column in urdu Hypocritical Reality of the Western 0

“مغربی نظام کی منافقانہ حقیقت”. تحریر: کرامت علی جعفری
یہ ایرانی قوم ہے جو ابتدا ہی سے امریکہ اور اسرائیل جیسے دہشت گرد قوتوں سے برسرپیکار رہی ہے۔ اسے اپنے دشمن کی پہچان روز اول سے ہی کرادی گئی تھی۔  اس قوم کے بے باک  سربراہوں نے سینتالیس سال پہلے سے عوام کے سامنے پالیسیاں واضح رکھ کر، عوام کا اعتماد حاصل کیا اور میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، جنگ کے چالیس دن بعد عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی ناکام کوشش میں ٹرمپ اور مارکو روبیو شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں جنگ کے خلاف احتجاجاً تقریباً دس ملین لوگوں کے اجتماعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ امریکہ، جو دوسرے ممالک میں جمہوریت کے صحیح نفاذ کا ڈھونگ رچاتا ہے، خود اپنی ریاستوں میں عوام کی رائے کے خلاف فیصلے کرنے اور بیانات دینے میں لمحہ بھر تاخیر نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ دوسرے ممالک کو کمزور رکھنے اور انہیں اپنے طاغوتی نظام کے اندر  قید رکھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
عوام الناس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں خواتین کے حقوق، بچوں کے حقوق، حکومتوں کے فرائض، ممالک کے درمیان تعلقات اور دیگر اہم امور پر بات کرنا لوگوں کو بےوقوف بنانے اور محض کاغذی نمائش کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ جب انہی احمقوں کو موقع ملتا ہے تو غزہ کے اندر 64 ہزار سے زیادہ مرد و خواتین، خصوصاً بچوں کی کثیر تعداد، بے دردی سے شہید کر دی جاتی ہے۔ ایران میں ایک اسکول پر حملہ کرکے 250 سے زائد بچیوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر انسانیت کو لرزہ دینے والے واقعات تب لوگوں کے سامنے آتے ہیں جب جیفری ایپسٹین کی فائلیں کھل کر دنیا کے سامنے ان شیاطین عالم کے سفاک چہرے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
لیکن پھر بھی کچھ دنیا طلب حکمران، ضمیر فروش اور سوداگر لوگ ڈالرز اور دنیاوی طلب و لالچ میں اتنے گر جاتے ہیں کہ ایسے احمق اور منفور شخصیات اور ان کی بنائی گئی پالیسیوں کو اسلامی ممالک میں نافذ کرنے اور ان جیسے دہشت گردوں کو امن کا سفیر قرار دینے، اور اپنی چاپلوسی برقرار رکھنے کی ناکام کوشش میں نظر آتے ہیں۔ ایسے افراد دنیا کے نیچ ترین احمقوں میں سے ہیں، اور ان احمقوں کا شمار بھی انہی شیاطین عالم کے ساتھ ہوگا۔
رہی بات امت مسلمہ کی، تو یہ امت شہدائے فلسطین، لبنان، ایران، پاکستان، عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں بہنے والے شہداء کے خون سے عہد بستہ ہے، اور علمائے کرام اور باوقار دینی و با بصیرت شخصیات کے ساتھ اسلامی قوانین اور جمہوریہ اسلامی کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے، بغیر کسی مذہبی، لسانی یا علاقائی تعصب کے، تاکہ دنیا میں مظلومین عالم کی حکومت قائم ہو اور شیطانیت و فسطائیت کا خاتمہ ہو، إن شاء اللہ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Hypocritical Reality of the Western

آر ایچ کیو اسپتال میں صحت کارڈ عملے کی مبینہ ملی بھگت کا انکشاف

کھرمنگ ، موضع مادھو پور، کھرمنگ میں ایک نہایت دلخراش اور افسوس ناک واقعہ، دیکھتے ہی دیکھتے گھر جل کر خاکستر ہو گئے

امیرالدین امیر: علم، محبت اور فکر کا درخشاں استعارہ. : یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

مغربی نظام کی منافقانہ حقیقت. تحریر: کرامت علی جعفری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں