column in urdu heavy Taxes on Electricity Bills

بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کی بھرمار، عوام کی دہائی. انجینیئر علی رضوان چوہدری
حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لے، غریبوں سے جینے کا حق نہ چھینا جائے
انجینیئر علی رضوان چوہدری کے قلم سے
ایک وقت تھا جب بجلی کا بل صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت کا حساب ہوتا تھا، مگر آج بجلی کا بل دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ٹیکسوں، سرچارجز، ڈیوٹیوں اور مختلف اضافی چارجز کا ایک طویل دفتر ہو۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ بجلی استعمال کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے یا ریاست کے تمام مالی بوجھ کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔
مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ چکی ہے۔ پٹرول کی روز بڑھتی ہوئی قیمتیں آٹے، گھی، چینی، ادویات، تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے میں بجلی کے بلوں پر مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں نے سفید پوش طبقے کی آخری امید بھی ماند کر دی ہے۔ وہ طبقہ جو نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتا ہے اور نہ ہی اپنی عزتِ نفس کو قربان کر سکتا ہے، آج خاموشی سے معاشی اذیت سہنے پر مجبور ہے۔
حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کرتی ہیں، لیکن جب بجلی کا بل گھر پہنچتا ہے تو ہر وعدہ بے معنی محسوس ہونے لگتا ہے۔ کئی خاندان اپنے بچوں کی تعلیم، بیمار والدین کے علاج یا گھر کے راشن میں سے کسی ایک چیز پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تاکہ بجلی کا بل ادا کیا جا سکے۔ یہ صورتِ حال صرف معاشی بحران نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ بنتی جا رہی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک مزدور، ایک ریڑھی بان، ایک چھوٹا دکاندار، ایک پنشن یافتہ بزرگ اور ایک متوسط طبقے کا ملازم سب ایک ہی سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان کی خطا کیا ہے؟ کیا محنت سے روزی کمانا جرم بن گیا ہے؟ اگر ایک گھر کا ماہانہ بجٹ صرف بجلی کے بل کی نذر ہو جائے تو بچوں کی ضروریات کون پوری کرے گا؟
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، لیکن اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ عام شہری پر ڈال دینا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر نظام میں بدانتظامی، لائن لاسز، بجلی چوری یا انتظامی کمزوریاں موجود ہیں تو ان کا خمیازہ دیانت دار صارف سے وصول کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقات کو تحفظ دے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں دھکیل دے۔
سفید پوش طبقہ آج سب سے زیادہ متاثر ہے۔ وہ نہ حکومتی امدادی فہرستوں میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی کسی رعایتی پیکیج سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا پاتا ہے۔ وہ اپنی عزت بچانے کے لیے خاموش رہتا ہے، مگر اس خاموشی کے پیچھے بے شمار پریشانیاں، قرض، ذہنی دباؤ اور مستقبل کا خوف چھپا ہوتا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے تو اس کی بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
حکومتِ وقت کو چاہیے کہ بجلی کے بلوں میں غیر ضروری ٹیکسوں اور اضافی چارجز پر فوری نظرثانی کرے۔ عام صارف کے لیے ایسا نظام بنایا جائے جس میں اصل بجلی کی قیمت واضح ہو اور اضافی بوجھ کم سے کم رکھا جائے۔ عوام کو ریلیف دینا صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔ مضبوط معیشت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب عام آدمی معاشی طور پر مطمئن ہو۔
ہم سب کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خوشحال عوام ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔ اگر لوگ مسلسل معاشی دباؤ میں رہیں گے تو کاروبار سکڑیں گے، صنعت متاثر ہوگی، بے روزگاری بڑھے گی اور قومی ترقی کا سفر بھی سست پڑ جائے گا۔ اس لیے عوام کو سہولت دینا دراصل ملک کی معیشت میں سرمایہ کاری ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ ساز عوام کی آہ سنیں، ان کے گھروں کے بجھتے ہوئے چراغ دیکھیں اور ان بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں جن کے والدین صرف بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے اپنی بنیادی ضروریات قربان کر رہے ہیں۔ حکمران یاد رکھیں کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں، اور جب عوام ہی مایوسی کا شکار ہو جائیں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
آئیے ایسی پالیسیوں کی بنیاد رکھیں جو عوام کو جینے کا حوصلہ دیں، نہ کہ ان سے جینے کا حق ہی چھین لیں۔ امید ہے کہ اربابِ اختیار عوام کی فریاد سنیں گے، بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کی بھرمار کم کریں گے اور غریب و سفید پوش طبقے کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کریں گے۔ یہی ایک فلاحی ریاست کی پہچان اور حقیقی عوامی خدمت کا راستہ ہے۔

column in urdu heavy Taxes on Electricity Bills

50% LikesVS
50% Dislikes

بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کی بھرمار، عوام کی دہائی. انجینیئر علی رضوان چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں