Never Trade Your Conscience 0

تجارت کرو، ضمیر کا سودا نہیں. بتول فاطمہ
آج تجارت سے بات شروع کرتے ہیں، کیونکہ تاجر صرف چیزیں خریدنے اور بیچنے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کی ضروریات پوری کرنے والا ایک اہم فرد بھی ہوتا ہے۔ بازار میں موجود ہر دکان کسی نہ کسی گھر کی ضرورت پوری کرتی ہے اور ہر تاجر معاشرے کے معاشی نظام کا ایک حصہ ہے۔ اسلام نے تجارت کو ایک باوقار مقام عطا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی تجارت فرمائی اور آپ ﷺ کی زندگی دیانت، امانت اور سچائی کا روشن نمونہ ہے۔ حضرت خدیجہؓ بھی تجارت سے وابستہ تھیں اور ایک باوقار و کامیاب تاجرہ کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ یوں حلال تجارت مسلمان کے لیے رزق کمانے کا ایک عزت والا ذریعہ ہے۔
اسلام نے تجارت کے لیے ایسے اصول مقرر کیے ہیں جو کاروبار کو پاکیزگی اور برکت عطا کرتے ہیں۔ ناپ تول پورا رکھنا، سچ بولنا، ملاوٹ سے بچنا، عیب دار چیز کا عیب بتانا، وعدہ پورا کرنا اور کسی کے حق کو نقصان نہ پہنچانا ایک مسلمان تاجر کی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ موجود ہے۔ تجارت میں ہاتھ کا ہنر اور ذہن کی سمجھ بوجھ اپنی جگہ، مگر اصل حسن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کمائی کے ساتھ اللہ کا خوف اور انسانوں کا خیال بھی شامل ہو۔
آج ہمارے معاشرے میں مہنگائی نے غریب آدمی کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایک مزدور صبح سے شام تک محنت کرتا ہے، پسینہ بہاتا ہے اور جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو اس کی جیب میں موجود چند نوٹ اس کے گھر کی ضروریات کے سامنے بہت چھوٹے محسوس ہوتے ہیں۔ آٹا، دال، چینی، سبزی، بچوں کا دودھ اور دوا، ہر چیز اس کے لیے ایک نئی فکر بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں جب ضروری اشیاء ذخیرہ کی جاتی ہیں اور پھر مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں تو سب سے زیادہ بوجھ اسی غریب کے کندھوں پر پڑتا ہے۔
ذخیرہ اندوزی کسی گودام میں پڑے ہوئے مال کا نام بھر نہیں، کبھی کبھی اس کے پیچھے کسی غریب گھر کی پریشانی بھی چھپی ہوتی ہے۔ ایک تاجر کے لیے چند سو روپے کا اضافی منافع شاید معمولی ہو، مگر ایک مزدور کے لیے یہی رقم بچوں کی دوا، دودھ یا گھر کے راشن کا حصہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے تجارت میں منافع ضرور ہو، مگر انسان کی مجبوری کو بھی سامنے رکھا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے خرید و فروخت میں آسانی اور نرمی اختیار کرنے والوں کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔ یہ تعلیم ہمارے بازاروں کے لیے بھی کتنی خوبصورت ہے۔ اگر تاجر اپنے گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آئے، صحیح چیز صحیح قیمت پر دے، ناپ تول پورا رکھے اور ضرورت مند کے لیے آسانی پیدا کرے تو اس کے کاروبار میں صرف رقم نہیں بڑھتی، اس کے رزق میں برکت بھی آتی ہے۔
برکت صرف دولت کے بڑھنے کا نام نہیں۔ برکت یہ بھی ہے کہ کم رزق میں گھر سکون سے چل جائے، بچوں کے چہروں پر اطمینان رہے، انسان کی نیند پرسکون ہو اور دل پر کسی کا حق دبانے کا بوجھ نہ ہو۔ حلال کمائی میں شاید ظاہری طور پر کمی محسوس ہو، مگر اس میں وہ سکون ہوتا ہے جو بڑے سے بڑا مال بھی نہیں خرید سکتا۔
تاجر کو چاہیے کہ وہ روز اپنے ترازو کے ساتھ اپنے ضمیر کو بھی تولے۔ وہ سوچے کہ آج اس نے کس سے کتنا منافع لیا، کسی ضرورت مند کو آسانی دی یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا؟ جو چیز وہ فروخت کر رہا ہے، اس میں ملاوٹ تو نہیں؟ جو قیمت وہ وصول کر رہا ہے، وہ انصاف کے قریب ہے یا صرف لالچ کے؟
تجارت کیجیے، خوب کمائیے، اپنے کاروبار کو ترقی دیجیے، مگر اپنے رزق میں حلال کی خوشبو ضرور رکھیے۔ کسی کی مجبوری کو اپنی کامیابی کی سیڑھی نہ بنائیے۔ بازار میں دکانیں بھی رہیں، منافع بھی رہے اور انسانیت بھی زندہ رہے۔ کیونکہ تاجر کا اصل سرمایہ صرف اس کی دکان، مال اور رقم نہیں، اس کی دیانت بھی ہے۔
ایک دن دکانیں بند ہوجائیں گی، بازار خاموش ہوجائیں گے اور حساب کی وہ کتابیں بھی بند ہوجائیں گی جن میں نفع و نقصان لکھا جاتا ہے۔ پھر ایک اور حساب ہوگا، جہاں ترازو میزان کا ہوگا اور وہاں مال سے زیادہ نیت اور عمل کی قدر ہوگی۔

Never Trade Your Conscience

50% LikesVS
50% Dislikes

تجارت کرو، ضمیر کا سودا نہیں. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں