Health-Related Matters 0

صحت سے متعلق ، اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے ۔محمد اقبال شافی
اس موضوع کے زیر میں وہ تمام اسرار اور سوالات کے معنی خیز جوابات مخفی ہیں ۔جن کی تلاش میں میں اکثر بٹھک جاتے ہیں ۔اس مسلے کی حل تلاش کرنے میں ہم زیادہ تر مار کھاتے ہیں ۔اس کا مثال کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص کو معدے کی شکایت ہے اور وہ مخصوص طبیب کے پاس جانے کے بجائے دیسی اور غیر متعلقہ ادویات کا استعمال کرتے ہیں جس سے اس فرد کے معدے کا درد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں ۔
انسانی زندگی میں بھی یہی مسلہ زیادہ تر دیکھائی دیتی ہے ۔کہ اس کا اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے لیکن وہ دیگر عوامل میں جھگڑے ہوتے ہیں ۔اس سے مسائل مزید ضرر رساں ہوتے ہیں ۔یہ موضوع ہمیں ہوشیار کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کس سمت میں؟،کس رفتار میں؟ اور کس انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں؟ ۔یہ موضوع وہ آگ ہے جس کے ذریعے نوجوان نسل اور ہر باضمیر شخص میں موجود سستی اور غفلت جیسے ضرر رساں کیفیات کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔اصل مقصد تصور و تفکر کرنا ہے ۔جب کبھی ہم سوچتے ہیں کہ میں اپنی زندگی میں کیا کرہا ہوں؟ ۔جو کچھ میں انجام دے رہا ہوں کیا یہ درست ہے؟ ۔کیا مجھے ان کاموں کو اس طرح انجام دینا چاہیے؟۔جو فعل میں پہ در پہ انجام دے رہا ہوں کیا یہ ملک وملت اور سماج انسانی کے لے سزاوار ہے؟ ۔یا جو کچھہ میں کرہا ہوں ان سے خدا اور رسول یا انسانی معاشرے میں کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہا؟
اس طرح کے سوالات اپنی ذات سے اگر کوئی کرے تو انقلاب آسکتی ہے ۔ہمارا دماغ ہی پورے جسم کا شاہ اعظم ہے ،دماغ جو کچھ حکم کرتا ہے ۔جسم اسے من و عن مکمل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ماہریں نفسیات کا کہنا ہے کہ دماغ کو اپنا غلام بنا کے رکھو اسے اپنے اوپر حاوی ہونے مت دو ۔آج جو گروہ ہمیں کاہل اور سست نظر آتے ہیں ان میں کسی قسم کی کمی نہیں ذہنی سطح کے مطابق وہ ڈھیک ہوتے ہیں مگر انہیں اس بات کا علم نہیں کہ وہ اپنے دماغ کے اشاروں پہ چل رہے ہیں یا ذندگی کی ان کار خیر ضوابط پر زندگی بسر کررہے ہیں ۔ان سب کا لب لباب یہی ہے کہ تصور کرے ،نیکی اور بدی میں امتیاز کرے نیکی اور بدی صرف نماز اور گناہ سے وابستہ نہیں بلکہ جو کام آپ کے لے اچھا ہے اور جو کام آپ کی زندگی اور شخصیت کے لے کار آمد نہیں ۔ان میں فرق کرنے کا نام ہے ان کا معیار قرآن و احادیث ہیں ۔اسلام نے بھی اس موضوع کی تائید کی ہے ۔علماء فرماتے ہیں ” ایک لمحہ فکر کرنا سالوں کی عبادت سے افضل ہے” اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک دوکان دار کاروبار کررہے ہیں مگر وہ فائدہ اور نقصان کا محاسبہ نہیں کررہا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا کاروبار خسارے میں جارے ہیں ۔کیوں کہ اس کو اس بات کا علم نہیں کی کتنا فائدہ حاصل ہو رہا ہے ۔اس نے فاہدہ دیکھ کر کاروبار کو آگے بڑھانا تھا ۔اسی طرح ایک فرد کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ۔کبھی وہ زیادہ مشقت کرتے ہیں تو کبھی کرتے ہی نہیں ۔کھبی اسے زیادہ فرحت محسوس ہوتی ہے تو کبھی تاسف ۔یہ سب زندگی کا حصہ ہے ۔ہمیں ان تمام عوامل کے ساتھ زندگی جینا ہے۔مگر دوران سفر یعنی ذندگی گزارتے ہوئے ہمیں ہوشیار اور چاقو چوبند رہنا ہے تاکہ ہم اپنے شعبے میں احسن کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے ۔یہ موضوع ” ہم کہا کھڑے ہیں” صرف طلبہ وطالبات کےلے نہیں بلکہ تمام اہل فکر اور اہل معاشرہ کے لے ہیں ۔جو ان موضوعات سے ہمیشہ مستفید ہوتے ہیں اور ان کالمز کی روشنی سے اپنے آنگن کو آراستہ کرتے ہیں ۔لہذا غور وفکر سے ہمیں اپنی ذات کی اصلاح اور پورے کمینٹی کی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے ۔سب سے پہلے اپنی اصلاح پھر دوسروں کی۔اس طرح ماحول گوشوار اور جازب نظر بن جاتی ہے ۔اس موضوع کا نفس مضمون ” تصورات ترقی کا پہلا قدم” اس نکتے پہ انہماک کریں آپ کی زندگی گلستان بن جاۓ گی۔

Health-Related Matters:

50% LikesVS
50% Dislikes

صحت سے متعلق ، اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے ۔محمد اقبال شافی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں