column in urdu Other Side of Skardu 0

اسکردو کا دوسرا رخ . طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
15 اپریل ، 2026 ۔
جب لفظ اسکردو ذہن میں آتا ہے تو ، ہماری سوچ کی طائر فیس بک ، انسٹاگرام ، اور دیگر سوشل پلیٹ فارم میں گردش کرتی خوبصورت ویڈوز اور فوٹوز کی طرف مائل ہو جاتی ہے ۔ اور ہم یوں ایک ذہنی سکون کی کیفیت میں ناچنے لگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ ہم منافقت اور دکھاوا کی اس قدر عادی ہو چکی ہوتی ہے کہ اب ہمیں حقیقت نظر ہی نہیں آتا۔
اگر میں اسکردو کی کل رقبہ کی بات کروں تو صرف سکردو (ضلع) کا کل رقبہ تقریباً 10,168 مربع کلومیٹر (بشمول وادی روندو) ہے، جبکہ 2022ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع سکردو کی کل آبادی 312,875 نفوس پر مشتمل ہے ۔
لیکن یہ تین لاکھ بارہ ہزار کی آبادی کس کرب سے گزر رہا ہے وہ ایک عام آدمی ہی بتا سکتا ہے ۔
میں باقی مسئلوں پر بات نہیں کرتا ، صرف اور صرف بجلی کی مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
اسکردو کے آفیشل ز اور حکمران عام عوام کے ساتھ ڈول گیمز کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ہمیں سردیوں میں بتایا جاتا ہے کہ ” ٹھنڈ بڑھ گئی ہے ، برف باری زیادہ ہے ، درجہ حرارت گر چکی ہے تو لہذا پاور ہاؤس کو چلانے کے لیے پانی نہیں ہے ” جس کی وجہ سے اسکردو کے عام عوام تیس تیس گھنٹے اندھیرے میں گزار دیتے ہیں ۔ یہ تو میں شکر کرتا ہوں کہ امریکہ، ایران وار کی وجہ سے ایک میزائل ہمارے کچورا پاور ہاؤس میں نہیں گرا ورنہ اسے ٹھیک ہونے میں تقریباً سو سال لگ جاتے ۔کبھی پاور ہاؤس کا فیوز اڑھ جاتے ہیں تو کبھی انجن خراب ہو جاتے ہیں تو کبھی کچھ تو کبھی کچھ ۔ یہ پاؤر ہاؤس وہ بوڑھی بھینس ہے جس میں بیک وقت ایک ہزار سے زائد بیماریاں ہیں جسے کبھی ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ۔ خیر : جوں جوں ہم سردی کی اس بد ترین لوڈ شیڈنگ سے باہر آتے ہیں تو ہمیں یہ امید دلائی جاتی ہے کہ اب گرمیوں میں کم از کم لوڈ شیڈنگ نہیں ہونگی ۔ لیکن اس بوڑھی بھینس کو پھر ایک نئی کہانی سے پیش کر دی جاتی ہے ۔ایران کے پورے پاؤر ہاؤس کو اسرائیل نے میزائل سے اڑیا تھا لیکن تین دن کے اندر ہی اندر اسے ٹھیک کیا گیا ۔ لیکن ہماری پاور ہاؤس کو اڑانے کی ضرورت نہیں ہے بس اگر معمول کے مطابق زیادہ تیز ہوا چلی تو یہ بچارا خراب ہو جاتا ہے ۔ ” میری حکمرانوں اور حکومت کے آفیشل سے درخواست ہے کہ عوام کو نوچیں نہیں بلکہ آرام سے کھائیں، یہ سب زندہ لاش ہیں، کہیں بھاگ کے نہیں جا رہے ” ۔
ہم تو پیچھلے دو سالوں سے 220 والٹ کو صرف دیکھنے کے لیے ترس گیا ہوں ۔ یہ 127 سے اوپر جاتا ہی نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے فریج خراب ، موبائل خراب ، لیپ ٹاپ خراب ، حتی کہ گھر میں استعمال کرنے والی مکسر مشین بھی خراب ہو جاتی ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں ، صرف دریائے سندھ پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جب کہ پورے اسکردو کی مجموعی ضرورت دو سو میگا واٹ ہے ۔ لیکن افسوس ہماری حکمرانوں نے آج بھی ہمیں بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا ہے ۔
کبھی ہم مذہب کو ووٹ دیتے رہے تو کبھی بلے کو تو کبھی مریم نواز اور بلاول کے دھوکے میں آگئے ۔ بلاول بھٹو کیا عوام کا دکھ سمجھیں وہ باہر کی درجہ حرارت منفی سترہ ہو یا پچیس وہ کمرے کے اندر ٹی شرٹ میں ہی رہتا ہے اور کہیں جانا ہوا تو تب بھی اے سی سے لیز گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ۔ محترمہ مریم نواز صاحبہ کی سینڈل پچیس پچیس لاکھ کی ہے وہ کیا عوام کی درد سمجھیں ۔خیر میری شکایت ان سے نہیں جن سے میری دسترس تک نہیں بلکہ میری شکایت ہمارے شہر کی ان غدار حکمرانوں سے ہیں جو اس اے آئی کی دور میں بھی عام کو بنیادی ضرورتیں تک نہیں سے سکے ۔ نا جاب ہے اور ناہی بنیادی سہولتیں ۔ باقی عام عوام کو ہم نے مذہبی خلش ، لڑائی جھگڑا ، اور شیعہ ، سنی میں اس قدر مصروف رکھا ہوا ہے ۔ اور انہیں کبھی یہ نا انصافیاں نظر ہی آتی ۔ باقی جو اشرفیہ یعنی امیر طبقہ ہے انہیں یا تو اسپیشل لائنز موجود یے یا لاکھوں کی سولر پلیٹیں لگوائی ہوئی ہے ۔ انہیں کبھی فرق نہیں پڑے گا ۔
خدارا !!
اس عوام اور نوجوانوں پر رحم کریں ۔ ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ، ہم جاب خود سے کریٹ کر سکتے ہیں لیکن کم از کم ہمیں بنیادی ضرورتیں تو دیں ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

نوٹ :
اس تحریر کو اس قدر شئیر کریں کہ عام عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچ سکے ۔ اور انہیں پتا چلے کہ ظلم سے حکومتیں قائم نہیں رہ سکتی۔

column in urdu Other Side of Skardu

گلگت بلتستان کے مشہور پھل خوبانی اور اس کے فوائد. آمینہ یونس،بلتستانی

پاکیزہ عشق . طہ علی تابشٓ بلتستانی

50% LikesVS
50% Dislikes

اسکردو کا دوسرا رخ . طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں