Critical Review 0

نقد و نظر بر نظم “شہر کس کا ہے”از قلم یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان . شاعر: کامران مغل

“شہر کس کا ہے”
ایک شہر
جس کے سمندر کے کنارے
ریت پر لکھی ہوئی
ایک ادھوری سی تحریر

کسی نے کہا
“ہم آئے تو شہر بنا!”

دوسری آواز آئی
“ہم تھے تو بنیاد تھی!”

تیسری صدا آئی
“ہم نے اینٹیں جوڑیں،
ریل بچھائی، بندرگاہ سنواری،
چراغ جلائے،
اور شہر کو دنیا سے ملایا!”

چوتھی آواز
تاریخ کی الماری سے نکلی
اور بولی:

“رکو!
اینٹوں پر نام مت لکھو
شہر کسی ایک کا نہیں ہوتا
شہر تو ان سب کا ہوتا ہے
جو اسے بناتے ہیں
جو اسے جیتے ہیں
اور جو اس کے لیے خواب دیکھتے ہیں”

کراچی نے
اپنے سینے پر ہاتھ رکھا
اس کے نیچے
کئی صدیاں دھڑک رہی تھیں

کبھی سندھی ملاح
کبھی بلوچ سوداگر
کبھی پارسی معمار
کبھی میمن تاجر
کبھی ہندو صنعت کار
کبھی ہندوستان سے آئے
لٹے پٹے قافلے

سب کی گرد
اس شہر کی گلیوں میں تھی

کسی کے ہاتھ میں
نقشۂ ہجرت تھا
کسی کے ہاتھ میں
تجارت کی کتاب
کسی کے ہاتھ میں
قلم
اور کسی کے ہاتھ میں
اینٹ

شہر بنتا گیا

مگر پھر
ایک دن
اینٹوں سے زیادہ
نام اہم ہوگئے

گلی نے پوچھا
“تم کون ہو؟”

محلے نے پوچھا
“تم کہاں سے آئے ہو؟”

صوبے نے پوچھا
“یہ شہر کس کا ہے؟”

اور
شہر خاموش ہوگیا

وہ دیکھتا رہا
کہ جو لوگ
کل تک ایک ہی بازار میں
خرید و فروخت کرتے تھے
آج تاریخ کی کتابیں کھول کر
ایک دوسرے کا نسب تلاش کر رہے ہیں

بندرگاہ نے کہا
“میں سب کا راستہ ہوں
مجھے کسی ایک جھنڈے میں قید نہ کرو”

یونیورسٹی نے کہا
“علم کا کوئی ڈومیسائل نہیں ہوتا”

سڑک نے کہا
“میرے قدموں کے نیچے
سب کے قدموں کے نشان ہیں”
اور
سمندر ہنسا، کہا
“تم زمین کو بانٹ سکتے ہو
مگر لہروں کو کیسے بانٹو گے؟”

پھر ایک سوال اٹھا
کیا ملک کو
مزید صوبوں کی ضرورت ہے؟
یا مزید انصاف کی؟
کیا نئی حد بندی
نئے دل بنائے گی؟
یا پرانے زخم
نئی لکیروں سے
اور گہرے ہوں گے؟

کیا انتظامی اکائی
ایک شہر کو سہولت دے گی
یا شناخت کو
ایک نئی دیوار؟

کراچی نے تڑپ کر کہا
“مجھے صوبہ دو
ضلع دو
اختیار دو
یا نئی حد بندی کرو
مگر پہلے
مجھے میرا حق دو
مجھے پانی دو
مجھے گیس دو
مجھے اختیار دو
مجھے فیصلہ کرنے کا حق دو
مجھے جواب دہ حکومت دو

میرے نام پر
ایک دوسرے سے مت لڑو
میرے مستقبل پر
ایک ساتھ سوچو

کیونکہ
شہر کسی ایک ہجرت کاانعام نہیں
نہ کسی ایک قوم کی میراث ہے

“شہر
ایک مسلسل سفر ہے
جس میں
کل کے مقامی بھی ہیں
آج کے مہاجر بھی
اور آنے والے کل کے
بچے بھی۔”
اور
سمندر اب بھی وہیں ہے

ہر لہر کے ساتھ
ایک ہی سوال اٹھاتا ہے
“لکیریں کھینچنے والو!
بتاؤ
تم ملک بانٹنا چاہتے ہو
یا مسائل؟”
اور
دور افق پر سورج نکلتا ہے
بے نام
بے تعصب
سب کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظم محض کراچی کی ملکیت کے سوال پر لکھی گئی ایک سیاسی نظم نہیں بلکہ شہر، تاریخ، شناخت، ہجرت، وسائل، اختیار، صوبائیت اور اجتماعی حقِ ملکیت کے باہمی تعلق پر ایک گہرا فکری مکالمہ ہے۔ شاعر نے ایک مخصوص شہر کو علامت بنا کر دراصل یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ کسی شہر پر حق کس کا ہوتا ہے: اس کا جو سب سے پہلے یہاں آباد تھا، اس کا جو اسے تعمیر کرتا رہا، اس کا جو ہجرت کرکے یہاں آ بسا، یا ان سب کا جو اس شہر کو اپنی زندگی، محنت اور خوابوں سے مسلسل تشکیل دیتے ہیں؟ نظم کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ اس سوال کا جواب کسی ایک گروہ کے حق میں دینے کے بجائے شہر کو ایک زندہ، مسلسل تشکیل پانے والی اجتماعی ہستی کے طور پر پیش کرتی ہے۔
کامران مغل کی نظم “شہر کس کا ہے؟” اپنے موضوع، علامتی پھیلاؤ اور فکری تہہ داری کے اعتبار سے ایک ایسی نظم ہے جس میں کراچی محض ایک جغرافیائی مقام نہیں رہتا بلکہ تاریخ، تہذیب، ہجرت، معاشرت، سیاست اور انسانی اشتراک کی علامت بن جاتا ہے۔ نظم کا عنوان ہی قاری کے سامنے ایک بنیادی اور پیچیدہ سوال رکھ دیتا ہے: “شہر کس کا ہے؟” لیکن شاعر اس سوال کا فوری جواب نہیں دیتا بلکہ مختلف تاریخی اور سماجی آوازوں کو سامنے لا کر اس سوال کو مزید وسیع اور پیچیدہ کرتا ہے۔ یوں نظم ایک شہر کی ملکیت کے سوال سے شروع ہو کر بالآخر انصاف، اختیار، شناخت اور مشترکہ مستقبل کے سوال تک پہنچتی ہے۔
شہر: ایک تمثیلی کردار
نظم کی سب سے نمایاں ادبی خصوصیت تشخیص ہے۔ کراچی کو شاعر نے ایک بے جان جغرافیے کے بجائے ایک ایسے زندہ کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو محسوس بھی کرتا ہے، سوچتا بھی ہے، سوال بھی کرتا ہے اور اپنے دکھ کا اظہار بھی کرتا ہے:

“کراچی نے
اپنے سینے پر ہاتھ رکھا
اس کے نیچے
کئی صدیاں دھڑک رہی تھیں”

یہاں “سینہ” اور “دھڑکن” محض شعری پیکر نہیں بلکہ کراچی کی تہذیبی یادداشت کی علامت ہیں۔ شہر کا سینہ دراصل اس کی تاریخ ہے اور اس میں دھڑکتی ہوئی صدیاں ان تمام نسلوں، قوموں اور طبقوں کی نمائندہ ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی مرحلے پر شہر کی تشکیل میں حصہ لیا۔
یہ تمثیل نظم کو محض سیاسی بیان بننے سے بچاتی ہے۔ کراچی یہاں خود ایک گواہ ہے؛ وہ اپنے ماضی کو بھی جانتا ہے اور اپنے حال کے تنازعات کو بھی دیکھ رہا ہے۔
سمندر اور ریت: تاریخ کی ناپائیداری اور تسلسل
نظم کا آغاز بھی نہایت معنی خیز ہے:
“ایک شہر
جس کے سمندر کے کنارے
ریت پر لکھی ہوئی
ایک ادھوری سی تحریر”
“ریت” یہاں تاریخ اور شناخت کی ناپائیداری کی علامت بن جاتی ہے۔ ریت پر لکھی ہوئی تحریر مستقل نہیں رہتی، لہریں اسے مٹا سکتی ہیں، ہوا اسے بکھیر سکتی ہے اور کوئی نئی تحریر اس کی جگہ لے سکتی ہے۔ یوں شاعر شہر کی تاریخ کو کسی جامد اور حتمی ملکیتی دعوے کے طور پر قبول نہیں کرتا۔
“ادھوری تحریر” کا پیکر بھی اہم ہے۔ کراچی کی تاریخ مکمل نہیں ہوئی، اس کا سفر جاری ہے۔ آج کا شہر کل کے شہر کا آخری ورژن نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک زیرِ تعمیر حقیقت ہے۔
اسی تصور کو نظم کے اختتام پر سمندر دوبارہ مضبوط کرتا ہے۔ ابتدا میں ریت پر تحریر ہے اور اختتام پر لہریں سوال اٹھاتی ہیں۔ اس طرح سمندر نظم کے آغاز اور انجام کو ایک فکری دائرے میں جوڑ دیتا ہے۔
نظم میں یکے بعد دیگرے ابھرتی مختلف آوازیں تاریخ کا کثیر الجہتی بیانیہ ہیں۔ کوئی کہتا ہے:

“ہم آئے تو شہر بنا!”
دوسری آواز کہتی ہے:
“ہم تھے تو بنیاد تھی!”
اور تیسری آواز تعمیر، ریل، بندرگاہ اور روشنی کا حوالہ دیتی ہے۔
یہاں شاعر ایک نہایت اہم فکری نکتے کی طرف متوجہ کرتا ہے: تاریخ عموماً ایک واقعے یا ایک گروہ سے نہیں بنتی۔ شہر کی تعمیر ایک طویل اجتماعی عمل ہے جس میں مختلف ادوار، قومیں، طبقات اور افراد اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

“ہم آئے تو شہر بنا” اور “ہم تھے تو بنیاد تھی” جیسے دعوے دراصل اجتماعی تاریخ کو ایک واحد ملکیتی دعوے میں محدود کرنے کی ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شاعر ان دعوؤں کو براہِ راست رد نہیں کرتا بلکہ مختلف آوازیں ایک ساتھ سنا کر قاری کو یہ نتیجہ اخذ کرنے دیتا ہے کہ شہر کی تاریخ کسی ایک فریق کی جاگیر نہیں۔
یہ فنی طریقہ نظم کو وعظ بننے سے بھی بچاتا ہے۔ شاعر خود فیصلہ سنانے کے بجائے تاریخ کے کرداروں کو بولنے دیتا ہے۔
تاریخ کی الماری: ماضی کا زندہ احتساب
نظم کا ایک خوب صورت استعاراتی مقام یہ ہے:
“چوتھی آواز
تاریخ کی الماری سے نکلی”

“تاریخ کی الماری” ایک بھرپور استعارہ ہے۔ تاریخ یہاں کسی زندہ بہتے ہوئے دریا کے بجائے ایک ایسی الماری بھی ہے جس میں ماضی کے واقعات، یادیں، شناختیں اور دعوے محفوظ ہیں۔ لیکن شاعر تاریخ کو صرف محفوظ مواد نہیں سمجھتا، وہ اسے موجودہ اختلافات میں مداخلت کرنے والی قوت بنا دیتا ہے۔
تاریخ کی یہ آواز کہتی ہے:
“اینٹوں پر نام مت لکھو
شہر کسی ایک کا نہیں ہوتا”
“اینٹ” تعمیر کی علامت ہے اور “نام” ملکیت کے دعوے کی۔ شاعر کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کتنی اینٹیں لگائیں بلکہ یہ ہے کہ ان اینٹوں سے بننے والا شہر کس طرح ایک مشترکہ انسانی زندگی کا مرکز بنا۔
کراچی کی تہذیبی کثرت
نظم کا ایک اہم حصہ کراچی کی تہذیبی ساخت کو مختلف کرداروں کے ذریعے بیان کرتا ہے:
“کبھی سندھی ملاح
کبھی بلوچ سوداگر
کبھی پارسی معمار
کبھی میمن تاجر
کبھی ہندو صنعت کار
کبھی ہندوستان سے آئے
لٹے پٹے قافلے”
یہ فہرست محض تاریخی ناموں کی فہرست نہیں بلکہ شہری تہذیب کے mosaic کی تشکیل ہے۔ شاعر کراچی کو کسی ایک نسلی یا لسانی شناخت میں بند کرنے کے بجائے اس کے تاریخی مزاج کو کثیرالثقافتی قرار دیتا ہے۔
یہاں “ملاح”، “سوداگر”، “معمار”، “تاجر”، “صنعت کار” اور “مہاجر” بھی علامتی کردار بن جاتے ہیں۔ کسی کے پاس سمندر سے وابستہ ہنر ہے، کسی کے پاس تجارت، کسی کے پاس تعمیر، کسی کے پاس صنعت اور کسی کے پاس ہجرت کا المیہ۔ گویا شہر مختلف انسانی تجربات کے ملاپ سے تشکیل پاتا ہے۔
یہی بات اگلے پیکر میں مزید واضح ہوتی ہے:
“کسی کے ہاتھ میں
نقشۂ ہجرت تھا
کسی کے ہاتھ میں
تجارت کی کتاب
کسی کے ہاتھ میں
قلم
اور کسی کے ہاتھ میں
اینٹ”
یہ نظم کا نہایت مؤثر علامتی حصہ ہے۔ “نقشۂ ہجرت” انسانی بے گھری اور نقل مکانی کی علامت ہے، “تجارت کی کتاب” معاشی سرگرمی کی، “قلم”علم و فکر کی اور “اینٹ” عملی تعمیر کی۔ شاعر بتاتا ہے کہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتا؛ ہجرت، تجارت، علم، محنت اور خواب سب مل کر شہر بناتے ہیں۔

“شہر بنتا گیا” : مسلسل تشکیل کا تصور
صرف تین الفاظ:
“شہر بنتا گیا”
پوری نظم کے فلسفے کو سمیٹ لیتے ہیں۔
شہر ایک مرتبہ نہیں بنتا۔ وہ ہر نسل کے ساتھ بنتا ہے، ہر نئی سڑک کے ساتھ بنتا ہے، ہر نئی آبادی، مدرسے، یونیورسٹی، بازار، کارخانے، بندرگاہ اور گھر کے ساتھ بنتا ہے۔ اس لیے شہر کی ملکیت کو کسی ایک تاریخی لمحے سے وابستہ کرنا شاعر کے نزدیک ایک فکری مغالطہ ہے۔
یہ تصور نظم کے آخری حصے میں مزید واضح ہو جاتا ہے:
“شہر
ایک مسلسل سفر ہے”
یہاں شہر کو “جگہ” سے “سفر” میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جگہ جامد ہوتی ہے، سفر متحرک۔ اس طرح کراچی ایک نقشے پر موجود زمین نہیں بلکہ نسل در نسل جاری رہنے والا اجتماعی تجربہ بن جاتا ہے۔
نظم میں ایک فیصلہ کن موڑ اس وقت آتا ہے جب شاعر کہتا ہے:
“مگر پھر
ایک دن
اینٹوں سے زیادہ
نام اہم ہوگئے’
یہ مصرع نظم کے مرکزی فکری بحران کی بنیاد ہے۔ تعمیر، محنت اور مشترکہ زندگی کے بجائے نام کی شناختیں، نام کی سیاستیں اہم ہونے لگتی ہیں۔ پھر:
“گلی نے پوچھا
تم کون ہو؟
محلے نے پوچھا
تم کہاں سے آئے ہو؟”

یہاں “گلی” اور “محلہ” بھی انسانی کردار اختیار کر لیتے ہیں۔ سوال بظاہر شناخت کا ہے مگر اس کے اندر اجنبیت اور اخراج کا احساس پوشیدہ ہے۔
جو لوگ پہلے ایک ہی بازار میں شریک تھے، وہ اب ایک دوسرے کے نسب تلاش کر رہے ہیں۔ یہ منظر شناخت کی سیاست پر ایک گہرا طنز ہے۔ شاعر اس ذہنیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں زندہ انسان کے کردار، محنت اور موجودہ تعلق سے زیادہ اس کا ماضی، نسب، زبان یا جائے پیدائش اہم بنا دیا جاتا ہے۔
بندرگاہ، یونیورسٹی، سڑک اور سمندر
نظم میں شہر کے مختلف ادارے اور مظاہر بھی علامتی آوازیں اختیار کرتے ہیں:
“بندرگاہ نے کہا
میں سب کا راستہ ہوں”
بندرگاہ تجارت، رابطے اور دنیا سے تعلق کی علامت ہے۔ وہ کسی ایک گروہ کا راستہ نہیں، وہ شہر کو بیرونی دنیا سے ملاتی ہے۔ اس لیے اسے ایک محدود شناخت میں قید کرنا اس کے بنیادی کردار کے منافی ہے۔
اسی طرح:
“یونیورسٹی نے کہا
علم کا کوئی ڈومیسائل نہیں ہوتا”
یہ مصرع خاص طور پر فکری سطح پر اہم ہے۔ علم جغرافیائی، نسلی یا لسانی ملکیت کو قبول نہیں کرتا۔ یونیورسٹی یہاں صرف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ عقل، تحقیق، مکالمے اور آزاد فکر کی علامت ہے۔
پھر سڑک کہتی ہے:
“میرے قدموں کے نیچے
سب کے قدموں کے نشان ہیں”
سڑک شہر کے مشترکہ سفر کی علامت ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتی کہ اس پر چلنے والا کون ہے؟ اس کے قدموں کے نشان اجتماعی زندگی کی مشترکہ تاریخ ہیں
اور آخر میں سمندر کہتا ہے:

“تم زمین کو بانٹ سکتے ہو
مگر لہروں کو کیسے بانٹو گے؟”

یہ نظم کے بہترین علامتی سوالات میں سے ایک ہے۔ زمین کی سرحدیں انسان کھینچتا ہے، مگر قدرتی بہاؤ سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔ سمندر یہاں آفاقیت، تسلسل اور انسانی ساختہ تقسیموں سے ماورا حقیقت کی علامت بن جاتا ہے۔
نظم کا سیاسی و سماجی سوال
نظم کا فکری دائرہ صرف تاریخی شناخت تک محدود نہیں رہتا بلکہ موجودہ انتظامی اور سیاسی مسائل تک پہنچتا ہے:

“کیا ملک کو
مزید صوبوں کی ضرورت ہے؟
یا مزید انصاف کی؟”

یہاں شاعر ایک اہم امتیاز قائم کرتا ہے: انتظامی تبدیلی اور حقیقی انصاف ایک ہی چیز نہیں۔

نئی صوبائی یا انتظامی حد بندی ایک انتظامی حل ہو سکتی ہے مگر اگر بنیادی مسائل یعنی پانی، گیس، اختیار، نمائندگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور جواب دہ حکومت حل نہ ہوں تو محض نئی لکیر کھینچ دینے سے شہری زندگی کے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوتے۔
اسی لیے اگلا سوال اہم ہے:

“کیا نئی حد بندی
نئے دل بنائے گی؟
یا پرانے زخم
نئی لکیروں سے
اور گہرے ہوں گے؟”

یہاں “لکیر” ایک دوہری علامت ہے۔ ایک طرف وہ انتظامی ضرورت کی نمائندگی کرتی ہے اور دوسری طرف تقسیم، شناختی کشمکش اور سیاسی فاصلے کی۔ شاعر کسی انتظامی حل کو اصولاً رد نہیں کرتا بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ حد بندی کا مقصد کیا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
کراچی کی فریاد: حقوق کا بیانیہ،
نظم کے اہم ترین مقامات میں کراچی کی براہِ راست گفتگو ہے:

“مجھے میرا حق دو
مجھے پانی دو
مجھے گیس دو
مجھے اختیار دو
مجھے فیصلہ کرنے کا حق دو
مجھے جواب دہ حکومت دو”

یہاں نظم علامتی سطح سے نکل کر عملی شہری سیاست کے سوالات کو چھوتی ہے۔ “پانی” اور “گیس” محض وسائل نہیں بلکہ بنیادی شہری حقوق کی علامت ہیں۔ “اختیار” اور “فیصلہ کرنے کا حق” مقامی حکمرانی اور سیاسی نمائندگی کے سوالات ہیں، جب کہ “جوابدہ حکومت” اچھی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے۔
اس حصے کی قوت یہ ہے کہ شاعر کراچی کے مسئلے کو صرف شناخت کا مسئلہ نہیں رہنے دیتا۔ وہ اسے حقوق، وسائل، اختیار اور حکمرانی کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ یوں نظم کا مرکزی سوال “شہر کس کا ہے؟” بدل کر یہ بن جاتا ہے کہ شہر کے باشندوں کو ان کا حق کون دے گا؟
شناخت سے حق تک: نظم کی فکری پیش رفت
نظم کا ایک قابلِ ذکر فنی پہلو اس کی فکری progression ہے۔ آغاز میں سوال ملکیت کا ہے، پھر بات تاریخ تک جاتی ہے، تاریخ سے شناخت تک، شناخت سے تقسیم تک، تقسیم سے انتظامی ڈھانچے تک اور آخر میں انصاف اور اجتماعی مستقبل تک پہنچتی ہے۔
اس طرح نظم کا فکری سفر کچھ یوں بنتا ہے:
شہر → تاریخ → شناخت → ہجرت → تقسیم → اختیار → انصاف → مشترکہ مستقبل

یہی تسلسل نظم کو محض جذباتی یا سیاسی نعرہ بننے سے محفوظ رکھتا ہے۔
ہجرت اور مقامی ہونے کا سوال
نظم کا آخری اہم فکری نکتہ یہ ہے:
“شہر کسی ایک ہجرت کا انعام نہیں
نہ کسی ایک قوم کی میراث ہے”

یہاں شاعر دونوں انتہاؤں سے فاصلہ اختیار کرتا ہے۔ نہ وہ کسی قدیم سکونت کو نظرانداز کرتا ہے اور نہ ہجرت کرنے والوں کے کردار کو۔ اس کے بعد وہ نہایت جامع تصور پیش کرتا ہے:
“کل کے مقامی بھی ہیں
آج کے مہاجر بھی
اور آنے والے کل کے
بچے بھی”
یہ مصرعے شہر کو نسلی وراثت کے بجائے نسلوں کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ “کل کے مقامی” ماضی کی تاریخ ہیں، “آج کے مہاجر” حال کی حقیقت ہیں اور “آنے والے کل کے بچے” مستقبل کی امید۔ یوں شاعر ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی شہری وحدت میں جمع کر دیتا ہے۔
یہ دراصل نظم کا سب سے جامع انسانی فلسفہ ہے: شہر صرف ان لوگوں کا نہیں جو پہلے آئے، وہ ان لوگوں کا بھی ہے جو آج اسے بناتے ہیں اور ان بچوں کا بھی جو کل اس میں زندگی گزاریں گے۔
اختتامی سورج: ایک غیر جانب دار امید
نظم کا اختتام بھی علامتی طور پر بہت بامعنی ہے:
“دور افق پر سورج نکلتا ہے
بے نام
بے تعصب
سب کے لیے”
سورج یہاں امید، مساوات اور مستقبل کی علامت ہے۔ وہ کسی قوم، زبان، جماعت یا گروہ کا سورج نہیں۔ اس کی روشنی سب کے لیے ہے۔
یہ اختتام نظم کو محض شکایت یا احتجاج پر ختم نہیں ہونے دیتا۔ شاعر اختلافات، محرومیوں اور شناختی کشمکش کے باوجود ایک ایسے مستقبل کی امید قائم رکھتا ہے جہاں روشنی کی تقسیم شناخت کی بنیاد پر نہ ہو۔

ادبی سطح پر نظم کا اسلوب آزاد نظم کی روایت سے قریب ہے۔ مختصر مصرعے، وقفے، مکالماتی انداز اور مسلسل سوالات نظم کو ایک ڈرامائی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ مختلف آوازوں کی شمولیت نظم میں polyphonic یعنی کثیرآوازی تاثر پیدا کرتی ہے۔
زبان مشکل یا ثقیل نہیں۔ شاعر نے عام فہم الفاظ میں نسبتاً پیچیدہ سیاسی اور سماجی سوالات اٹھائے ہیں۔ “ریت”، “اینٹ”، “بندرگاہ”، “ریل”، “سڑک”، “سمندر”، “نقشۂ ہجرت”، “قلم” اور “سورج” جیسے الفاظ بیک وقت حقیقی اور علامتی دونوں سطحوں پر کام کرتے ہیں۔

نظم میں سوالیہ جملوں کا تسلسل بھی خاص فنی اہمیت رکھتا ہے۔ شاعر حتمی فیصلے صادر کرنے کے بجائے قاری کو سوالوں کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اس طرح قاری محض سامع نہیں رہتا بلکہ فکری مکالمے کا شریک بن جاتا ہے۔
نظم کی ایک ممکنہ فنی کمزوری
اگر تنقیدی دیانت کے ساتھ دیکھا جائے تو نظم کے بعض مقامات پر اس کا بیانیہ قدرے اعلانیہ اور خطیبانہ بھی ہو جاتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں شہری حقوق اور انتظامی مطالبات براہِ راست بیان کیے گئے ہیں۔ ان حصوں میں شعری ابہام اور علامتی تہہ داری نسبتاً کم ہو جاتی ہے اور نظم سیاسی مطالبے کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
تاہم اس کو مکمل کمزوری قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ نظم کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ اس میں فکری احتجاج اور شعری اظہار ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مزید یہ کہ کراچی کی شہری محرومیوں کے حوالے سے “پانی”، “گیس”، “اختیار” اور “جوابدہ حکومت” جیسے الفاظ نظم کے علامتی نظام کو عملی زندگی سے جوڑتے ہیں۔
مجموعی فکری قدر کے لحاظ سے
“شہر کس کا ہے؟” کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شاعر کراچی کی ملکیت کا فیصلہ کسی ایک تاریخی، نسلی یا سیاسی دعوے کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ وہ شہر کو ایک اجتماعی امانت کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک شہر نہ صرف ان لوگوں کا ہے جو اس کی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ ان کا بھی ہے جو اسے تعمیر کرتے ہیں، اس میں زندگی گزارتے ہیں، اس کے ادارے بناتے ہیں اور اس کے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔

نظم کا بنیادی فلسفہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ شناخت اہم ہے، تاریخ اہم ہے، ہجرت اہم ہے، مقامی نسبت بھی اہم ہے مگر ان سب سے بڑا سوال انصاف کا ہے۔ اگر شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولتیں، سیاسی اختیار، وسائل میں منصفانہ حصہ اور جواب دہ حکمرانی حاصل نہیں تو محض یہ طے کر لینا کہ شہر “کس کا” ہے، مسئلے کا حل نہیں۔
اسی لیے نظم کا اصل جواب شاید عنوان میں موجود سوال کا براہِ راست جواب نہیں بلکہ اس کی ازسرنو تعبیر ہے۔ سوال “شہر کس کا ہے؟” سے آگے بڑھ کر یہ بن جاتا ہے:
شہر کو اپنا کہنے کا حق کس طرح پیدا ہوتا ہے؟
اور نظم کا جواب ہے: محبت، محنت، شراکت، ذمہ داری، انصاف اور مستقبل کی مشترکہ تعمیر سے۔
اس اعتبار سے “شہر کس کا ہے؟” کراچی کے مخصوص سیاسی و تہذیبی پس منظر سے نکل کر ایک عالم گیر شہری فلسفہ بن جاتی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں مقامی اور نئے آنے والے، قدیم اور جدید، روایت اور تبدیلی، شناخت اور شہری حق کے درمیان جو کشمکش موجود ہے، نظم اسے کراچی کے استعارے میں بیان کرتی ہے۔
آخرکار سمندر کا سوال پوری نظم کا نچوڑ بن جاتا ہے:

“تم ملک بانٹنا چاہتے ہو
یا مسائل؟’

یہ سوال صرف سیاست دانوں، جماعتوں یا انتظامی منصوبہ سازوں سے نہیں، ہر اس انسان سے ہے جو شہر کو اپنی شناخت کا میدان بناتا ہے مگر اس کی اجتماعی ذمہ داری کو بھول جاتا ہے۔
اور جب نظم کا سورج “بے نام، بے تعصب، سب کے لیے” طلوع ہوتا ہے تو شاعر کی فکری منزل واضح ہو جاتی ہے: شہر کی اصل شناخت اس کے باشندوں کو تقسیم کرنا نہیں، انہیں ایک مشترکہ مستقبل میں شریک کرنا ہے۔
یوں “شہر کس کا ہے؟” بنیادی طور پر ملکیت کی نظم نہیں بلکہ شہری شراکت، تاریخی کثرت، اجتماعی انصاف اور انسان دوست مستقبل کی نظم ہے۔ اس کا جمالیاتی حسن اس کی علامتوں میں، فکری قوت اس کے سوالات میں، سماجی معنویت اس کے تاریخی شعور میں اور اخلاقی مرکز اس تصور میں ہے کہ شہر کسی ایک کے قبضے کی چیز نہیں، وہ نسلوں کی مشترکہ ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

شگر اسپانتک پر جاں بحق ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت 18 روز بعد لاہور روانہ، شگر کے رضاکار کوہ پیماؤں نے بغیر معاوضے کے ریسکیو کرکے انسانیت کی مثال قائم کردی

سکردو میں مبینہ ڈکیتی کے واقعے پر کئی سوالات. سکردو میں مبینہ ڈکیتی یا واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش ؟ سنسنی خیز انکشافات متوقع
Critical Review

50% LikesVS
50% Dislikes

نقد و نظر بر نظم “شہر کس کا ہے”از قلم یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان . شاعر: کامران مغل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں