تحریکِ توازن اردو ادب کے ساتویں یومِ تاسیس کی روداد. راقمہ: یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالرگوجرہ، پاکستان
بعض ایام محض تقویم کے صفحات پر درج تاریخیں نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے سفر میں ایسے روشن سنگِ میل بن جاتے ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کے راستوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ ان ایام میں یادیں بھی ہوتی ہیں، خواب بھی، عزم بھی اور محبت کی وہ خوشبو بھی جو دلوں کو دیر تک معطر رکھتی ہے۔
19 جولائی 2026ء تحریکِ توازن اردو ادب کی تاریخ میں ایسا ہی ایک یادگار اور تابندہ دن تھا جب اس ادبی سفر کے سات سال مکمل ہونے پر ایک باوقار آن لائن ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب محض یومِ تاسیس کی رسم نہ تھی بلکہ ادب، اخلاص، رفاقت، فکری اعتدال اور تجدیدِ عہد کا ایسا جشن تھی جس نے ہر شریکِ محفل کے دل میں امید، محبت اور تخلیقی توانائی کی نئی شمع روشن کر دی۔
ادبی تحریکیں دراصل دریاؤں کے مانند ہوتی ہیں۔ ان کے سفر میں کبھی بہاؤ کی تیزی آتی ہے، کبھی راستے میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں اور کبھی وقتی سکوت بھی چھا جاتا ہے لیکن مخلص قافلے اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا سفر ترک نہیں کرتے۔ تحریکِ توازن اردو ادب نے بھی اپنے سفر میں ایک مختصر تنظیمی تعطل کا سامنا کیا مگر تنظیمِ نو کے بعد جس عزم، استقامت، تدبر اور تازہ ولولے کے ساتھ اس نے اپنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کیا، وہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ خلوص پر قائم خواب آزمائشوں کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔
یہ آن لائن تقریب اپنے اندر ایک منفرد حسن رکھتی تھی۔ پاکستان، ہندوستان، کویت، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، نیدرلینڈ اور دنیا کے مختلف خطوں میں مقیم اہلِ قلم اپنی اپنی جگہ موجود تھے مگر دل ایک ہی ادبی آنگن میں دھڑک رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اردو زبان نے جغرافیائی فاصلے مٹا کر سب کو محبت، ادب اور تہذیبی رشتے کی ایک لڑی میں پرو دیا ہو۔
تقریب کا آغاز
تقریب کا آغاز محترم خبیب تابش کی پُرسوز آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ان کی پرسوز آواز نے محفل کے آغاز ہی میں ایک روحانی کیفیت پیدا کر دی اور شرکائے تقریب کے دلوں کو سکون سے منور کیا۔
بعد ازاں ڈاکٹر ارشاد خان نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کی، جس میں فکری گہرائی، عقیدت اور قلبی وارفتگی کا حسین امتزاج نمایاں تھا۔ محترم کامل جنیٹوی صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معطر کر دیا۔ ان کے لفظوں کی تاثیر، عقیدت کا جذبہ اور اندازِ بیان سامعین کے لیے ایک روح پرور تجربہ ثابت ہوا۔
نظامت: حسنِ بیان اور ربط کا آئینہ
تقریب کی نظامت محترم اشرف علی اشرف نے نہایت شائستگی، توازن اور خوش اسلوبی سے انجام دی۔ ان کی برجستہ گفتگو، شرکائے محفل کا جامع تعارف، پروگرام کے مختلف مراحل کے درمیان خوب صورت ربط اور موقع محل کے مطابق اظہار خیال نے ثابت کیا کہ نظامت بھی ایک مکمل ادبی فن ہے۔
انہوں نے پوری تقریب کو اس مہارت سے آگے بڑھایا کہ محفل کا تسلسل برقرار رہا اور ہر مرحلہ اپنی جگہ ایک خوب صورت تاثر چھوڑتا گیا۔
خطبۂ صدارت: فکر، محبت اور قیادت کا آئینہ
اس باوقار ادبی اجتماع کی صدارت تحریکِ توازن اردو ادب کے رئیس التحریک محترم احمد منیب نے فرمائی۔ ان کا صدارتی خطاب محض رسمی کلمات نہیں بلکہ تحریک کے سات سالہ سفر، تجربات، جدوجہد اور مستقبل کے عزائم کی ایک جامع فکری دستاویز تھا۔
انہوں نے تحریک کے قیام کے محرکات، ابتدائی مراحل، پیش آنے والی مشکلات، تنظیمی تعطل اور تنظیمِ نو کے بعد کے سفر پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ ان کے خطاب میں ادب سے بے لوث محبت، فکری اعتدال، قائدانہ بصیرت اور اجتماعی شعور کی جھلک نمایاں تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریکِ توازن اردو ادب کسی ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ اجتماعی فکر، ادبی خدمت اور مثبت رویوں کی تحریک ہے جس کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ انسان دوستی، رواداری، برداشت، تہذیبی اقدار اور متوازن فکر کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ کسی بھی ادبی تنظیم کی اصل طاقت اس کے عہدے یا نام نہیں بلکہ اس کے مخلص کارکن، اہلِ قلم اور رفقائے سفر ہوتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے تحریک سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا محبت اور کشادہ دلی سے اعتراف کیا۔
انہوں نے محترم سلیم خان کو تحریک کا فکری ستون قرار دیتے ہوئے ان کی بصیرت، تنظیمی استقامت اور خاموش مگر مؤثر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
محترم مسعود حساس کی تنقیدی بصیرت، علمی وقار اور فکری رہنمائی کو تحریک کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔
محترم عامر حسنی کی تخلیقی وابستگی، ادبی سنجیدگی اور مسلسل تعاون کو تحریک کے مضبوط ادبی سفر کا حصہ بتایا۔
محترم احمر جان کے خلوص، ذمہ داری اور فعال کردار کو سراہا۔
محترمہ عظمیٰ گوندل کی ادبی فعالیت، تنظیمی ذمہ داری اور سنجیدہ مزاج کو تحریک کی قوت قرار دیا۔
محترمہ روبینہ میر کی علمی بصیرت، متوازن فکر اور ادبی خدمات کو باعثِ افتخار قرار دیا۔
ڈاکٹر لبنیٰ آصف کے تحقیقی شعور، علمی وقار اور فکری رہنمائی کو تحریک کی علمی شناخت کا اہم حوالہ بتایا۔
اسی طرح محترم صابر جاذب، محترم اکمل حنیف اور راقمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی ادبی و تنظیمی خدمات کو بھی قدر و محبت کی نگاہ سے سراہا گیا۔
احمد منیب صاحب کا یہ اندازِ گفتگو اس امر کی دلیل تھا کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو کامیابی کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اپنے ساتھیوں کی خدمات کو نمایاں کرتی ہے اور ہر مخلص فرد کے کردار کو اہمیت دیتی ہے۔
مہمانانِ خصوصی کے خیالات
محترمہ روبینہ میر نے اپنے خطاب میں اردو ادب کی تہذیبی اہمیت، مطالعے کی ضرورت اور نئی نسل میں اردو زبان و ادب کے فروغ پر فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے ادب کو انسانی شعور کی تعمیر اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
ڈاکٹر لبنیٰ آصف نے ادب کی سماجی ذمہ داری، تحقیق کی اہمیت اور تخلیقی دیانت پر مدلل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب صرف جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔
مہمانانِ اعزازی
محترم سلیم خان کی موجودگی تحریک کے فکری تسلسل اور استحکام کی علامت محسوس ہوئی۔ ان کی شخصیت خاموش وقار، بردباری، بصیرت اور استقامت کا حسین امتزاج ہے۔
راقمہ کے لیے اس تقریب میں شرکت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید تھی کہ قلم کو ہمیشہ محبت، اعتدال، انسان دوستی اور مثبت فکر کا ترجمان بنایا جائے۔
تبصرۂ مبصر
محترم مسعود حساس نے بطور مبصر پیش کی گئی تخلیقات کا نہایت باریک بینی اور علمی بصیرت سے جائزہ لیا۔ انہوں نے تخلیقات کے فنی پہلوؤں، اسلوبی خوبیوں اور فکری جہات کو اجاگر کیا اور قلم کاروں کے لیے مفید رہنمائی فراہم کی۔
ان کا تبصرہ تنقیدی دیانت، علمی وقار اور تخلیقی شعور کا بہترین نمونہ تھا۔
تخلیقی کہکشاں
یہ ادبی جشن حقیقتاً ایک ایسی تخلیقی کہکشاں میں تبدیل ہو گیا تھا جہاں ہر قلم کار اپنی جداگانہ روشنی، فکر اور اسلوب کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ ہر شریکِ محفل نے اپنی تخلیقی توانائی سے اس تقریب کو ادب، محبت اور جمالیاتی احساس کا حسین مرقع بنا دیا۔
محترم سلیم خان اس کہکشاں میں ایک ایسے روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی فکری پختگی، وسیع المطالعہ مزاج، تنظیمی استقامت اور خاموش رہنمائی تحریک کے لیے ہمیشہ باعثِ اعتماد رہی ہے۔
محترم خبیب تابش کی پرسوز آواز میں تلاوت قرآن پاک نے تقریب کی ابتدا کو نورانی کیفیت سے ہمکمنار کیا۔
محترم کامل جنیٹوی کی نعتیہ پیشکش نے محفل کو روحانی لطافت عطا کی،ان کی نعت گوئی اس ادبی محفل کا ایک ایسا روح پرور لمحہ ثابت ہوئی جس کی تاثیر دیر تک دل کے ایوانوں میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں گونجتی رہی۔
محترم عامر حسنی نے اپنی فکری سنجیدگی، متوازن اظہار اور ادبی وقار سے محفل میں شعور کی خوشبو بکھیری۔
محترم اسد گوندل نے اپنی تخلیقی تازگی اور دل آویز اسلوب سے سامعین کو متاثر کیا۔
محترم اشرف علی اشرف نے بحیثیت ناظم اپنی خوش بیانی، برجستگی اور شگفتہ انداز سے تقریب کے حسن میں اضافہ کیا۔
محترم احمر جان کی فعال ادبی وابستگی، محترمہ عظمیٰ گوندل کی متحرک شرکت اور محترمہ نفیسہ حیا کی تخلیقی توانائی، فکری گہرائی اور متوازن تنقیدی شعور نے تحریک کے ادبی منظرنامے کو مزید مضبوط کیا۔
محترمہ نیر رانی شفق اپنی لطیف احساسات سے مزین، امید آفریں اور تہذیبی شعور سے آراستہ شاعری کے ذریعے اردو ادب میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔
محترم وسیم ہاشمی اگرچہ خاموش طبع و مزاج کے حامل ہیں مگر ان کی سنجیدگی، اخلاص اور خدمتِ ادب کا جذبہ کسی بھی تحریک کے لیے حقیقی سرمایہ ہوتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ تمام اہلِ قلم ایک ہی گلستان کے مختلف رنگوں کے پھول ہیں۔ ہر ایک کی اپنی خوشبو، اپنی شناخت اور اپنا اسلوب ہے مگر سب کی مشترکہ مہک تحریکِ توازن اردو ادب کی اجتماعی پہچان کو مزید خوب صورت بناتی ہے۔
اختتامیہ
تحریکِ توازن اردو ادب کا ساتواں یومِ تاسیس اس حقیقت کا روشن اظہار تھا کہ ادب صرف الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، فاصلے مٹانے اور انسانیت کے احساس کو زندہ رکھنے کا وسیلہ بھی ہے۔
جب قلم اخلاص کے ساتھ اٹھتا ہے، قیادت محبت کے ساتھ رہنمائی کرتی ہے اور رفقائے سفر ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں تو ایک ادبی تنظیم محض ایک پلیٹ فارم نہیں رہتی بلکہ تہذیب، محبت اور فکری روشنی کا استعارہ بن جاتی ہے۔
یہ یومِ تاسیس بھی ایسا ہی ایک روشن استعارہ تھا، ایک ایسا چراغ جو صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کے سفر کی امید بھی ہے۔ دعا ہے کہ تحریکِ توازن اردو ادب محبت، اخلاص، فکری اعتدال، علمی وقار اور ادبی عظمت کے ساتھ ہمیشہ آگے بڑھتی رہے اور اس سے وابستہ ہر قلم کاروں کے الفاظ آنے والے زمانوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے رہیں۔
آمین ثم آمین یارب العالمین




