زندگی کی رفتار اور خاموش لمحوں کی حکمت. ۔سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
زندگی ایک عجیب اور پُراسرار سفر ہے، کبھی تیز رفتار دریا کی مانند، جو اپنے بہاؤ میں راستے کی ہر رکاوٹ کو بہا لے جاتا ہے، اور کبھی کسی سنسان جھیل کی طرح، جہاں پانی بظاہر ساکن ہوتا ہے مگر اس کی گہرائیوں میں ان گنت کہانیاں جنم لے رہی ہوتی ہیں۔ ہم انسان بھی اسی تضاد کا حصہ ہیں؛ کبھی ہم وقت کے ساتھ دوڑتے ہیں اور کبھی وقت ہم سے آگے نکل جاتا ہے۔ مگر اس ساری کشمکش میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔۔کیا ہم واقعی جینے کا ہنر سیکھ پائے ہیں؟
آج کا انسان ترقی کے زعم میں اس قدر آگے نکل آیا ہے کہ اس نے اپنے اندر جھانکنے کی روایت کو تقریباً ترک کر دیا ہے۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ شروع ہونے والی دوڑ رات کی تاریکی تک جاری رہتی ہے۔ دفتر، کاروبار، تعلیم، سوشل میڈیا، یہ سب مل کر ایک ایسا جال بناتے ہیں جس میں انسان خود کو مصروف تو رکھتا ہے مگر مطمئن نہیں کر پاتا۔ بظاہر کامیابی کے زینے چڑھتے ہوئے بھی دل کے کسی کونے میں ایک خلا باقی رہتا ہے، ایک خاموش تشنگی جو کسی شور سے نہیں بلکہ سکون سے مٹ سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خاموشی اپنی اہمیت منواتی ہے۔ خاموشی صرف آواز کا نہ ہونا نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے باطن سے جڑتا ہے۔ جب ہم خود کو شور سے الگ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر کی وہ آواز سنائی دیتی ہے جسے ہم روزمرہ کی ہلچل میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی آواز ہمیں ہماری اصل خواہشات، خوف، اور خوابوں سے روشناس کراتی ہے۔
بدقسمتی سے، ہم نے تنہائی کو منفی رنگ دے دیا ہے۔ ہم اسے اداسی، تنہائی اور محرومی سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تخلیقات ہمیشہ تنہائی کے دامن میں پروان چڑھی ہیں۔ شاعر کی فکر، ادیب کا قلم، اور فلسفی کی سوچ، all انہی خاموش لمحوں کی دین ہوتے ہیں۔ تنہائی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ، زندگی میں توازن کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہم صرف رفتار کو ہی کامیابی سمجھ لیں تو ہم تھکن، بے چینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ دوسری طرف، اگر ہم صرف سکون میں ڈوبے رہیں تو زندگی کی عملی حقیقتوں سے کٹ جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دونوں کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کریں، ایسا توازن جو ہمیں نہ صرف کامیاب بلکہ مطمئن بھی بنائے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ ایسے لمحات ضرور شامل کریں جو صرف ہمارے لیے ہوں۔ یہ لمحات کسی پارک میں چہل قدمی کے ہو سکتے ہیں، کسی کتاب کے ساتھ خاموش بیٹھنے کے، یا صرف اپنے خیالات کے ساتھ وقت گزارنے کے۔ یہ مختصر وقفے نہ صرف ہمارے ذہن کو تازگی دیتے ہیں بلکہ ہماری روح کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں ہر لمحہ کسی نہ کسی اسکرین سے جڑا ہوا ہے، خاموشی اور تنہائی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ کب ہمیں دنیا سے جڑنا ہے اور کب خود سے۔ کیونکہ اگر ہم خود سے ہی کٹ گئے تو دنیا سے جڑنا بھی بے معنی ہو جائے گا۔
آخرکار، زندگی نہ تو صرف ایک دوڑ ہے اور نہ ہی مکمل سکون کا نام۔ یہ ایک حسین امتزاج ہے، حرکت اور ٹھہراؤ کا، شور اور خاموشی کا۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اس امتزاج کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لیں۔ کیونکہ اصل خوشی منزل میں نہیں بلکہ اس سفر میں پوشیدہ ہے جسے ہم ہر روز جیتے ہیں، چاہے وہ تیز رفتار ہو یا خاموشی سے بھرپور۔
column in urdu Wisdom of Silent Moments
اسکردو کا دوسرا رخ . طہٰ علی تابشٓ بلتستانی




