آغوش سے سکرین تک. سیدہ فضہ بتول
“‘ہماری عمر میں بچے ماں باپ کا ادب کرتے تھے!
‘اور آپ کی عمر میں ماں باپ بچوں کو یوں طنز سے ذہنی مریض نہیں بناتے تھے!’… یہ وہ دو تیکھے جملے ہیں جو آج ہمارے گھروں کا امن نگل چکے ہیں۔”
آج کے گھروں کا منظرنامہ بدل چکا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے چار افراد بیٹھے ہیں، مگر ہر فرد ایک الگ کائنات میں بس رہا ہے۔ باپ، ماں، بیٹا، بیٹی سب کے چہروں پر تھکن کی ایک گہری تحریر لکھی ہے، مگر یہ تھکن دن بھر کی مشقت کی نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی تنہائی کی ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہوئے بھی بے زار دکھائی دیتے ہیں۔ باہمی مکالمہ ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ سکرینوں کی خاموش اور سرد پناہ گاہ نے لے لی ہے۔
ہر گھر میں ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ نوجوان نسل کو یہ شکوہ ہے کہ والدین ان کی دنیا، ان کے دباؤ اور ان کی سوچ کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اسی لیے وہ والدین کا سامنا کرنے اور طنز و تنقید سے بچنے کے لیے سکرینوں میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ دوسری طرف والدین کا یہ رونا ہے کہ اولاد اب ان کی باتوں، قربانیوں اور تجربات کی قدر نہیں کر رہی۔ لیکن ذرا ٹھہر کر سوچیں، اس خوفناک فاصلے کی شروعات آخر کہاں سے ہوئی؟
ماضی اور آج کی تربیت اور زندگی کے انداز میں ایک بہت بڑا فرق آ چکا ہے۔ پہلے کی نسلوں کے لیے والدین کے دل میں ایک فطری پیار اور قربت تھی، کیونکہ تب بچے کو روتا دیکھ کر ماں اسے سینے سے لگایا کرتی تھی، باپ اسے گود میں لے کر بہلاتا تھا۔ پہلے بچے گلی محلوں میں دوسرے بچوں کے ساتھ جسمانی کھیل کھیلتے تھے، تھک کر گھر لوٹتے تو اپنوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔ مگر آج؟ بچپن کا میدان ویڈیو گیمز کی چار انچ کی سکرین میں سمٹ چکا ہے۔ جیسے ہی چھوٹا بچہ تھوڑا سا تنگ کرتا ہے یا روتا ہے، ماں اسے اپنے سینے سے لگانے کے بجائے فوراً موبائل فون پکڑا دیتی ہے۔ ہم خود بچپن ہی سے بچے کا تعلق اپنے لمس اور محبت کے بجائے ایک بے جان سکرین سے جوڑ دیتے ہیں، اور پھر جب وہی بچہ بڑا ہو کر والدین سے دور سکرین کی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں!
تعلقات کی اس بے حسی کا اندازہ ہمارے تہواروں سے لگائیے۔ پہلے وقتوں میں دور دراز رہنے والے بچے عید جیسے موقع پر سب کام چھوڑ کر ماں باپ سے ملنے، ان کے قدم چھونے اور ان کی آغوش میں سکون پانے آیا کرتے تھے۔ پھر دور بدلا تو یہ ملاقات ایک فون کال پر آئی، اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ صرف ایک واٹس ایپ میسج یا ٹیکسٹ کاپی پیسٹ کر کے فرض ادا کر دیا جاتا ہے! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، کیا جو سکون اور جو ٹھنڈک والدین کو اپنے بچوں کو گلے لگانے، ان کا ماتھا چومنے اور ان کی خوشبو محسوس کرنے میں ملتی تھی، اس کی جگہ ایک بے جان میسج لے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
والدین کا چڑچڑا ہونا اور بات بات پر غصہ کرنا بھی بلاوجہ نہیں ہے۔ وہ بوڑھے ہو رہے ہیں، انہیں توجہ، وقت اور محبت کی ضرورت ہے، مگر انہیں اپنے ہی گھر میں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ جب انہیں بچوں کی طرف سے وقت کے بجائے صرف خاموشی یا بے رخی ملتی ہے، تو یہ محرومی ان کے رویوں میں چڑچڑے پن اور طنز کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کھائی کو کھودنے میں قصوروار دونوں فریق ہیں۔ ایک طرف اگر والدین نے بدلتے دور، بچوں کے نفسیاتی دباؤ کو سمجھنے اور طنز چھوڑ کر تفہیم اپنانے میں ناکامی دکھائی ہے، تو دوسری طرف نوجوانوں نے بھی اپنوں کو وقت دینے کے بجائے سکرین کے مصنوعی فرار کو ترجیح دی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ سکرینوں کے حوالے کی گئی اس نسل کو سکون وہاں بھی نہیں مل رہا۔ دن بھر انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ریلز (Reels) اور شارٹس سکرول کرنے کے بعد بھی روح کے اندر ایک عجیب سی خالی جگہ اور کمی کا احساس باقی رہتا ہے۔ پورا دن سکرین پر وقت برباد کرنے کا پچھتاوا، ذہنی الجھن اور جذباتی خالی پن رات کو کھل کر سامنے آتا ہے، اور اکثر نوجوانوں کے دن کا اختتام رات کی تاریکی میں شدید مایوسی، ذہنی تناؤ اور خاموش آنسوؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔
آخر اس صورتِ حال کا حل کیا ہے؟
اگر ہم نے بطور معاشرہ اس کھائی کو نہ پاٹا تو ہماری آنے والی نسلیں شدید نفسیاتی مسائل اور تنہائی کا شکار ہو جائیں گی۔ اس کا حل کچھ عملی اور بنیادی تبدیلیوں میں ہے:
بچپن سے لمس اور محبت کی بحالی: مائیں چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لیے موبائل کی آسان راہ چننے کے بجائے انہیں اپنا وقت، توجہ اور محبت کا لمس دیں۔ تربیت کا آغاز سکرین کے سپرد کرنے سے نہیں، ماں کی آغوش سے ہونا چاہیے۔
طنز سے توجہ اور تفہیم کا سفر: والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طنز سے اصلاح نہیں بلکہ بغاوت جنم لیتی ہے۔ نوجوان نسل کے مسائل کو سننے اور ان کے جذبات کو سمجھنے (Validation) کی ضرورت ہے۔
والدین کو وقت دینا اور سکرین فری زون: گھروں میں کم از کم کھانے کی میز اور رات کے کچھ اوقات کو “سکرین فری” بنایا جائے۔ اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کے پاس بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں تاکہ ان کا چڑچڑا پن دور ہو۔
نوجوانوں کی خود آگاہی: نوجوانوں کو یہ درک ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا کا فرار انہیں سکون نہیں بلکہ رات کا اندھیرا اور آنسو دے رہا ہے۔ اصلی سکون اور پناہ واقعی جاندار رشتوں اور اپنے رب کے ساتھ میں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کے خاندانی ڈھانچے مضبوط اور پرسکون ہوتے ہیں۔ جب تک ہمارے گھروں میں سکون اور محبت کی چھاؤں نہیں ہوگی، ہم بیرونی دنیا میں کوئی بڑا معرکہ سر نہیں کر سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے چھپنے کے بجائے ایک دوسرے کے پاس لوٹ آئیں کیونکہ آخری پناہ گاہ سکرین نہیں، بلکہ اپنے اپنوں کا ساتھ ہے۔
موبائل کے چارجر تو مل جاتے ہیں مگر ہاتھ سے نکلے رشتوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا—انہیں سکرینوں کی سردی سے نکال کر اپنے وقت کی حرارت دیجیے!
عنوان: 2000 کا نوٹ اور ایک ٹوٹا ہوا خواب”. ثمرین بی بی
Embrace to Screen




