استاد مستقبل کا معمار, آمینہ یونس، بلتستانی
اگر استاد نہ ہو تو انسان جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جو انسان کے دل و دماغ کو علم و شعور کی روشنی عطا کرتی ہے اور اسے صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ معاشرے کی بنیاد ہے، جس کے بغیر کسی بھی تہذیب یا نظام کا قائم رہنا ممکن نہیں۔ استاد کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ انسان کو صرف پڑھنا لکھنا ہی نہیں سکھاتا بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے اور بہتر انسان بننے کا سلیقہ بھی دیتا ہے۔ استاد کی حیثیت معاشرے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جس طرح ایک مضبوط بنیاد کے بغیر عمارت قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح استاد کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کا وہ حقدار ہے۔ عزت و احترام جو اس عظیم پیشے کا حق ہے، وہ اکثر دوسرے طبقات کو حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ استاد نظر انداز ہو جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہو تو تعلیم کے ساتھ ساتھ استاد کی قدر و منزلت بھی لازم ہے۔ استاد دراصل مستقبل کے معمار ہیں جو نسلِ نو کی تعمیر و تربیت کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے اندر علم کے ساتھ ساتھ اخلاق، ذمہ داری اور کردار کی مضبوطی پیدا کرتے ہیں۔ ایک اچھا استاد صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے شاگردوں کو زندگی گزارنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے، تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور باشعور فرد بن سکیں۔ استاد کا کردار ایک رہنما کی طرح ہوتا ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے۔ اس کی محنت سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں اور معاشرے میں بہتری آتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو عزت دیں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ استاد کی قدر کرنا دراصل اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہے، اور استاد کی ناقدری اپنے ہی مستقبل کو تاریک کرنے کے مترادف ہے۔
column in urdu Inspiring the Future Generation




