عنوان “وقت کا سبق” محمد دلاور بلتستانی
زندگی کا سب سے بڑا استاد وقت ہے۔ یہ ہمیں ہماری عمر سے کہیں زیادہ تجربہ دے جاتا ہے۔ یہ تجربہ نہ کسی کتاب میں ملتا ہے اور نہ کسی درسگاہ میں۔ یہ ہمیں آزمائشوں، دکھوں اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
انسان کی زندگی میں کچھ رشتے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارے سب سے قریب ہیں، یہی ہمیں سمجھیں گے، اور ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ یہ رشتے خونی بھی ہو سکتے ہیں اور روحانی بھی۔ ہم ان پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو اکثر وہی اپنے، جو سب سے قریب ہوتے ہیں، ہمیں سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ کبھی لفظوں کی کمی، کبھی غلط فہمیاں، اور کبھی مفادات کی دیوار ہمارے اور ان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ اس وقت انسان خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے، خود کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اپنوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر دل اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
ایسے لمحات میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ٹوٹنا دراصل بننے کا عمل ہے۔ جیسے مکان گر کر دوبارہ بہتر تعمیر ہوتا ہے، ایسے ہی انسان بھی ٹوٹ کر زیادہ مضبوط اور باشعور بنتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے: “کوئی بھی چیز ٹوٹ کر ہی نیا بنتی ہے، چاہے وہ انسان ہو یا مکان۔” یہ جملہ ہمیں جینے کا حوصلہ دیتا ہے اور ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت بخشتا ہے۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کے رشتے عارضی ہیں۔ حالات اور مفادات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک رشتہ ایسا ہے جو کبھی نہیں بدلتا اور وہ ہے خالق کے ساتھ کا رشتہ۔ وہ رشتہ مستقل، غیر مشروط اور پائیدار ہے۔
اس لیے مایوسی کو قریب مت آنے دیں۔ لوگوں کے رویوں اور حالات کی تلخیوں پر اپنا سکون قربان مت کریں۔ اس کے بجائے اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کریں۔ جب رب کا سہارا مل جائے تو دنیا کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ وضاحتیں دینا چھوڑ دیں اور خود کو بنانے پر توجہ دیں۔ کیونکہ جنہیں آپ پر بھروسہ ہو انہیں وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور جنہیں وضاحت کی ضرورت ہو وہ کبھی اپنے تھے ہی نہیں۔
Lesson from Time




