ضمیر زندہ ہو تو انسان اکیلا بھی حق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے. شبیر حسین کمال
انسان کی اصل پہچان اس کے لباس، دولت، عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور زندہ ضمیر سے ہوتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہجوم کے ساتھ چلنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ انہیں تنہائی سے خوف آتا ہے۔ مگر تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو حق کو حق سمجھ کر اس کے ساتھ کھڑے ہوئے، چاہے اس وقت ان کے ساتھ کوئی دوسرا موجود نہ ہو۔
زندہ ضمیر انسان کے اندر موجود وہ آواز ہے جو اسے اچھائی اور برائی میں فرق سمجھاتی ہے۔ جب انسان کسی مظلوم پر ظلم ہوتے دیکھ کر بے چین ہو، کسی بے گناہ پر الزام لگتے دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے، اور اپنے فائدے کے لیے حق کو قربان کرنے سے انکار کر دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر حق کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ کبھی رشتوں کی وجہ سے، کبھی دوستی کی وجہ سے، کبھی اپنے مفاد کی خاطر اور کبھی لوگوں کے خوف سے۔ ہم جانتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، لیکن سچ بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے حق بات کہی تو شاید لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لوگوں کی ناراضی زیادہ اہم ہے یا اللہ کی رضا؟
قرآن کریم ہمیں عدل و انصاف پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے، خواہ یہ انصاف ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان حق کے معاملے میں کسی شخصیت، رشتے یا مفاد کا غلام نہ بنے۔حضرت امام حسینؑ کی زندگی ہمیں اسی حقیقت کا عظیم درس دیتی ہے۔ کربلا میں امام حسینؑ کے ساتھ تعداد میں بہت کم لوگ تھے، جبکہ مقابلے میں ایک بہت بڑا لشکر موجود تھا۔ اگر معیار صرف تعداد ہوتا تو شاید حق کی پہچان مشکل ہو جاتی، مگر امام حسینؑ نے ثابت کر دیا کہ حق کی طاقت تعداد میں نہیں، صداقت میں ہوتی ہے۔ ایک شخص بھی حق پر ہو تو وہ حق ہی پر ہوتا ہے، اور ہزاروں لوگ باطل کے ساتھ ہوں تو باطل، باطل ہی رہتا ہے۔
ہمیں اپنی زندگی میں بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہجوم کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا حق کا ساتھی؟ اگر ہر شخص یہ سوچے کہ پہلے کوئی دوسرا آواز اٹھائے، پھر میں اس کا ساتھ دوں گا، تو ظلم کے خلاف کبھی مضبوط آواز پیدا نہیں ہوگی۔ تبدیلی ہمیشہ کسی ایک باہمت انسان کے قدم سے شروع ہوتی ہے۔
زندہ ضمیر انسان کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے روکتا ہے۔ وہ اسے جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، غیبت کرنے اور کسی کا دل توڑنے کے بعد سکون سے نہیں رہنے دیتا۔ اس کے برعکس جب انسان مسلسل اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا رہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے گناہ بھی معمولی محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی ضمیر کی موت کی ابتدا ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے دل اور ضمیر کا محاسبہ کریں۔ اگر ہم سے غلطی ہو تو اسے تسلیم کریں، کسی پر ظلم کیا ہو تو معافی مانگیں، کسی کا حق مارا ہو تو واپس کریں اور جہاں حق بات کہنا ضروری ہو وہاں خاموشی اختیار نہ کریں۔
یاد رکھیں اکیلا ہونا شکست نہیں، اگر انسان حق کے ساتھ ہو۔ اور ہجوم میں کھڑا ہونا کامیابی نہیں، اگر انسان باطل کا ساتھ دے رہا ہو۔دنیا شاید کچھ وقت کے لیے سچ بولنے والے انسان کو اکیلا چھوڑ دے، مگر تاریخ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔ حق کی راہ مشکل ضرور ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت، کردار اور حقیقی کامیابی عطا کرتا ہے۔اس لیے اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں، حق کو پہچانیں اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کریں؛ کیونکہ جب ضمیر زندہ ہو تو انسان اکیلا بھی پوری دنیا کے سامنے حق کی آواز بن سکتا ہے۔
ضمیر زندہ ہو تو انسان اکیلا بھی حق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے. شبیر حسین کمال
Conscience Is Alive




