column in urdu When Will the Conscience Awaken

صنف: کالم نگاری .عنوان: ضمیر کب جاگے گا . آمینہ یونس بلتستانی
ضمیر کو کبھی طاقت کے زور پر سلا دیا جاتا ہے اور کبھی وہ خود ہی سو جاتا ہے، کیونکہ ضمیر کو سلانے میں مادی مفادات سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک چیز لالچ ہے۔ جب انسان لالچ کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے نہ حلال و حرام کی تمیز رہتی ہے، نہ غریب و امیر کا احساس۔ اسے اپنے مفاد کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کبھی ضمیر جاگنے کی کوش بھی کرے تو خواہشاتِ نفس اسے تھپک تھپک کر پھر سلا دیتی ہیں، جیسے کہہ رہی ہوں: “ابھی تمہارے جاگنے کا وقت نہیں آیا۔” زندہ ضمیر کی سب سے بڑی نشانی نرم دل ہونا ہے۔ جب دل نرم ہو تو انسان کے ہاتھوں سے خیر ہی خیر تقسیم ہوتی ہے۔ وہ مظلوم کا ساتھ دیتا ہے، غریب کی مدد کرتا ہے، بیمار کی خدمت کرتا ہے، امانت داری کو اپنا شعار بناتا ہے، عدل و انصاف کا علم بلند رکھتا ہے اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے۔ قوموں پر زوال بھی اس وقت آتا ہے جب ان کا اجتماعی ضمیر سو جاتا ہے۔ جب حق بات کہنے والے خاموش ہو جائیں، ظلم دیکھ کر لوگ نظریں چرا لیں، مفاد انصاف پر غالب آ جائے اور سچ بولنے سے زیادہ جھوٹ فائدہ دینے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ضمیر کمزور پڑ چکا ہے۔ ایسی قومیں وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتی ہیں، مگر ان کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی بقا صرف طاقت، دولت یا ترقی سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت، رحم دلی اور زندہ ضمیر سے وابستہ ہوتی ہے۔ جس طرح ہم تعلیم کے فروغ پر زور دیتے ہیں، اسی طرح بحیثیتِ انسان والدین، اساتذہ، معلمین اور قلم کاروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کی صرف علمی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں۔ انہیں اخوت، بھائی چارے، دیانت داری، لین دین میں ایمانداری، رشتوں کے احترام، غریبوں کی مدد، قوم کی خدمت اور عالمِ اسلام کے ساتھ ہمدردی کا شعور دیں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ کسی کی تکلیف کو نظر انداز کرنا بھی ایک طرح کی بے حسی ہے اور ایک اچھا انسان وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات سے آغاز کرے، اپنے ضمیر کی آواز سنے اور حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ پیدا کرے تو معاشرے میں بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ ایک فرد سے شروع ہوتی ہے اور پھر پورے معاشرے تک پہنچتی ہے۔ ضمیر اس وقت تک نہیں جاگے گا جب تک انسان اپنے مفادات سے بڑھ کر انسانیت کو اہمیت نہیں دے گا۔ جب تک مظلوموں کی آواز نہیں سنیں گے۔ اور جب تک حق کے ساتھ کھڑا نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر کوئی یہ کام خود سے شروع کرے۔ تاکہ ہم اچھے انسان، اچھے شہری اور اچھے مسلمان بنیں۔ اور اس کے لیے ہمیشہ یہی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ضمیر کو زندہ اور بیدار رکھے، ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ جب تک ہم اس دنیا میں رہیں ہمارے ہاتھوں سے خیر تقسیم ہوتا رہے۔

شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

column in urdu When Will the Conscience Awaken

50% LikesVS
50% Dislikes

صنف: کالم نگاری .عنوان: ضمیر کب جاگے گا . آمینہ یونس بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں