column in urdu Luminous Symbol of Knowledge 0

امیرالدین امیر: علم، محبت اور فکر کا درخشاں استعارہ. : یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
امیرالدین امیر اردو ادب کے اُن باوقار، سنجیدہ اور ہمہ جہت اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و ادب کے فروغ، دینی شعور کی بیداری اور فکری بالیدگی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کا اصل نام امیرالدین ہے جبکہ ادبی دنیا میں وہ اپنے بامعنی تخلص “امیرؔ” سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے والدِ محترم محمد رکن الدین “رکن” ایک صاحبِ علم و ذوق شخصیت تھے، جن کی علمی وابستگی نے امیرالدین کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ بچپن ہی سے انہیں علم، ادب اور دینی اقدار سے گہرا شغف حاصل ہو گیا، جو آگے چل کر ان کی تحریروں کا نمایاں وصف بن گیا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

تعلیم کے میدان میں انہوں نے میٹرک کے ساتھ “عالم فاضل” کی سند حاصل کی، جو ان کے ہمہ گیر علمی پس منظر کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی فکری بنیادیں محض عصری تعلیم تک محدود نہیں رہیں بلکہ دینی علوم میں بھی ان کی گہری دسترس رہی۔ یہی توازن ان کی شاعری اور نثر میں وقار، سنجیدگی اور مقصدیت پیدا کرتا ہے۔ ان کے ہاں زبان کی شائستگی کے ساتھ فکر کی پختگی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔

ان کا شعری سفر 1963ء میں باقاعدہ طور پر شروع ہوا، جو اردو ادب میں فکری تغیرات کا دور تھا۔ روایت اور جدت کے درمیان جاری کشمکش میں امیرالدین نے ایک متوازن اور باوقار راستہ اختیار کیا۔ انہیں شور عابدی اور رشید احمد رشید جیسے اساتذہ کی شاگردی نصیب ہوئی، جن کی تربیت نے ان کے کلام میں عروضی پختگی، فکری گہرائی اور اسلوبی حسن پیدا کیا۔

ادبی خدمات کے لحاظ سے ان کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ ان کی شاعری اور نثر ہندوستان اور پاکستان کے مختلف معتبر ادبی جرائد میں شائع ہو چکی ہے، جو ان کے ادبی مقام و مرتبے کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے کلام میں حمد، نعت، غزل، نظم اور نثری نظم سبھی اصناف شامل ہیں۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور اخلاقی پیغام رکھتی ہے۔ ان کے اشعار میں محبت، انسانیت، صداقت اور روحانیت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے:

محبت جرم ہے یا آرزو کوئی خطا لوگو!
ذرا سی بات کو تم کیوں بنا دیتے ہو افسانہ

محنت سے ملے گا نہ مشقت سے ملے گا
قوت سے ملے گا نہ وہ دولت سے ملے گا
اے دوست! اگر چاہیے دنیا کا خزانہ
سچ یہ ہے کہ وہ سچی محبت سے ملے گا

ان کے کلام میں عشق کی لطافت، درد کی شدت اور احساس کی گہرائی ایک حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے:

ادا میں ان کی نزاکت دکھائی دیتی ہے
بہارِ شوق کی رنگت دکھائی دیتی ہے
تڑپ رہا ہوں مگر چارہ گر نہیں ملتا
تمہاری آج ضرورت دکھائی دیتی ہے

آنسو تو ہزاروں ٹپکے تھے، دامانِ محبت خالی تھا
اک اشک بھی ان کی آنکھوں کا، گوہر نہ بنا شبنم نہ ہوا

ان کی شاعری میں صرف ذاتی جذبات ہی نہیں بلکہ اجتماعی شعور بھی نمایاں ہے:

ایمان و صداقت کی، یقیں کی راہیں
بھٹکے ہوئے لوگوں کو دکھانا ہے مجھے

اے مرے دن کے رات کے مالک
جلوہ کائنات کے مالک
امن کی بھیک مانگتا ہے امیر
اس لرزتی حیات کے مالک

نثر کے میدان میں بھی امیرالدین نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے مضامین، تنقیدی تبصرے اور دینی موضوعات پر تحریریں نہایت مدلل، متوازن اور اثر انگیز ہوتی ہیں۔ ان کی نثر ایک سنجیدہ مفکر کی آئینہ دار ہے، جو قاری کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔

ان کی مطبوعہ تصانیف میں “ثریٰ”، “نشرح” اور “سعد” شامل ہیں، جو ان کے فکری و ادبی سفر کی نمائندہ کتب ہیں۔ خصوصاً “ثریٰ” کو اردو اکیڈمی کرناٹک کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا جانا ان کی ادبی عظمت کا اعتراف ہے۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے “غزل رتن”، “اردو رتن” اور “خدمت گارِ اردو ادب” جیسے اعزازات بھی مل چکے ہیں، جبکہ پاکستان کی ادبی تنظیموں نے بھی ان کی خدمات کو سراہا ہے۔

ان کے ہاں ایک وسیع غیر مطبوعہ ذخیرہ بھی موجود ہے، جو اشاعت کا منتظر ہے اور یقیناً اردو ادب میں قیمتی اضافہ ثابت ہوگا۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں وقت کے ساتھ مزید نکھرتی رہیں۔

بطور شخصیت، امیرالدین امیر نہایت منکسرالمزاج، سنجیدہ اور مخلص انسان ہیں۔ ان کی زندگی سادگی، خلوص اور مقصدیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ وہ صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں بلکہ ایک فکری رہنما ہیں، جن کی تحریریں قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

مجموعی طور پر امیرالدین امیر کی حیات و خدمات اردو ادب کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی ادبی کاوشیں نہ صرف ایک قیمتی سرمایہ ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کا کلام محبت، سچائی اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے اور یہی کسی بڑے ادیب کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

column in urdu Luminous Symbol of Knowledge

اسکردو کا دوسرا رخ . طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

50% LikesVS
50% Dislikes

امیرالدین امیر: علم، محبت اور فکر کا درخشاں استعارہ. : یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں