جب بچے محفوظ نہ رہیں. تنویر حسین
کسی بھی معاشرے کا اصل معیار اس کی سڑکوں، عمارتوں یا معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ وہاں بچے کس قدر محفوظ ہیں۔ بچے کسی قوم کا مستقبل ضرور ہوتے ہیں، لیکن اس سے پہلے وہ اس کے حال کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہیں۔ جب یہی معصوم چہرے جنسی تشدد، اغوا، استحصال اور ظلم کا شکار ہونے لگیں تو یہ صرف چند مجرموں کا جرم نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ناکامی بن جاتا ہے۔
مختلف ویب سائٹ سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025ء کے دوران ملک بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 266 زیادہ ہیں۔ یعنی صرف ایک سال میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسرے لفظوں میں، ہر روز نو سے زائد بچے کسی نہ کسی صورت ظلم اور استحصال کا شکار بنتے رہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک ایسا بچپن ہے جو خوف، صدمے اور بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔
رپورٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا ڈیٹا پاکستان کے 81 قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کیا گیا ہے، جن میں چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے بے شمار واقعات کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ معاشرتی بدنامی، بااثر افراد کا دباؤ، کمزور قانونی پیروی اور خاندانوں کا خوف بہت سے متاثرہ بچوں کی آواز کو خاموش کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ رپورٹ مسئلے کی مکمل تصویر نہیں بلکہ اس کا وہ حصہ ہے جو منظرِ عام پر آ سکا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچوں میں 1,924 لڑکیاں اور 1,625 لڑکے شامل تھے، جبکہ 116 نوزائیدہ بچوں کے خلاف بھی جرائم رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ظلم نہ عمر کی تمیز کرتا ہے اور نہ ہی جنس کی۔ جب معصوم بچے بھی محفوظ نہ رہیں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟
جرائم کی نوعیت مزید تشویش پیدا کرتی ہے۔ 1,107 اغوا، 596 لواطت، 522 ریپ، 365 لاپتا بچوں کے واقعات، 195 ریپ کی کوشش، 141 لواطت کی کوشش، 130 اجتماعی لواطت، 108 اجتماعی ریپ، 58 ایسے واقعات جن میں جنسی استحصال کے بعد بچوں کو قتل کر دیا گیا اور 53 کم عمری کی شادی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ایک بچہ تعلیم، کردار سازی اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے، مگر افسوس کہ بہت سے بچوں کے حصے میں خواب نہیں بلکہ خوف آ رہا ہے۔
صوبائی سطح پر 73 فیصد واقعات پنجاب، 21 فیصد سندھ، 4 فیصد خیبر پختونخوا جبکہ باقی 2 فیصد بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد کسی ایک خطے پر الزام نہیں بلکہ اس قومی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا سامنا پورا پاکستان کر رہا ہے۔
رپورٹ کا سب سے اہم اور تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ زیادہ تر جنسی جرائم میں ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ جان پہچان کا فرد تھا۔ یہ حقیقت والدین کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ بچوں کو صرف اجنبیوں سے محتاط رہنے کی تلقین کافی نہیں، بلکہ انہیں یہ اعتماد دینا بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ بلاخوف اپنے والدین یا اساتذہ کو بتا سکیں۔
یہ بات حوصلہ افزا ضرور ہے کہ رپورٹ کے مطابق 82 فیصد واقعات میں پولیس نے مقدمات درج کیے، لیکن ایف آئی آر کا اندراج انصاف کی منزل نہیں بلکہ اس کی ابتدا ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تحقیقات شفاف ہوں، عدالتوں میں مقدمات جلد نمٹیں، مجرم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں اور متاثرہ بچوں کی نفسیاتی بحالی کو بھی انصاف کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔
آج ضرورت صرف نئے قوانین بنانے کی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کی واضح پالیسیاں، والدین کی مسلسل تربیت، میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ، مذہبی و سماجی رہنماؤں کا فعال کردار اور ریاستی اداروں کا فوری ردعمل ہی اس ناسور کا مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بچے کسی بھی قوم کی امانت ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی اس امانت کی حفاظت میں ناکام رہے تو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیں گے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی اقتصادی ترقی نہیں بلکہ اس کے بچوں کے چہروں پر موجود اطمینان، اعتماد اور مسکراہٹ ہوتی ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے بچوں کے تحفظ کو قومی ترجیح بنائیں، کیونکہ محفوظ بچپن ہی محفوظ پاکستان کی بنیاد ہے۔
column in urdu Children Can No Longer Feel Safe




