شاہدہ خورشید کے حلقے GBA-13 استور-1 میں انتخابی دھاندلی. جی ایم ایڈوکیٹ
انتخابات جدید جمہوری ریاست کا بنیادی ستون اور عوامی حاکمیت (Popular Sovereignty) کے عملی اظہار کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ مشاورت اور عوامی رائے لینے کا تصور انسانی تاریخ میں قدیم یونان، رومی جمہوریہ اور مختلف تہذیبوں میں مختلف صورتوں میں موجود رہا، تاہم جدید انتخابی نظام اٹھارویں اور انیسویں صدی میں نمائندہ جمہوریت (Representative Democracy) کے فروغ کے ساتھ ایک باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر گیا۔ معروف سیاسی مفکرین John Locke، Jean-Jacques Rousseau اور Abraham Lincoln نے اس تصور کو تقویت دی کہ حکومت کی اصل طاقت عوام سے آتی ہے اور عوام کی رضا کے بغیر کوئی اقتدار اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں رکھتا۔ اسی فلسفے کی بنیاد پر آج دنیا بھر میں انتخابات کو اقتدار کی پرامن منتقلی، عوامی شرکت اور حکمرانوں کے احتساب کا سب سے اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے. قانون اور جمہوریت کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ “The Ballot is Stronger than the Bullet” یعنی بیلٹ کی طاقت بندوق سے زیادہ پائیدار اور مؤثر ہوتی ہے، جبکہ انتخابی قانون کا ایک معروف اصول “The Will of the People Shall Be the Basis of the Authority of Government” یہ تقاضا کرتا ہے کہ حکومت کی قانونی حیثیت عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے جنم لے۔ اسی طرح عدالتی اور انتخابی نظائر میں بارہا اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ “Elections must not only be free and fair but must also appear to be free and fair.” یعنی انتخابات صرف منصفانہ ہونا کافی نہیں بلکہ منصفانہ نظر بھی آنے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو ہر جمہوری نظام کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس انتخابی دھاندلی، جعلی ووٹنگ، بیلٹ باکس میں مداخلت، سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال یا عوامی مینڈیٹ کو مسخ کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف ایک قانونی جرم بلکہ پورے جمہوری نظام کے خلاف حملہ تصور کی جاتی ہے۔ جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا ووٹ نتائج پر اثر انداز نہیں ہوتا یا ان کے حقِ رائے دہی کو دھاندلی کے ذریعے بے معنی بنا دیا جاتا ہے تو ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، سیاسی بے چینی پیدا ہوتی ہے اور قانون کی حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔ انتخابی دھاندلی درحقیقت صرف ایک امیدوار یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے، جمہوری اقدار اور عوامی اعتماد کے خلاف جرم ہوتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں انتخابات کی ساکھ مجروح ہوئی وہاں سیاسی عدم استحکام، عوامی احتجاج، ادارہ جاتی تنازعات اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس جہاں انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد رہا وہاں ریاستی استحکام، قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کو فروغ ملا۔ اسی لیے دنیا بھر کے جمہوری نظاموں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر انتخابی عمل پر معمولی سا بھی معقول شبہ پیدا ہو جائے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اور مؤثر کارروائی کے ذریعے حقیقت کو سامنے لائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور جمہوریت کا بنیادی مقصد، یعنی عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام، محفوظ رہ سکے۔ اس تناظر میں گلگت بلتستان GBLA-13 استور-1 کے انتخابات اور دھاندلی پر جامع قانونی تجزیہ پیش خدمت ہے. اس حلقے پر پورے پاکستان کی نظر تھی کیونکہ یہ حلقہ سابقہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا حلقہ تھا جہاں سے اس کی والدہ آزاد امیدوار محترمہ شاہدہ الیکشن لڑ رہی تھیں جس پر ہر طرح کی پابندیاں لگائی گئی تھیں تحریک انصاف پاکستان کا نشان چھینا گیا، الیکشن کمپین کے دوران پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بینرز لگانے پر محترمہ شاہدہ کو ماورائے قانون نوٹسز جاری کئے گئے گویا یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ محترمہ شاہدہ اگر جیت بھی جائے تو اس کو سیٹ By Policy نہیں مل سکتی ہے اس کے باوجود حلقے کی عوام ووٹرز سپورٹرز نے زبردست حمایت کا اظہار کیا مگر انتہائی sophisticated rigging کے زریعے محترمہ شاہدہ کو ہرانے کی کوشش کی گئی. بہت سارے ہتھکنڈے استعمال ہوئے کالم کو طوالت سے بچانے کے لیے ان کا زکر یہاں ممکن نہیں المختصر محترمہ شاہدہ خورشید کی جانب سے کل میں اور دیگر وکلاء نے چیف الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے روبرو الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 8(c)، 80، 88، 95 اور 9(1) کے تحت ایک تفصیلی درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حلقے کے متعدد پولنگ اسٹیشنز بالخصوص چورت میل، چورت فیمیل، رحمان پور میل، رحمان پور فیمیل، ناکے اور زیپور میں پولنگ کا عمل قانون، انتخابی قواعد اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق نہیں ہوا اور وہاں ایسی سنگین بے ضابطگیاں، انتخابی دھاندلی، جعلی ووٹنگ، جعلی بیلٹ پیپرز کے استعمال اور انتظامی بدانتظامی کے شواہد سامنے آئے ہیں جنہوں نے انتخابی نتائج کی شفافیت، ساکھ اور قانونی حیثیت کو مشکوک بنا دیا ہے ہم نے اس سے قبل 08 جون 2026 کو ریٹرننگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر استور کے سامنے باقاعدہ طور پر ری کاؤنٹنگ، ری چیکنگ، ری پول اور فریش پول کی درخواست جمع کروائی تھی، تاہم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 95 کے واضح تقاضوں کے باوجود، جس کے تحت ری کاؤنٹنگ کا عمل لازم ہو جاتا ہے، متعلقہ انتخابی حکام نے درخواست پر کوئی مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی اور مزید یہ کہ زیپور پولنگ اسٹیشن کو مناسب جانچ پڑتال کے بغیر نظر انداز کرتے ہوئے فارم 47 جاری کر دیا گیا، جو الیکشن ایکٹ کے دفعات 88 اور 95 کی خلاف ورزی ہے۔ پٹیشن میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ چورت فیمیل اور ناکے پولنگ اسٹیشنز کے پریذائیڈنگ افسران نے خود سرکاری فارم 45 اور فارم 46 میں بالترتیب 75 اور 200 جعلی ووٹوں کا اندراج کیا ہے، جبکہ ان فارموں پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط موجود نہیں اور بعض مقامات پر پریذائیڈنگ و اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسران کے انگوٹھوں کے نشانات بھی موجود نہیں، جو انتخابی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں پورے حلقے میں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 45 فیصد سے کم رہا جبکہ متنازعہ پولنگ اسٹیشنز میں 80 فیصد سے زائد ووٹنگ ظاہر کی گئی اور زیپور پولنگ اسٹیشن میں . Issued ووٹرز سے بھی زیادہ ووٹ ڈالے جانے کا دعویٰ سامنے آیا، جو نہ صرف غیر معمولی بلکہ ریاضیاتی طور پر بھی ناممکن صورتحال ہے عین شاہدین کا دعویٰ ہے کہ ناکے پولنگ اسٹیشن پر 400 سے زائد، زیپور پولنگ اسٹیشن پر 600 سے زائد جبکہ چورت اور رحمان پور کے پولنگ اسٹیشنز پر تقریباً 1000 یا اس سے زائد جعلی اور مشتبہ ووٹ ڈالے گئے اور گنتی کے دوران متعدد بیلٹ پیپرز میں سرکاری مہر کے سائز، سیاہی، دستخطوں، سیریل نمبرز اور دیگر حفاظتی علامات میں نمایاں فرق پایا گیا، جس سے جعلی بیلٹ پیپرز کے استعمال کا شبہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے. درخواست گزار کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ایک منظم اور پہلے سے تیار کردہ منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کی سرکاری مہروں سے مشابہ مہریں تیار کی گئیں اور اصل بیلٹ پیپرز سے مشابہ جعلی بیلٹ پیپر چھاپ کر مخصوص افراد کے ذریعے بیلٹ بکسوں میں ڈالے گئے، جبکہ ابتدائی جانچ کے دوران کم از کم 275 جعلی ووٹ انتخابی عملے اور پریذائیڈنگ افسران نے خود شناخت کیے، تاہم یہ صرف وہ ووٹ تھے جو فوری طور پر پکڑے جا سکے اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگرچہ کامیاب امیدوار اور درخواست گزار کے درمیان فرق صرف 452 ووٹ ہے اور حلقے میں مجموعی طور پر 20,145 ووٹ پول ہوئے ہیں، یعنی فرق محض 1.09 فیصد بنتا ہے، جبکہ درخواست گزار خود 6,800 ووٹ حاصل کر چکی ہیں، اس لیے قانون اور انصاف دونوں کا تقاضا ہے کہ متنازعہ پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی مکمل ری کاؤنٹنگ، ری چیکنگ اور فرانزک جانچ کرائی جائے۔ پٹیشن میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ یونین کونسل منیمرگ اور قمری کے تمام پولنگ اسٹیشنز کی ری چیکنگ و ری کاؤنٹنگ کی جائے جبکہ رحمان پور میل و فیمیل، چورت میل و فیمیل، ناکے اور زیپور پولنگ اسٹیشنز پر ری پول کا حکم صادر کیا جائے، کیونکہ انتخابی نتائج پر ان بے ضابطگیوں کا براہ راست اور Material Effect پڑا ہے۔ درخواست گزار نے اس معزز کمیشن کی جانب سے حلقہ GBA-08 سکردو-2 میں امیدوار کاظم میثم کی درخواست پر 14 پولنگ اسٹیشنز میں ری پول گلگت بلتستان میں متعدد پولنگ اسٹیشنز میں ری پول کیلئے حالیہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مساوات، یکساں قانونی سلوک اور Equal Protection of Law کے اصول کا تقاضا ہے کہ جہاں ایک حلقے میں انتخابی شفافیت کے تحفظ کے لیے کمیشن نے مداخلت کی، وہاں استور کے اس حلقے میں، جہاں بے ضابطگیوں کے شواہد مزید سنگین اور وسیع نوعیت کے ہیں، قانون کا یکساں اطلاق کیا جائے۔ مختصراً، موجودہ معاملہ محض ایک انتخابی تنازع یا کسی امیدوار کی کامیابی و ناکامی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ، انتخابی شفافیت، قانون کی بالادستی اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جب سرکاری انتخابی ریکارڈ خود جعلی ووٹوں، مشتبہ بیلٹ پیپرز، غیر معمولی ووٹر ٹرن آؤٹ، قانونی نقائص اور انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر رہا ہو، تو خاموشی اختیار کرنا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا بلکہ جمہوری اقدار کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ایسے حالات میں الیکشن کمیشن گلگت بلتستان پر یہ قانونی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقائق کی غیر جانبدارانہ جانچ، مکمل ری کاؤنٹنگ، فرانزک آڈٹ اور ضروری ری پول کے ذریعے عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا تحفظ یقینی بنائے۔ کیونکہ جمہوریت اصل طاقت بیلٹ بکس سے نکلنے والی عوامی رائے میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور اگر عوام کا اعتماد انتخابی عمل سے اٹھ جائے تو صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ پورا جمہوری نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انصاف، شفافیت اور قانون کی یکساں عملداری کا تقاضا ہے کہ اس معاملے میں ایسا فیصلہ کیا جائے جو نہ صرف حقائق اور قانون سے ہم آہنگ ہو بلکہ عوام کے اس یقین کو بھی مضبوط کرے کہ ان کا ووٹ ہی اصل طاقت اور اقتدار کا سرچشمہ ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
0



