روزِ عاشور اور کربلا کی فضاء. شبیر حسین کمال
روزِ عاشور اسلامی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ برپا کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ 10 محرم 61 ہجری کو سرزمینِ کربلا پر نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ عاشور کا دن صرف ایک جنگ کا دن نہیں بلکہ صبر، استقامت، وفاداری، عبادت اور قربانی کا عظیم درس ہے۔
جب عاشور کی صبح طلوع ہوئی تو کربلا کی فضا نہایت دردناک مگر روحانیت سے بھرپور تھی۔ ایک طرف امام حسینؑ کے خیمے تھے جہاں اللہ کی عبادت، تلاوتِ قرآن اور ذکر و دعا کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں، اور دوسری طرف یزیدی لشکر تھا جو دنیاوی اقتدار کی خاطر فرزندِ رسولؐ کے مقابل کھڑا تھا۔امام حسینؑ نے فجر کی نماز اپنے اصحاب کے ساتھ ادا کی۔ نماز کے بعد آپؑ نے اپنے ساتھیوں کو جمع فرمایا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ آپؑ نے اپنے اصحاب کی وفاداری کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے اصحاب سے بہتر اور زیادہ وفادار اصحاب نہیں جانتا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ہر ساتھی اپنے امامؑ پر جان قربان کرنے کے لیے بے تاب تھا۔خیموں میں خواتین اور بچے موجود تھے۔ تین دن کی پیاس نے سب کو نڈھال کر دیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچے “العطش، العطش” کی صدائیں بلند کر رہے تھے، مگر اس کے باوجود اہلِ بیتؑ کے چہروں پر صبر اور رضا کے آثار نمایاں تھے۔ بی بی زینبؑ اپنے بھائی کے مشن کی حفاظت کے لیے ثابت قدم تھیں اور اہلِ حرم کو صبر کی تلقین کر رہی تھیں۔
جیسے جیسے سورج بلند ہوتا گیا، میدانِ کربلا میں قربانیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے امامؑ کے اصحاب میدان میں اترے۔ ہر صحابی نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا اور جان قربان کر دی۔ حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ، زہیر بن قین اور دیگر وفادار اصحاب نے اپنی بہادری کی مثالیں قائم کیں۔
اصحاب کے بعد بنی ہاشم کے جوان میدان میں آئے۔ حضرت علی اکبرؑ، جو رسولِ خداؐ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے، میدان میں گئے اور شہادت پائی۔ حضرت قاسمؑ نے نوجوانی میں جان قربان کی۔ پھر حضرت عباسؑ، جو علمدارِ کربلا تھے، بچوں کے لیے پانی لانے نکلے مگر فرات کے کنارے شہید کر دیے گئے۔ ان کی شہادت نے خیموں میں کہرام برپا کر دیا۔عاشور کی دوپہر ایک عظیم درس بھی دیتی ہے۔ جب نمازِ ظہر کا وقت ہوا تو امام حسینؑ نے جنگ کے شدید ترین حالات میں بھی نماز کو قائم کیا۔ بعض اصحاب نے اپنے جسموں کو امامؑ کے سامنے ڈھال بنا دیا تاکہ نماز ادا ہو سکے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اور مومن کسی حال میں اسے ترک نہیں کرتا۔عصر کے وقت امام حسینؑ تنہا رہ گئے۔ آپؑ نے اپنے عزیزوں، بھائیوں، بیٹوں اور اصحاب کی لاشیں میدان میں دیکھی تھیں، لیکن آپؑ کا عزم کمزور نہ ہوا۔ آپؑ بار بار دشمن کو نصیحت کرتے رہے مگر ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی۔ آخرکار وہ وقت آیا جب امام حسینؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان قربان کر دی۔امام حسینؑ کی شہادت کے بعد کربلا کی فضا غم و اندوہ سے بھر گئی۔ خیموں سے خواتین اور بچوں کی آہ و بکا بلند ہوئی۔ بی بی زینبؑ اور دیگر اہلِ حرم پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ عاشور ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کے راستے میں مشکلات آئیں تو صبر کرنا چاہیے، ظلم کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے، اور دینِ خدا کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امام حسینؑ نے اپنے خون سے اسلام کو زندگی بخشی اور انسانیت کو عزت و آزادی کا راستہ دکھایا۔سلام ہو حسینؑ پر، ان کے باوفا اصحاب پر، اور ان اہلِ بیتؑ پر جنہوں نے کربلا میں حق کی خاطر عظیم قربانیاں پیش کیں۔
column in urdu Ashura and the Spirit of Karbala




