجموعہ جس میں محض الفاظ کی آرائش نہیں بلکہ انسانی جذبات، معاشرتی رویّوں اور زندگی کی پیچیدہ نفسیات کو شعورِ فن کے ساتھ اظہار عطا کیا گیا ہے شاعری دراصل انہی منتشر احساسات کو ایک بامعنی ترتیب دینے کا نام ہے جو دل میں جنم لیتے ہیں، مگر ہر شخص انہیں زبان دینے کا ہنر نہیں رکھتا شاعر وہی ہے جو اپنے عہد کے خاموش دکھوں، پوشیدہ سوالوں اور ان کہی کیفیات کو لفظوں کا لباس پہنا کر قاری کے دل تک پہنچا دے
اختر چیمہ اس فن سے بخوبی آشنا دکھائی دیتے ہیں انہوں نے مختلف موضوعات کو اپنی فکر کا حصہ بنایا اور اپنے اشعار میں معاشرتی مشاہدے انسانی نفسیات اور تعلقات کی نزاکتوں کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز پیرائے میں بیان کیا ہے
ان کی ایک غزل کے یہ اشعار دیکھیے

’’یہ بھی ممکن ہے دیے میں تیل ہی باقی نہ ہو
صرف آندھی کی خطا ہو یہ ضروری تو نہیں‘

یہاں شاعر محض ایک شعری کیفیت بیان نہیں کر رہا بلکہ انسانی رویّے کی ایک بنیادی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے ہم اکثر حقیقت جاننے سے پہلے اپنے فیصلے صادر کر دیتے ہیں شک، گمان اور بدگمانی بہت سے رشتوں کو اس وقت قتل کر دیتے ہیں جب حقیقت ابھی پردۂ تحقیق میں ہوتی ہے شاعر گویا ایک ماہرِ نفسیات کی طرح قاری کو یہ شعور دے رہا ہے کہ ہر واقعے کا ایک ہی ظاہری سبب نہیں ہوتا کبھی چراغ کا بجھ جانا کسی کی سازش نہیں صرف تیل کا ختم ہو جانا بھی ہو سکتا ہے-
اسی فکر کو وہ ایک اور شعر میں یوں آگے بڑھاتے ہیں:

’’عین ممکن ہے شرارت ہو رقیبوں کی کوئی
یار اپنا بے وفا ہو یہ ضروری تو نہیں‘‘

یہ شعر تعلقات کے اس نفسیاتی المیے کو چھوتا ہے جہاں انسان حقیقت سے زیادہ اپنے وہم پر یقین کرنے لگتا ہے شاعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ الزام سے پہلے تحقیق، بدگمانی سے پہلے تفہیم اور فیصلے سے پہلے حقیقت کو جاننے کی کوشش کی جائے شاید یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری محض جمالیات نہیں رہتی بلکہ انسانی کردار کی تربیت کا وسیلہ بن جاتی ہے
اختر چیمہ کے کلام میں مذہبی و سماجی شعور بھی نمایاں ہے ان کا یہ شعر دیکھیے:

’’قتل گاہیں نہ سجا نعرۂ تکبیر کے ساتھ
دل دکھانے کا بھی اسلام روادار نہیں‘‘

یہاں شاعر مذہب کے نام پر پیدا ہونے والی شدت، نفرت اور انسانی دل آزاری کے خلاف ایک نہایت واضح فکری مؤقف اختیار کرتا ہے اسلام کو محض نعروں، ظاہری مظاہر یا باہمی تصادم تک محدود کرنے کے بجائے اس کے بنیادی جوہر رحمت، رواداری، انسانیت اور احترامِ آدمیت کی طرف متوجہ کرتا ہے شاعر کا پیغام یہ ہے کہ دین انسان کو جوڑنے کے لیے آیا ہے، توڑنے کے لیے نہیں دل جیتنے کے لیے آیا ہے، دل زخمی کرنے کے لیے نہیں
اسی طرح رفاقت اور انسانی تعلقات کے حوالے سے ان کا شعر:

’’کیا ملے گا تجھ کو زنجیرِ رفاقت توڑ کر
میں بھی تنہا، تو بھی تنہا اور تماشائی بہت‘‘

آج کے معاشرتی منظرنامے کا ایک گہرا نوحہ محسوس ہوتا ہے۔ انسان بظاہر ہجوم میں گھرا ہوا ہے، مگر باطن میں تنہائی کا مسافر ہے تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں، اعتماد تحلیل ہو رہا ہے اور دکھ بانٹنے والے کم، تماشا دیکھنے والے زیادہ ہو گئے ہیں شاعر یہاں ایک نہایت اہم سوال اٹھاتا ہے کہ اگر آخرکار دونوں کو تنہائی ہی کا سامنا کرنا ہے تو پھر رفاقت کی زنجیر توڑنے کا حاصل کیا ہے؟
شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ لوگ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے سے پہلے اسے تماشا بنا لیتے ہیں اسی لیے زندگی کے ہر راز کو ہر شخص کے سامنے عیاں کر دینا بھی دانائی نہیں انسان کو اپنی ذات کے کچھ دریچے ہمیشہ بند رکھنے چاہییں، کیونکہ ہر دیکھنے والی آنکھ ہمدرد نہیں ہوتی اور ہر سننے والا رازدار نہیں ہوتا
’’شہرِ وفا‘‘ کی یہی خوبی اسے محض اشعار کا مجموعہ نہیں رہنے دیتی یہ اپنے عہد کے انسان، اس کے رویّوں، اس کی الجھنوں، اس کے رشتوں اور اس کی اجتماعی نفسیات کا ایک شعری آئینہ بن جاتا ہے اختر چیمہ نے اپنے گردوپیش کو محض دیکھا نہیں بلکہ محسوس کیا ہے، پرکھا ہے اور پھر اسے شعری اظہار عطا کیا ہے
ایک کامیاب شاعر کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ قاری کسی شعر کو پڑھ کر چند لمحوں کے لیے رک جائے اور بے اختیار کہہ اٹھے:
’’یہ تو جیسے میری ہی کہانی ہے۔‘‘
اختر چیمہ کی یہ شعری کاوش اسی احساس کو جنم دیتی ہے ان کے اشعار میں زندگی کے مشاہدے کے ساتھ فکر کی پختگی اور احساس کی حرارت بھی موجود ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید وسعتِ فکر، گہرائیِ احساس اور قوتِ اظہار عطا فرمائے، تاکہ وہ اسی طرح معاشرے کے پوشیدہ دکھوں اور انسانی باطن کی خاموش آوازوں کو لفظ دیتے رہیں۔

City of Loyalty

عنوان “وقت کا سبق” محمد دلاور بلتستانی

آغوش سے سکرین تک. سیدہ فضہ بتول

50% LikesVS
50% Dislikes

“شہرِ وفا ” احساس، فکر اور شعور کا شعری آئینہ ، کنیز بتول کھوکھر سرگودھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں