سیاحوں کا دوسرا رخ اور گلگت بلتستان کے عام عوام ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
10 جولائی، 2026
یہ آرٹیکل گلگت بلتستان کے ان تمام نام نہاد ‘با شعور’ افراد کے لیے ہے جنہوں نے پچھلے سال سیاحوں کے موضوع پر لکھے گئے میرے مضمون کو کڑی تنقید اور شدت پسندی کی زد میں رکھا اور منہ میں جو آیا، بول دیا۔
کل بشو میں ہونے والے واقعے کو جب سوشل میڈیا پر دیکھا تو انتہائی دکھ ہوا کہ دو سیاح مل کر ایک مقامی ڈرائیور کی درگت بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، آپ کو کچھ یاد دلانا چاہتا ہوں۔
کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟ ہم ہمیشہ مہمان نوازی کے نام پر منہ پر تالا لگائے خاموش رہے اور اسی انتظار میں رہے کہ کہیں ہم بدنام نہ ہو جائیں۔
پچھلے سال کچھ سیاحوں نے خوبانیاں صرف کھائیں نہیں، بلکہ ان کے پھلدار پودوں کو شاخوں سمیت توڑ کر گاڑیوں کی ڈگیاں بھر لیں، جن کی ویڈیوز اور تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔
اسی طرح پچھلے سال کراچی سے تعلق رکھنے والی کسی ‘لودھی فیملی’ کا بیٹا کچورا میں بوٹنگ کرتے اور ٹک ٹاک بناتے ہوئے ڈوب گیا؛ مقامی لوگوں اور ہماری حکومت نے تین دن تک اسے ڈھونڈا، انہیں مفت رہائش دی اور کچھ ذرائع کے مطابق انہیں کراچی واپسی تک کا کرایہ بھی دیا، لیکن وہی سیاح پچھلے دو سالوں سے اسکردو کے خلاف مسلسل زہر اگل رہے ہیں۔
اسی طرح پچھلے سال ایک خاتون کا پولیس کیس سامنے آیا، انہیں باعزت طریقے سے گھر بھیجا گیا لیکن وہ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے لوگوں کو ہی برا بھلا کہنے لگیں۔
شاید تین دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک مقامی بزرگ کو سیاحوں نے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسکردو آستانہ کے پاس اتار دیا، بعد میں پتا چلا کہ اس بیچارے بزرگ کے دو لاکھ یا اس سے زائد روپے لے کر وہ رفو چکر ہو چکے تھے۔
پچھلے سال ہی فیس بک پر پڑھا تھا کہ ایک سیاح اپنے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کو لے کر آیا اور اسکردو کے ایک مقامی ہوٹل کے ڈائننگ روم میں ان کا آپس میں جھگڑا ہوا۔ جب لڑکی نے مدد مانگی تو وہاں موجود ہوٹل کے ملازمین کو پستول دکھا کر وہ لڑکی کو بالوں سے گھسیٹتا ہوا گاڑی میں بٹھا کر بھاگ گیا۔
ایک ماہ پہلے سرفہ رنگا میں ایک سیاح لڑکی نیم عریاں ہو کر ٹک ٹاک ویڈیوز اور تصاویر بنانے لگی اور سوشل میڈیا پر بھی اپڈیٹ کر دی اور گلگت بلتستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ۔
اسی طرح پچھلے سال کا ایک اور واقعہ ہے کہ سیاح ایک مقامی ہوٹل میں ٹھہرے اور جاتے جاتے ہوٹل والے کو ہی لوٹ کر چلے گئے۔
کیا سیاحوں کی پھیلائی ہوئی تمام گندگیاں صرف گلگت بلتستان کے عوام ہی صاف کریں گے؟ یہ ہمارے اداروں، گیسٹ ہاؤسز کے مالکان، مرکز اور خود گلگت بلتستان کے عام عوام ، پولیس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
آخر کب تک یہ بدتمیزیاں ہوتی رہیں گی؟ آخر کب تک ہم چند پیسوں کے لیے اپنی پیاری ثقافت اور اپنے ضمیر کا سودا کرتے رہیں گے؟ کیا سارے قوانین صرف گلگت بلتستان کے عام اور غریب عوام کے لیے ہیں؟ کیا قانون صرف غریبوں پر ہی نافذ ہوگا؟ آخر آپ کب تک خاموش رہیں گے اور کب تک اپنی اچھائی دکھاتے رہیں گے؟
یہ سب ہمدردیاں کرنے کے باوجود کیا نوجوان پاکستان کے دیگر شہروں میں محفوظ ہیں؟ کیا ہمارے نوجوانوں کی راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں ایسی ہی مہمان نوازی کی جاتی ہے؟
ہرگز نہیں !
سب سے زیادہ چونا بھی وہاں ہمیں ہی لگاتا ہے۔ دو سو روپے کا فاصلہ طے کرنے والا رکشے والا دھوکے سے پورے شہر کی گلیوں سے گھماتے ہوئے آپ سے دو ہزار روپے بٹور لیتا ہے۔ ہمارے طلبہ کو لسانیت اور مذہب کی بنیاد پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بارہ بارہ گھنٹے کام کر کے جو معمولی تنخواہ ملتی ہے، اسے بھی سکستھ روڈ (6th Road) وغیرہ پر بندوق کی نوک پر چھین لیا جاتا ہے۔ موبائل چھیننا، پیسے لوٹنا اور ہسپتالوں یا یونیورسٹیوں میں ذلیل کرنا وہاں عام سی بات ہے۔
صرف ہم ہی کیوں منہ پر تالا لگائے بیٹھے رہیں؟ یاد رہے، سیاح صرف گلگت بلتستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں جاتے ہیں۔ آپ اپنی یہی گھٹیا حرکات دنیا کے باقی ملکوں میں کر کے دکھائیں، وہاں پچاس پچاس ہزار پاؤنڈ جرمانے کی مد میں لے لیا جاتا ہے۔ ان سیاحوں کو سر پر چڑھانے میں ہمارے اپنے ہی لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے، کیونکہ ان کا خدا اب ‘پیسہ’ بن چکا ہے اور ہمارے لوگوں کو پیسے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اور جن لوگوں کا ماننا ہے کہ ان سیاحوں کی بدولت ہزاروں گھر چلتے ہیں، تو انہیں بتاتا چلوں کہ ان سیاحوں کے آنے سے پہلے بھی لوگوں کے گھر چلتے تھے، بلکہ بہترین انداز میں چلتے تھے۔ اب ان سیاحوں کی بدولت عام عوام پسنے لگے ہیں۔
پہلے ہماری بنیادی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوتی تھیں، اب وہ بھی چند نام نہاد کاروباری لوگوں کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئیں۔
یہ میری پیشن گوئی ہے کہ اگر ہم نے سیاحوں کو اس قدر آزاد چھوڑے رکھا، تو ہماری ثقافت کا جنازہ نکل جائے گا اور اس تابوت کو اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ قتل و غارت، لوٹ مار، موبائل چھیننا اور پیسہ لوٹنا عام ہو جائے گا۔ باہر کے لوگ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے گلگت بلتستان کا رخ کریں گے اور ہماری ماں بہنیں بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہیں گی۔ منشیات عام ہو جائے گی، آپ کی نوجوان نسل نشے کی لت میں پڑ جائے گی اور ہمارے اپنے کچھ دلالوں کی وجہ سے یہاں کی زمینیں باہر کے لوگ خرید لیں گے۔
ہم ان کے ہی غلام بن کر رہ جائیں گے اور یوں آنے والی نسلوں کے پاس ‘گلگت بلتستان’ کا صرف نام رہ جائے گا، زمین اور حقوق کچھ نہیں ہوں گے۔
میری تمام ذمہ دار افراد، علمائے کرام اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ مالکان سے التماس ہے کہ آپ انہیں عزت ضرور دیں، لیکن انہیں سر پر نہ چڑھائیں۔ مدد ضرور کریں، لیکن اتنی ہی کریں جتنی ضروری ہو۔ چند پیسوں کے لیے اپنے ضمیر کا سودا نہ کریں اور ہماری ثقافت کی حفاظت کریں۔
کیونکہ ثقافت کی موت، دراصل قوم کی موت ہے۔
اور سب سے پہلے ” گلگت بلتستان اور ان کے عوام ۔
نوٹ
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
column in urdu Tourism in Gilgit-Baltistan




