urdu news update Number Four 0

“چار” کا چکر۔ ہماری زندگیوں کا لازمہ. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
برصغیر کے لوگوں کی زندگی میں اگر کسی ہندسے نے مستقل رہائش اختیار کر رکھی ہے تو وہ “چار” ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری زبان، معاشرت، رشتے، محبت، سیاست، نصیحتیں، غصہ، خوشی اور یہاں تک کہ لڑائیاں بھی “چار” کے بغیر ادھوری ہیں۔
ہماری روزمرہ گفتگو میں “چار” اس طرح گھلا ملا ہے جیسے چائے میں چینی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

بچپن سے انسان “چار” کے حصار میں آ جاتا ہے۔
اگر بچہ شرارت کرے تو فوراً کہا جاتا ہے:
“رک جا! ابھی چار تھپڑ لگاؤں گا تو سب بھول جائے گا!”

اگر ذرا دیر سے گھر آئے تو:
“چار دن سے کہاں غائب تھا؟”

حالانکہ بیچارہ صرف چار گلیاں دور کرکٹ کھیل رہا ہوتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی “چار” کی بڑی اہمیت ہے۔
اگر کوئی دو لفظ انگریزی کے بول لے تو لوگ فوراً کہتے ہیں:
“چار کتابیں کیا پڑھ لیں، خود کو پروفیسر سمجھنے لگا ہے!”

اور اگر طالب علم امتحان میں کم نمبر لے آئے تو والدین فرماتے ہیں:
“چار سوال اور صحیح کر لیتا تو کیا بگڑ جاتا؟”

یوں لگتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان صرف “چار سوالوں” کا فاصلہ رہ گیا ہے۔

محبت میں تو “چار” کا الگ ہی جادو ہے۔
محبوب کو دیکھتے ہی کہتے ہیں:
“آنکھیں چار ہو گئیں!”

اور اگر عشق ناکام ہو جائے تو دوست تسلی دیتے ہیں:
“چھوڑ یار! چار دن کی محبت تھی!”

برصغیر میں محبت کم اور “چار دن کی چاندنی” زیادہ ہوتی ہے۔

شادی بیاہ میں بھی “چار” مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
ساس بہو سے ناراض ہو تو فوراً کہتی ہے:
“چار دن کی آئی ہوئی بہو کے ایسے تیور!”

اور اگر بہو جواب دے دے تو:
“آئی تھی سیدھی، اب چار باتیں سنا کر جاتی ہے!”

ادھر بعض مرد حضرات اسلام میں چار شادیوں کی اجازت کا ذکر بڑے شوق سے کرتے ہیں، مگر ایک بیوی کے سامنے ہی ان کی آواز موبائل کے کمزور سگنل جیسی ہو جاتی ہے۔

معاشی حالات میں بھی “چار” ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
جب آدمی بے روزگار ہو تو مشورہ ملتا ہے:
“چار پیسے کماؤ گے تب عقل آئے گی!”

اور جب واقعی چار پیسے آ جائیں تو لوگ کہتے ہیں:
“چار پیسے کیا آ گئے، اوقات ہی بھول گیا!”

گویا ہمارے معاشرے میں عزت، رشتے اور اخلاق سب “چار پیسوں” سے منسلک ہیں۔

سماجی زندگی میں “چار لوگ” سب سے طاقتور مخلوق سمجھے جاتے ہیں۔
ان چار لوگوں نے نہ کبھی الیکشن لڑا، نہ کوئی دفتر کھولا، مگر ان کا خوف ایسا ہے کہ لوگ اپنی پسند کے کپڑے تک نہیں پہن پاتے۔

کوئی ہنسے تو کہا جاتا ہے:
“آہستہ ہنسو، چار لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے؟”

کوئی رونا چاہے تو بھی یہی ڈر:
“چار لوگ کیا سوچیں گے؟”

یعنی ہماری پوری زندگی انہی “چار لوگوں” کے رحم و کرم پر چل رہی ہے۔

دفتر میں اگر کوئی ملازم محنت کر لے تو باس فوراً کہتا ہے:
“چار فائلیں کیا نمٹا لیں، خود کوح کمپنی کا مالک سمجھنے لگا ہے!”

سیاستدان بھی “چار” کے بغیر تقریر مکمل نہیں کرتے۔
ہر الیکشن میں کہتے ہیں:
“بس ہمیں چار سال دے دیں، ملک بدل دیں گے!”

اور چار سال بعد عوام کو صرف ان کے گھر، گاڑیاں اور بینک بیلنس بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کھانے پینے میں بھی “چار” پوری شان سے موجود ہے۔
مہمان اگر کھانا کم کھائے تو میزبان ناراض ہو جاتا ہے:
“صرف چار نوالے کھائے ہیں!”

اور شادی میں اگر کسی نے چار پلیٹ بریانی کھا لی تو خاندان والے اسے مستقبل کا خطرناک داماد سمجھنے لگتے ہیں۔

برصغیر میں “چار” صرف ہندسہ نہیں بلکہ جذبات کی اکائی ہے۔
خوشی ہو تو “چار چاند” لگ جاتے ہیں۔
غم ہو تو “چار آنسو” بہہ جاتے ہیں۔
غصہ آئے تو “چار باتیں” سنا دی جاتی ہیں۔
اور محبت ہو تو “چار قدم” ساتھ چلنے کے وعدے کیے جاتے ہیں۔

بحیثیت مجموعی حقیقت یہی ہے کہ ہماری زندگی “چار دن” کی ہے، مگر ہم اسے بھی “چار لوگوں” کی سوچ میں گزار دیتے ہیں۔
اس لیے کبھی کبھی ان چار لوگوں کو بھول کر اپنے لیے بھی جینا چاہیے۔

اور اگر یہ کالم پڑھ کر آپ کے چہرے پر “چار لمحوں” کے لیے بھی مسکراہٹ آئی ہو تو سمجھ لیجیے کہ تحریر کامیاب ہو گئی۔

urdu news update Number Four

50% LikesVS
50% Dislikes

“چار” کا چکر۔ ہماری زندگیوں کا لازمہ. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں