عنوان: 2000 کا نوٹ اور ایک ٹوٹا ہوا خواب”. ثمرین بی بی
میں نے عیدی کے پیسے جوڑ کر رکھے تھے۔ سوچا تھا ان سے ٹیسٹ کی تیاری کے لیے کتاب لوں گی۔ پر جب کتاب کی قیمت دیکھی تو ہاتھ کانپ گئے۔ ہارڈ کاپی بہت مہنگی تھی، اس لیے مجبوری میں سافٹ فارم لینی پڑی۔ میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ہوں۔ وہاں سے جو تھوڑے بہت پیسے ملتے ہیں، اسی سے گھر کا خرچہ اور اپنی امیدیں پالتی ہوں۔ اسی تنخواہ سے میں نے جاب کے لیے اپلائی کیا، کیونکہ دل میں ایک شوق تھا۔ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کا، ایجنسی میں وردی پہن کر کھڑے ہونے کا۔
تیاری کے لیے اکیڈمی جانا چاہتی تھی۔ فیس پوچھی تو سانس رک گئی۔ اتنی زیادہ تھی کہ سوچنا بھی گناہ لگتا تھا۔ پھر جب ٹیسٹ میں صرف بیس دن رہ گئے تو فیس کم ہو گئی۔ دل میں چراغ جل اٹھا۔ میرے پاس اس وقت صرف ایک ہزار روپے تھے۔ میں نے سوچا آدھے جمع کروا دوں گی، باقی دو دن بعد دے دوں گی۔ لیکن انہوں نے کہا “معذرت، فیس اکٹھی جمع ہوگی”۔ میں چپ کر کے واپس آ گئی۔ اس رات بہت روئی، پر اگلے دن پھر اسی سافٹ بک اور موبائل سے پڑھنے بیٹھ گئی۔ امید تھی کہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔
ٹیسٹ کا دن آیا تو میں ایک گھنٹہ پہلے سینٹر پہنچ گئی۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے پہلی بار اسٹیج پر جانا ہو۔ آئی ڈی، سلپ چیک ہوئی، کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی، لاگ ان کیا اور ٹیسٹ شروع ہوا۔ 80 سوال، 60 منٹ۔ پہلا ہی سوال چھ سات لائنوں کا پیراگراف تھا۔ آپشنز بھی ایسے جیسے پہیلیاں ہوں۔ دو منٹ ایک سوال پر لگ گئے۔ میں نے سوچا بس یہی ایک مشکل ہوگا، لیکن آگے ہر سوال ایسا ہی تھا۔ سلیبس میں سے ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے، پر ہاتھ نہیں رکے۔ میں نے پورے 80 سوال کیے۔ ہال سے نکلتے ہوئے پاؤں بھاری تھے۔ دور سے آئی تھی، مشکل سے آئی تھی، اور خالی ہاتھ لوٹ رہی تھی۔
پھر رزلٹ آیا۔ میرا نام لسٹ میں نہیں تھا۔ وہ لمحہ تھا جب لگا جیسے آخری دروازہ بھی بند ہو گیا۔ ابو کو آج تک نہیں بتایا۔ وہ آج بھی پوچھتے ہیں “بیٹا رزلٹ آیا؟” اور میں کہہ دیتی ہوں “ابھی نہیں آیا، اللہ کرے گا آ جائے گا”۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں “ان شاءاللہ میری بیٹی کا ہو جائے گا”۔ اور میں اندر ہی اندر ٹوٹ جاتی ہوں۔
یہ صرف ایک ٹیسٹ کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو عیدی کے پیسے جوڑتی ہے، جو سستی کتاب ڈھونڈتی ہے، جو فیس کم ہونے کا انتظار کرتی ہے، اور پھر بھی سلیبس سے باہر سوالوں سے ٹکرا جاتی ہے۔ مہنگائی نے صرف سبزی اور بجلی مہنگی نہیں کی، اس نے خواب بھی مہنگے کر دیے ہیں۔ اکیڈمی کی فیس، کتاب کی قیمت، ٹیسٹ تک کا سفر… ہر قدم پر پیسہ دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
میں جانتی ہوں لوگ کہیں گے “ہار مان لو”۔ لیکن میں نے 60 منٹ میں 80 سوال کر کے یہ ثابت کر دیا کہ میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہوں۔ شاید یہ دروازہ بند تھا، کوئی اور کھلے گا۔ شاید اللہ نے اس سے بہتر لکھا ہو۔ فی الحال میں پھر اٹھوں گی۔ اسی سافٹ بک سے، اسی موبائل سے، اسی امید سے۔ کیونکہ اگر میں رک گئی تو وہ سب لڑکیاں بھی رک جائیں گی جو میرے جیسی ہیں۔
آخر کب تک ہمارے خوابوں کی قیمت ہماری جیب سے زیادہ ہوتی رہے گی؟
*”محنت کی تھی، امید بھی تھی… بس قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ یا شاید قیمت بہت زیادہ تھی۔
*شاید کچھ خواب صرف اس لیے بنتے ہیں کہ آنکھوں میں آنسو بن کر بہہ جائیں۔
از قلم : ثمرین بی بی
broken-dream
شکرگزاری: زندگی کی اصل خوشی۔ تحریر محمد عابد رشید




