Hear Our Cry 0

فریاد کرے تو کس سے کرے. آمینہ یونس، بلتستانی
مخلوقات میں سب سے افضل انسان ہے اور انسان کو اللہ رب العزت نے وہ تمام اوصاف عطا کیے ہیں جن سے وہ اچھے اور برے کی تمیز کر سکے۔ دیکھنے کے لیے خوبصورت آنکھیں، سننے کے لیے کان، سوچنے کے لیے عقل، سمجھنے کے لیے دل اور فیصلے کی قوت بھی عطا کی تاکہ وہ اپنی زندگی میں بہترین فیصلے کر سکے۔ ساتھ ہی ہر قسم کا علم اس کی جھولی میں ڈال کر اسے انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا۔ لیکن روز بہ روز بڑھتے ہوئے ملکی حالات سے لگتا ہے کہ انسانوں نے خود کو انسان سے بدل کر پتھر بنا لیا ہے۔ ان کا دل اور شکل تو انسانی ہے، مگر ان کے اعمال میں حیوانیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک افسوس ناک مثال بچوں اور بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ہے، یہاں تک کہ تیرہ ماہ کے بچوں کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا۔ یہ ظلم اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ معصوم بچوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کل پمز ہسپتال میں پیش آنے والا دردناک واقعہ بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عوام کے لیے شاید یہ ایک واقعہ ہو، مگر ان چودہ معصوم جانوں کو دنیا میں لانے کے لیے ان کے ماں باپ نے کتنی دعائیں مانگی ہوں گی، کتنے خواب سجائے ہوں گے؟ ماں نے نو ماہ اپنے پیٹ میں پرورش کرتے ہوئے کتنی تکلیفیں اٹھائی ہوں گی؟ یہ وہ ماں باپ ہی جانتے ہیں جنہوں نے اس درد کو سہا ہے۔ مگر ان کے خوابوں کا وہ گلشن، جس میں ابھی ننھی ننھی کلیاں کھلنے ہی والی تھیں، نذرِ آتش ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ گھر محفوظ نہیں تھا، گلی کوچے، پارک، بازار اور ہوٹل محفوظ نہیں تھے، مگر اب ہسپتال بھی محفوظ نہیں رہا۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کسی صحت مرکز میں جہاں زندگی کی نوید سنائی جاتی ہے، جہاں پہنچ کر مریض کو یہ سکون ملتا ہے کہ اب موت کو شکست ہوگی کیونکہ یہاں مسیحا موجود ہے، یہ ہسپتال ہے؛ مگر اگر وہ جگہ بھی محفوظ نہ رہے تو انسان جائے تو کہاں جائے؟ فریاد کرے تو کس سے کرے؟ اس میں غلطی کس کی ہے؟ ان والدین کی جو اپنے بچوں کو محفوظ ہاتھوں میں سمجھ کر مطمئن بیٹھے رہے؟ انتظامیہ کی، جو انسانی جانوں کے مرکز کو ایسے حالات میں رکھتی ہے کہ کوئی بھی اس طرح کے سانحے کا شکار ہو جائے؟ یا ان ذمہ دار اداروں کی جو ایسی جگہوں کی مناسب دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی نہیں بنا پاتے؟ سوال بہت ہیں، مگر جواب کون دے گا؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے انسانی جانوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، تاکہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں اور کسی باپ کے خواب یوں خاک میں نہ ملیں۔ آخر انسان اپنی فریاد لے کر جائے تو کہاں جائے، فریاد کرے تو کس سے کرے؟
Hear Our Cry

50% LikesVS
50% Dislikes

فریاد کرے تو کس سے کرے. آمینہ یونس، بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں