column in urdu Wisdom from Experience

گرگِ باراں دیدہ: تجربے کی روشنی یا عیاری کا اندھیرا؟ یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زندگی ایک طویل جنگل ہے۔ اس جنگل میں کہیں گھنی چھاؤں ہے، کہیں کانٹوں سے بھری راہیں، کہیں اچانک آنے والے سیلاب اور کہیں برسوں تک جاری رہنے والی خشک سالی۔ اس سفر میں ہر انسان پر وقت کی بارش برستی ہے مگر سب لوگ ایک جیسے نہیں لوٹتے۔ کوئی بارش سے دھل کر آئینے کی طرح شفاف ہو جاتا ہے اور کوئی اسی بارش میں کیچڑ سمیٹ کر دوسروں کے دامن داغ دار کرنے لگتا ہے۔ شاید اسی انسانی حقیقت کو فارسی کی دل آویز ترکیب “گرگِ باراں دیدہ” نے نہایت جامع انداز میں اپنے اندر سمو رکھا ہے۔

قدیم حکایات میں بھیڑیا محض ایک درندہ نہیں بلکہ زندگی کے امتحانات کا استعارہ ہے۔ روایت کہتی ہے کہ نوخیز بھیڑیا پہلی بار بارش، گرج اور بجلی سے خوف زدہ ہوتا ہے لیکن جب وہ موسموں کی گردش دیکھتا، طوفانوں کا سامنا کرتا اور خطرات کے بیچ جینا سیکھ لیتا ہے تو اس کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ اب وہ ہر آواز سے نہیں ڈرتا، ہر جھانسے میں نہیں آتا اور ہر چمکتی ہوئی چیز کو شکار نہیں سمجھتا۔ وہ تجربے کی آنکھ سے دیکھنا سیکھ لیتا ہے۔

انسان بھی اسی قانون کا پابند ہے۔ عمر کا اضافہ خودبخود دانائی نہیں لاتا لیکن آزمائشوں سے گزرنے والا انسان اگر اپنے باطن کی تربیت بھی کرتا رہے تو اس کی بصیرت میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ زندگی صرف کامیابیوں کے جشن کا نام نہیں بلکہ ناکامیوں کے صبر، محرومیوں کے حوصلے اور شکستوں سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا بھی دوسرا نام ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں بزرگوں کی بات کو محض عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ ان بارشوں کی وجہ سے اہمیت دی جاتی تھی جنہوں نے ان کے مزاج کو سنوارا اور ان کے فیصلوں کو وزن بخشا۔

افسوس کہ آج کے عہد میں رفتار نے گہرائی کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ معلومات کی فراوانی نے یہ غلط فہمی پیدا کر دی ہے کہ گویا چند کتابیں پڑھ لینے، چند ویڈیوز دیکھ لینے یا مصنوعی ذہانت سے چند سوال پوچھ لینے کے بعد انسان ہر میدان کا ماہر بن جاتا ہے۔ حالانکہ معلومات ذہن کو بھر سکتی ہیں مگر تجربہ کردار کو تراشتا ہے۔ علم راستہ دکھاتا ہے لیکن سفر کی گرد قدموں پر تب ہی جمتی ہے جب انسان خود چل کر منزل کی قیمت ادا کرتا ہے۔

یہاں ایک نہایت باریک مگر فیصلہ کن فرق سامنے آتا ہے۔ تجربہ بذاتِ خود نہ نیکی ہے نہ بدی۔ وہ ایک طاقت ہے اور طاقت کا اخلاقی رخ انسان کے باطن سے متعین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “گرگِ باراں دیدہ” صرف صاحبِ حکمت کے لیے نہیں، بعض اوقات ایسے عیار شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو برسوں کی دنیا داری سے ہر چال سیکھ چکا ہو، ہر قانون کا رخ موڑنا جانتا ہو اور ہر کمزور کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی مہارت رکھتا ہو۔

یہ دوسرا مفہوم ہمارے اجتماعی منظرنامے میں زیادہ اجنبی نہیں۔ سیاست میں ایسے چہرے دکھائی دیتے ہیں جو ہر انتخاب کے بعد نیا لباس پہن لیتے ہیں مگر ان کی نیت کبھی نہیں بدلتی۔ تجارت میں ایسے سوداگر بھی موجود ہیں جو تجربے کو دیانت کا وسیلہ بنانے کے بجائے خریدار کی سادگی لوٹنے کا ہنر سمجھتے ہیں۔ دفتروں میں بھی کچھ لوگ برسوں کی ملازمت کے بعد ادارے کے ستون نہیں بنتے بلکہ ایسی دیواریں بن جاتے ہیں جن سے ٹکرا کر صلاحیتیں زخمی ہوتی رہتی ہیں۔ ان سب کو دنیا شاید کامیاب کہہ دے مگر تاریخ کبھی انہیں باوقار نہیں لکھتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیل ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔ تصور کیجیے کہ ایک جنگل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔ دونوں نے یکساں بارشیں دیکھیں، یکساں سردیاں جھیلیں اور یکساں خطرات کا سامنا کیا۔ پہلا بھیڑیا اپنی قوت کمزوروں کی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے تاکہ پورا غول محفوظ رہے۔ دوسرا اپنی چالاکی سے اپنے ہی ساتھیوں کا شکار کرتا ہے۔ دونوں تجربہ کار ہیں مگر ایک کی بارش نے حکمت پیدا کی اور دوسرے کی بارش نے حیلہ گری۔ وقت گزرنے کے بعد پہلے کا نام اعتماد کی علامت بنتا ہے جبکہ دوسرا صرف خوف کی داستان رہ جاتا ہے۔ یہی فرق انسانوں کی دنیا میں بھی فیصلہ کن ہے۔

ہمارے تہذیبی ورثے کی خوب صورتی یہ تھی کہ اس نے تجربے کو ہمیشہ اخلاق کے ساتھ جوڑا۔ بزرگ صرف اس لیے محترم نہیں تھے کہ ان کی عمر زیادہ تھی بلکہ اس لیے کہ ان کے عمل نے ان کے لفظوں کی تصدیق کی تھی۔ ان کی نصیحت کتابی نہیں بلکہ زندگی کی مٹی سے اٹھتی تھی اسی لیے ان کی خاموشی بھی تقریر معلوم ہوتی تھی اور ان کا ایک جملہ کئی کتابوں پر بھاری پڑ جاتا تھا۔

اردو شاعری نے بھی اس کیفیت کو نہایت لطیف انداز میں بیان کیا ہے۔ داغ دہلوی کہتے ہیں:

میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے
ناصح عاقل پرانا گرگِ باراں دیدہ ہے

یہ شعر محض تجربے کی تعریف نہیں بلکہ اس تجربے کی تحسین ہے جو انسان کو دوسروں کے دکھ کا احساس عطا کرے۔ اگر آزمائش انسان کے اندر رحم پیدا نہ کرے تو وہ محض سختی رہ جاتی ہے اور اگر تجربہ دل میں انکسار نہ لائے تو وہ صرف غرور کی ایک نئی شکل بن جاتا ہے۔

ہر نسل کو اپنی بارشیں خود دیکھنی ہوتی ہیں۔ کسی کے تجربات وراثت میں منتقل نہیں ہوتے البتہ ان سے حاصل ہونے والی حکمت ضرور منتقل کی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں کی جرات اور بزرگوں کی بصیرت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو معاشرے ترقی کرتے ہیں لیکن جب نوجوان تجربے کو فرسودگی سمجھنے لگیں اور بزرگ نئی سوچ کو گستاخی قرار دینے لگیں تو پھر نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور قومیں اپنی ہی غلطیوں کو دہراتی رہتی ہیں۔

آج ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم وقت کی بارشوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم بھی ان لوگوں کی طرح صرف اتنے ہوشیار بننا چاہتے ہیں کہ دوسروں کو مات دے سکیں یا پھر اتنے صاحبِ بصیرت کہ اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کر سکیں؟ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان ہر جال سے بچ نکلے بلکہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی دوسرا جال میں نہ پھنسے۔

وقت ہر شخص پر برستا ہے۔ آزمائش ہر دروازے پر دستک دیتی ہے مگر ہر دل ایک جیسا سبق نہیں سیکھتا۔ کوئی بارشوں کے بعد چراغ بن جاتا ہے اور کوئی اندھیروں کا سودا گر۔ یہی وہ باریک حدِ امتیاز ہے جو ایک گرگِ باراں دیدہ کو صاحبِ حکمت بھی بنا سکتی ہے اور صاحبِ عیار بھی۔ انتخاب ہمیشہ انسان کے اپنے ہاتھ میں رہتا ہے اور اسی انتخاب پر اس کے کردار، اس کی عزت اور آنے والی نسلوں کی تقدیر کا انحصار ہوتا ہے۔

column in urdu Wisdom from Experience

50% LikesVS
50% Dislikes

گرگِ باراں دیدہ: تجربے کی روشنی یا عیاری کا اندھیرا؟ یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں