column in urdu Impact of Speech 0

صحبت کا اثر۔تعلقات کا انتخاب اور شخصیت کی تعمیر. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
انسان اپنی فطرت میں سماجی مخلوق ہے، اور اس کی شخصیت محض اس کے اپنے خیالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس ماحول اور صحبت کا عکس بھی ہوتی ہے جس میں وہ وقت گزارتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم جن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کے اندازِ فکر، گفتگو اور عادات غیر محسوس طریقے سے ہماری سوچ کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے انسان اپنی صحبت کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر یہ صحبت مثبت، باہمت اور تعمیری ہو تو انسان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں، لیکن اگر یہی حلقہ منفی سوچ، بے مقصد گفتگو اور حسد جیسے رویّوں سے بھرپور ہو تو یہ آہستہ آہستہ شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

معاشرے میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو ہر حال میں شکایت کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ حالات جیسے بھی ہوں، ان میں بہتری کے بجائے خرابی ہی دیکھتے ہیں، اور یہی منفی زاویۂ نگاہ دوسروں تک بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ دوسروں کے خوابوں اور ارادوں کو حقیقت بننے سے پہلے ہی ناممکن قرار دے دیتے ہیں۔ وہ اپنی کم ہمتی کو تجربہ یا حقیقت پسندی کا نام دے کر دوسروں کے حوصلے پست کرتے ہیں، حالانکہ ترقی ہمیشہ اُنہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، کچھ افراد کی دلچسپی لوگوں کے کردار پر گفتگو کرنے میں ہوتی ہے نہ کہ خیالات یا علم پر، اور یوں وہ نہ صرف وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ اعتماد کے رشتوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایک اور پہلو وہ ہے جہاں انسان اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ ایسے رویّے انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے سے روکتے ہیں، کیونکہ اصلاح کا پہلا قدم اپنی غلطی کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ افراد بھی کم نقصان دہ نہیں جو دوسروں کے وقت اور توانائی کو غیر اہم سمجھتے ہیں، بے مقصد مصروفیات میں الجھا کر زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر دیتے ہیں۔ وقت دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے، اور جو اس کی قدر نہیں کرتا وہ درحقیقت زندگی کی قدر نہیں کرتا۔

بعض تعلقات بظاہر مخلص نظر آتے ہیں مگر ان کے پیچھے حسد اور مقابلہ بازی چھپی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ تعریف کے پردے میں طنز چھپا کر دوسروں کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ اسی طرح خود کو سب کچھ جاننے والا سمجھنے والے افراد نہ صرف اپنی ترقی کا راستہ بند کرتے ہیں بلکہ دوسروں کی رائے کو بھی نظر انداز کر کے ایک محدود فکری دائرے میں قید ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر یہ رویّہ مکالمے اور سیکھنے کے عمل کو کمزور کر دیتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض تعلقات مفاد کے گرد گھومتے ہیں، جہاں ایک فرد مسلسل لینے والا اور دوسرا دینے والا بن جاتا ہے۔ ایسے تعلقات وقتی طور پر قائم تو رہ سکتے ہیں مگر دیرپا سکون فراہم نہیں کرتے۔ کچھ لوگ ہر معمولی بات کو غیر ضروری جذباتی ردعمل میں بدل دیتے ہیں، جس سے نہ صرف ماحول بوجھل ہو جاتا ہے بلکہ اردگرد کے افراد کی ذہنی توانائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ہمیشہ محفوظ دائرے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، نہ صرف خود آگے نہیں بڑھتے بلکہ دوسروں کو بھی خطرہ مول لینے سے روکتے ہیں، حالانکہ ترقی ہمیشہ دائرۂ سکون سے باہر نکلنے کا تقاضا کرتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بغیر تجربے کے مشورے دینے کا رجحان بھی عام ہے، جو اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ افراد ماضی کی یادوں میں اس قدر گم رہتے ہیں کہ حال اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے غافل ہو جاتے ہیں۔ خوشامد کرنے والے لوگ بھی ایک خاموش نقصان کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ وہ سچائی کے بجائے وقتی تعریف کو ترجیح دے کر شخصیت کی اصل نشوونما میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مزید برآں، قلیل مدتی فائدے پر نظر رکھنے والے افراد طویل مدتی کامیابی کے اصولوں سے دور رہتے ہیں، اور ان کی صحبت انسان کو بھی اسی طرزِ فکر کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ سب سے زیادہ پیچیدہ وہ رویّے ہیں جہاں جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، اور انسان کو احساسِ جرم میں مبتلا کر کے اس سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جاتے ہیں۔

ان تمام پہلوؤں کے باوجود یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسان کامل نہیں۔ ہر فرد کسی نہ کسی مرحلے پر کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دوسروں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ہم اپنی ذات کا جائزہ بھی لیتے رہیں۔ اصل دانشمندی یہی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو ہمیں بہتر انسان بننے میں مدد دیں، جو ہماری غلطیوں کی نشاندہی کریں اور ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں۔

آخرکار، تعلقات کا مقصد محض وقت گزارنا نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر ہونا چاہیے۔ اگر کسی مرحلے پر ہمیں اپنے حلقے میں تبدیلی لانی پڑے تو اسے بے وفائی نہیں بلکہ شعوری فیصلہ سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات تنہا رہنا، غلط صحبت میں رہنے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اور یہی انتخاب انسان کو ایک مضبوط، باوقار اور متوازن شخصیت کی طرف لے جاتا ہے۔

column in urdu Impact of Speech

آر ایچ کیو اسپتال میں صحت کارڈ عملے کی مبینہ ملی بھگت کا انکشاف

کھرمنگ ، موضع مادھو پور، کھرمنگ میں ایک نہایت دلخراش اور افسوس ناک واقعہ، دیکھتے ہی دیکھتے گھر جل کر خاکستر ہو گئے

امیرالدین امیر: علم، محبت اور فکر کا درخشاں استعارہ. : یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

صحبت کا اثر۔تعلقات کا انتخاب اور شخصیت کی تعمیر. سلیم خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں